راجستھان کے بھیلواڑہ میں نوجوان کے قتل بعد دوبارہ کشیدگی

تازہ خبر قومی

بھیلواڑہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل، سیکوریٹی فورسز تعینات، انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹے بند

نئی دہلی :11؍مئی
(زیڈ ایم این ایس)
راجستھان کے بھیلواڑہ میں دو برادریوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک برادری کے نوجوان کو دوسری برادری کے لوگوں نے مبینہ طور پر چاقو مار کر ہلاک کرنے کے بعد کشیدگی پھیل گئی ہے جس کے بعد دونوں برادریوں کے درمیان تنازعہ پھر بڑھ گیا ہے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی رات کوتوالی تھانے کی حدود میں پیش آیا۔اس کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے علاقہ کی انٹرنیٹ خدمات 24 گھنٹے کے لیے بند کر دی ہیں۔ 12 مئی بروز جمعرات صبح 6 بجے تک انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی جھگڑا پیسوں پر تھا۔ جس کے بعد نوجوان کو قتل کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ایک برادری کے لوگوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعہ کے خلاف بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور ہندو جاگرن منچ نے بھیلواڑہ میں آج یعنی بدھ کو بند کا اعلان کیا ہے ۔ بند کے اعلان کے بعد انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔

بھیلواڑہ میں بگڑتے ماحول کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ علاقہ کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ہر جگہ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس گشت کررہی ہے۔ پولیس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے احتیاط برت رہی ہے کہ معاشرے میں تشدد نہ پھیلے۔ اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے علاقہ میں اضافی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے۔

بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور ہندو جاگرن منچ نے نوجوان کے چاقو سے قتل کے خلاف احتجاج میں بھیلواڑہ بند کا اعلان کیا ہے۔ وشو ہندو پریشد نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، وہ مقتول کی لاش نہیں اٹھائیں گے۔ وہ قتل کے خلاف احتجاج میں 50 لاکھ روپے معاوضہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہےکہ اس سے قبل 4 مئی کو بھی بھیلواڑہ میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ بھیلواڑہ کے سنگانیر علاقہ میں ایک ہی برادری کے دو گروپوں کے درمیان ہنگامہ ہوا۔ دونوں گروپوں میں شدید لڑائی ہوئی۔ موٹر سائیکل کو آگ لگا دی گئی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس فورس کو تعینات کرنا پڑا۔

راجستھان میں گزشتہ دو مہینوں سے تشدد کے مختلف واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔3 مئی کو عید سے چند گھنٹے قبل چیف منسٹر اشوک گہلوت کے آبائی شہر جودھ پور میں کشیدگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، حکام نے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کرنے اور شہر کے 10 علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے پر مجبور کیا۔