شدید پتھراؤ۔ فائرنگ‘ پولیس فورس تعینات۔ امن بحال بھگونت مان
پٹیالہ: 29؍اپریل
(اے ایم این ایس)
پنجاب کے پٹیالہ میں آج خالصتان مخالف احتجاجی مارچ کے دوران دو گروپوں میں تصادم کے بعد کشیدہ ہیں۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ ان جھڑپوں میں کم از کم دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہےپنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے واقعہ کو افسوسناک قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت کسی کو بھی ریاست میں انتشار پیدا نہیں کرنے دے گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’پٹیالہ میں جھڑپوں کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ میں نے ڈی جی پی (پولیس چیف) سے بات کی، علاقہ میں امن بحال ہو گیا ہے۔ ہم حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی کو ریاست میں خلل پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ پنجاب کا امن اور ہم آہنگی” انتہائی اہمیت کا حامل ہے
پنجاب کے پٹیالہ میں جمعہ کو جلوس پر ہنگامہ ہوا اور پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ دونوں دھڑے آمنے سامنے آگئے۔ تشدد کے دوران دونوں طرف سے پتھراؤ کیا گیا
ٹی وی رپورٹس کے مطابق یہاں کالی ماتا مندر کے قریب دو گروپوں میں تصادم کا واقعہ پیش آیا ہےجہاں یہاں تلواریں بھی لہرائی گئیں۔ جھڑپ کے بعد علاقہ میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ شیوسینا کی طرف سے جمعہ کو پٹیالہ کے آریہ سماج چوک میں ایک پروگرام منعقد کیا جانا تھا۔ یہ لوگ خالصتان کا پتلا جلانے کے لیے مظاہرے کی تیاری کر رہے تھے۔ جس وقت تیاریاں جاری تھیں، ماحول کشیدہ ہوگیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خالصتانی حامی وہاں پہنچ گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ اس کے بعد ہنگامہ شروع ہو گیا۔
جھڑپ کے بعد پولیس نے دونوں فریقین کو سمجھایا۔ لیکن اس کے بعد بھی خالصتانی حامی تلواریں لے کر شری کالی ماتا مندر کے اندر پہنچ گئے۔ اس دوران ہندو رہنماؤں اور خالصتانی حامیوں کے درمیان پتھراؤ شروع ہو گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک ہندو رہنما پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا گیا۔ جھڑپ کے دوران ایس ایچ او کے ہاتھ پر تلوار بھی لگی
#WATCH | Punjab: A clash broke out between two groups near Kali Devi Mandir in Patiala today.
Police personnel deployed at the spot to maintain law and order situation. pic.twitter.com/yZv2vfAiT6
— ANI (@ANI) April 29, 2022
دریں اثناء وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان نے میڈیا سے بات چیت کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ علاقہ میں امن بحال ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صورتحال پر سنجیدگی سے نظر رکھے ہوئے ہیں، کسی کو بھی ریاست میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پنجاب میں امن اور ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔
خبر کے مطابق پٹیالہ میں جمعہ کو جلوس نکالنے پر ہنگامہ ہوا۔ اس دوران شیوسینکوں اور خالصتانی سکھ تنظیموں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ دونوں طرف سے شدید پتھراؤ ہوا۔ ہنگامہ آرائی کو سنبھالنے کے لیے پولیس پہنچی اور دونوں فریقین کو روکنے کے لیے فائرنگ کی۔ اسی دوران تلوار لگنے سے ایک پولس اہلکار کے زخمی ہونے کی خبر ہے
علاقہ کے ڈی ایس پی نے اطلاع دی ہے کہ امن و امان کے مسئلہ کے پیش نظر پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ ہم شیو سینا (دو گروپوں میں سے ایک) کے سربراہ ہریش سنگلا سے بات کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس مارچ کی اجازت نہیں ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے بھی مکینوں سے امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے، دونوں گروپوں سے اپنے "تنازعہ یا غلط فہمی” کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی درخواست کی ہے۔
اس گروپ کی طرف سے نکالے گئے جلوس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں جو خود کو شیو سینا (بال ٹھاکرے) کے طور پر جانی جاتی ہے، ایک سکھ گروپ سے آمنے سامنے آیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ خالصتان کا حامی ہے۔دونوں گروپوں کے ارکان نے تلواریں بھی لہرائیں اور ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔