کوروناکی چوتھی لہر‘ ریاست میں پھر سے ماسک کا سختی سے لزوم

تازہ خبر تلنگانہ

ماسک کے عدم استعمال پر 1000روپئے جرمانہ عائد کر نے کا انتباہ۔ ڈائرکٹرمحکمہ صحت سرنیواس راؤ

حیدرآباد: 22 اپریل
(زین نیوز)

ریاستی پبلک ہیلتھ ڈائرکٹر (ڈی ایچ) ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے مشورہ دیا ہے کہ کووڈ کے تناظر میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ جاری کردہ رہنما خطوط پر عمل کرنا ضروری ہے۔ کوٹھی میں واقع اپنے دفتر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کووڈ وباء مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے اس لئے اگلے تین مہینوں تک مزید چوکس رہنا چاہئے ۔ فی الوقت یہ وباء ریاست بھر میں قابو ہی میں ہے۔اس کو پھیلاؤ سے روکنے کیلئے ویکسین کے لینے کونا گزیر قرار دیا ۔

تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ پڑوی ریاستوں میں کووڈ کیس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر لوگوں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ میں مثبت کیس کی شرح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ حیدرآباد کے ماسوا کہیں بھی 108 سے زیادہ کیس درج نہیں ہوۓ ۔ گزشتہ چھ ہفتوں سے ریاست میں کووڈ کی وباء زیر کنٹرول ہے۔ چند جگہوں پر چوتھی لہر شروع ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تیسری لہر سے سنبھل رہے ہیں۔چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ ا گزشتہ چار دنوں سے کووڈ کی تفصیلات سے آگا ہی حاصل کررہے ہیں۔ شادیاں اور چھٹیاں زیادہ تر اپریل، مئی اور جون میں ہوا کرتے ہیں۔ حکومت ان تین مہینوں کے دوران جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہتی ہے عوام کو ان پرعمل کرنا چاہیے۔

پڑوی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے کو رونا کیس کے پیش نظر لوگوں کو زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ کووڈ ایکس ای ویر پینٹ کا زیادہ اثر نہیں ہوسکتا۔ دسمبر 2022 تیک کووڈ کے مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ ہرکسی اہلیتی فردکوکووڈ ویکسین ملنی چاہیے۔ پہلے ہی تلنگانہ کی 10 فیصدکو پہلی خوراک دی جا چکی ہے۔ دوسری خوراک بھی سو فیصد افراد نے لی ہے۔

حکومت کی جانب سے عوام کی چوکسی کی وجہ سے اٹھائے گئے اقدامات تیسری لہرمیں کم سے کم نقصان کے ساتھ سامنے آئے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اس وقت کیس بڑھ رہے ہیں۔ ہماری ریاست میں ایسی صورت حال کو روکنے کا واحد طریقہ سینیشن ہے۔ ہم 80 سال سے زیادہ عمر کے تمام سرکاری مراکز صحت پر بوسٹر خوراک دے رہے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے اہل افراد کو ویکسین لگوانی چاہیے۔

ڈاکٹر سر نیواس نے وضاحت کی کہ بوسٹر کی خوراک دوسری خوراک لینے کے 8 ماہ بعد لینی چاہیے۔ڈائرکٹر نے کہا که ریاست میں فی الوقت تو کسی قسم کے تحديدات عائد نہیں ہیں مگر احتیاط برتنی چاہئے۔ کھلے عوامی مقامات پر ماسک کو بہر صورت لگانا ہوگا۔ بصورت دیگر/1000عائد کر نے کا انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا حیدرآباد کی آبادی میں 97 فیصد کوافراد کو اینٹی باڈیز کی شناخت کر لی گئی ہے۔

فی الحال تلنگانہ میں اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے مگر پڑوی ریاستوں میں بڑھتے ہوۓ کیس اور چوتھی وباء کے وناظر میں احتیاط کرنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے ریاست بھر کے عوام سے بلا لحاظ عمر احتیاطی اقدامات کو ملحوظ رکھنے زوردیا۔60 سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے سرکاری دواخانوں میں بوسٹر ڈوز دستیاب ہیں اور 18 سے59 عمر کے افراد کیلئے خانگی مراکز میں ڈوز دستیاب ہے ۔اگر مرکز اجازتدیتا ہے تو سرکاری مراکز میں ہم ویکسین دینے کیلئے تیار ہیں ۔

ڈاکٹر سر نیواس راؤ نے مز ید بتایا کہ کرونا کی شدت کے حامل ریاستوں میں وباء کی شرح ایک فیصد سے زیادہ ہے جبکہ تلنگانہ میں بی تناسب 0.5 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں چوتھی لہر کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے جس کا سیر وسروے میں انکشاف ہوا ہے لیکن احتیاط تو برتنی ہوگی ۔

انہوں نے بتایا کہ کووڈ کی تیسری لہر کے دوران کیس میں زبردست کمی آئی اور شرح اموات میں بھی کافی گراوٹ دیکھی گئی۔ لیکن اچانک کیس اور اموات میں اضافہ نے تشویش میں اضافہ کر دیا۔ چوتھی لہر کے بیچ مرکز حکومت بھی کورونا کی روک تھام کیلئے سخت قدم اٹھانے کی ریاستوں کی تازہ ترین ہدایت دی ہے۔ بالخصوص دہلی یو پی ہریانہ مہاراشٹرا میں بس کی تعداد اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پورے ملک میں 28 کیس درج رجسٹر ہوئےہیں۔