سپریم کورٹ کی سختی کے بعد اتراکھنڈ پولیس متحرک‘کروڑکی میں دھرم سنسد پر پابندی

تازہ خبر قومی

آرگنائزر زیر حراست، دفعہ 144 نافذ

نئی دہلی :27؍اپریل
( اے ایم این ایس)
سپریم کورٹ کی سختی کے بعد پولیس نے آج روڑکی میں ہونے والی دھرم سنسدپر پابندی لگا دی ہے۔ اتراکھنڈ پولیس نے روڑکی میں بھی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ دھرم سنسد کے منتظمین کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے کچھ منتظمین کو حراست میں بھی لیا ہے۔
نگل کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سخت وارننگ دی تھی کہ نفرت انگیز تقاریر نہ روکی گئیں تو ذمہ دار چیف سیکرٹری ہوں گے۔ ہم چیف سیکرٹری کو عدالت میں طلب کریں گے۔ نفرت انگیز تقاریر کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔ نفرت انگیز تقاریر روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ صورتحال کو ریکارڈ پر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر حکام کی طرف سے اٹھائے گئے اصلاحی اقدامات پر حلف نامہ داخل کریں۔ جسٹس اے ایم کھانولکر نے کہا کہ حکومت یقین دہانی کر رہی ہے، لیکن زمین پر نظر نہیں آ رہی ہے۔ سماعت کے دوران کپل سبل نے روڑکی میں منعقد ہونے والی دھرم سنسد پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اتراکھنڈ کے ہریدوار میں دھرم سنسد میں اشتعال انگیز تقریر کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ اس میںمقرر نے مسلمانوں اور ہندو راشٹر کے خلاف تشدد کی بات کر رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے رہنما اور آر ٹی آئی کارکن ساکیت گوکھلے نے 20 دسمبر کو ختم ہونے والی تین روزہ دھرم سنسد کے منتظمین اور مقررین کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔

یٹی نرسمہانند کو ہریدوار میں منعقد دھرم سنسد میں متنازعہ بیانات سے متعلق معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ملزم یتی نرسمہانند کو اتراکھنڈ پولیس نے گرفتار کیا تھا ۔ ہریدوار پولیس نے وسیم رضوی کو بھی گرفتار کیا تھا، جو دو دن قبل مذہب تبدیل کرکے جتیندر تیاگی بن گئے تھے، کو دھرم سنسد کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم یتی نرسمہانند کی گرفتاری خواتین پر نازیبا تبصروں سے متعلق ایک اور معاملے میں کی گئی ہے۔