علی گڑھ:19؍اپریل
( اے ایم این ایس)
لاؤڈ اسپیکر سے ہنومان چالیسہ پڑھنے کا معاملہ اب سیاسی رخ اختیار کر چکاہے۔ علی گڑھ میں جہاں نوجوان آر ایل ڈی نے اس کی مخالفت کی ہے، وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر انجینئر آغا یونس نے مکانات کےچھتوں پر لاؤڈ اسپیکر لگانے کی بات کی ہے، جس کے لیے انتظامیہ سے اجازت لی جائے گی۔
علی گڑھ کے پرانے کانگریس لیڈر انجینئر آغا یونس نے میڈیا نمائندوں کو بتایا مکانوں کی چھتوں پر لاؤڈ اسپیکر لگائے جائیں گے، جس کے لیے انتظامیہ سے اجازت لی جائے گی۔ لاؤڈ سپیکر پر مذہبی مواد چلانے کے بجائے مہنگائی اور بے روزگاری سے متعلق گانے چلائے جائیں گے، اس کے ساتھ عقیدتی گیت بھی نشر کیے جائیں گے۔
کانگریس لیڈر آغا یونس نے کہا کہ ملک اور ریاست کے عوام مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ عوام کی آواز حکومت تک پہنچانے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے لاؤڈ اسپیکر پر مہنگائی اور بے روزگاری سے متعلق گانے نشر کیے جائیں گے، تاکہ عوام کے مسائل حکومت کے کانوں تک پہنچیں۔
راشٹریہ لوک دل کے یووا ریاستی جنرل سکریٹری راجہ بھیا کی قیادت میں اے سی ایم کو ایک میمورنڈم دیا گیا، جس میں کہا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر اور مذہبی مقام پر لاؤڈ اسپیکر یا کسی اور ڈیوائس پر ہنومان چالیسہ، اذان پڑھے گا۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے.. اگر کوئی شہر کے چوک، مسجد کے سامنے یا عوامی مقامات پر لاؤڈ سپیکر استعمال کرتا ہے تو انتظامیہ کو ایکشن لینا چاہیے
علی گڑھ انتظامیہ نے اے بی وی پی کے سابق ریاستی وزیر بلدیو چودھری سی ٹی یو کی درخواست پر شہر کے 21 چوراہوں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہنومان چالیسہ پڑھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اے ڈی ایم سٹی راکیش پٹیل اور ایس پی سٹی کلدیپ سنگھ گناوت نے واضح کیا تھا کہ چوراہوں پر لاؤڈ سپیکر لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بغیر اجازت لاؤڈ سپیکر لگائے گئے تو کارروائی کی جائے گی۔
