مجلس اور ٹی آر ایس جڑواں جماعتیں کے سی آر پرقتل کی سیاست کرنے کا الزام
حیدرآباد۔ 14 مئی
(زین نیوز)
مرکزی وزیر داخلہ مسٹرامیت شاہ نے کہا کہ صدر ریاستی مسٹر بنڈی سنجے کی پر جاسنگرام پد یاترا عہدوں کے حصول کے لئے نہیں بلکہ نظام شاہوں کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔ تلنگانہ کو آج کے رضا کاروں سے نجات دلانے کے لئے ہی یہ یاترا شروع کی گئی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ اپنی تقریر کو جارحانہ انداز دیتے ہوۓ ٹی آرایس حکومت کو نظام حکومت سے تشبیہ دیتے ہوۓ اکثریتی طبقہ افراد کو اپنی پارٹی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی ۔
انہوں نے کہا کہ بنڈی سنجے 5 4 ڈگری درجہ حرارت کے باوجود 600 کیلومیٹر کا پیدل سفر طئے کیا۔ ان کی یاترا عہدوں واقتدار کے لئے نہیں بلکہ کے سی آر حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے کی گئی جو آ صف جاہی حکمرانی کے نقش پر قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کے سی آر کا وعدہ پانی فنڈس
اور روز گار کو ریاست میں عملی جامہ پہنایا بھی گیا ہے ؟ جس کا چیف منسٹر کو جواب دینا ہوگا۔ مسٹر امیت شاہ پر جا سنگرام یاترا کے دوسرے مرحلہ کی تکمیل پر تکوگوڑہ ضلع رنگاریڈی میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام
سے مخاطب کر رہے تھے ۔
انہوں نے اس موقع پرٹی آرایس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ریاست کی بدعنوان حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے با ہم متحد کمر بستہ ہو جائیں۔مسٹر امیت شاہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اتنی بدعنوان حکومت کو نہیں دیکھا جو آج تلنگانہ میں کے سی آر کی زیر قیادت دیکھنے کومل رہی ہے ۔مرکزی وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ ریاست میں ڈبل بیڈروم مکانات کتنے افراد کو دیئے گئے ہیں اس کے اعداد و شمار پیش کر یں۔
وزیر اعظم آواز یوجنا پر ریاست میں عدم عمل آوری کی شکایت کی اور کہا کہ ایک لاکھ روپے قرض معافی کے وعدہ کو بھی فراموش کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے چاروں سمت چارسو پر اسپیشلٹی ہاسپٹلس کی تعمیر کے نام پر عوام کو ئی آرایں حکومت گمراہ کر رہی ہے۔ایک ایسے چیف منسٹر جنہیں عثمانی اور گاندھی جیسے بڑے دواخانوں کو دیکھنے کی اور اس کو سدھارنے کی فرصت نہیں وہ کس منہ سے نئے دواخانے تعمیر کریں گے۔
انہوں نے مرکزی حکومت کی اسکیمات کے نام اور تصاویر کو بدلتے ہوۓ عمل کرنے کا الزام لگایا اور بتایا کہ
کہ دوسری جماعتوں کے قائدین کے تلنگانہ دورہ پر کیا کے سی آر کے خاندان کی اجازت لینی ضروری ہے جیسا کہ وہ حالیہ دنوں میں بیانات کے ذریعہ تلنگانہ کو اپنی جاگیر بتانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سی ریاست کے سی آر کے خاندان کی نہیں بلکہ ہزاروں تو جوانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر کشمن نے کہا کہ امیت شاہ کے دورہ تلنگانہ سے پرگتی مجون میں بھونچال آ گئی ہے۔انہوں نے ٹی آرایس کو تلنگانہ رضا کارسمیتی سے تعبیر کیا اور کہا کہ امیت شاہ ٹی آرالیس سے عوام کو نجات دلانا چاہتے ہیں۔
بدعنوانی اور نااہلیت میں کے سی آر ملک کے سرفہرست چیف منسٹر ہیں ۔مسٹر راجہ سنگھ نے کہا کہ عوام کا جوش وخروش دیکھنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کے سی آر کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے اور انہیں یقین ہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی برسر اقتدار آۓ گی۔
کے سی آر نے تلنگانہ کو سنہری ریاست بنانے کی دوہائی دیتے ہوۓ اسے بدعنوانی میں تبدیل کیا۔قومی نائب صدر مسز ڈی کے ارونا نے کہا کہ کے سی آر بنگاروں تلنگانہ کے نام پر ریاست کو تو نہیں بلکہ اپنے خاندان کو فائدہ پہنچایا۔ مسٹر ایٹالہ راجندر نے دعوی کیا کہ تلنگانہ ملک کی سب سے بڑی مقروض ریاست بن گئی ہے۔سابق میں کے سی آر پر عوام کا اعتماد ہوا کرتا تھا لیکن 8 سال کے دوران ان کے ہاتوں سے عوام بیزار آ چکی ہے اور جتنا جلد ہو سکے انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے بے چین ہے ۔
انہوں نے پیش قیاسی کی کہ ریاست میں اگر عام انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو حضور آباد کے نتیجہ دہرایا جاۓ گا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے مقامی نوجوانوں کو روز گار نہیں مل رہا ہے بلکہ دوسری ریاستوں کے نوجوان یہاں آ کر ملازمتیں کر رہے ہیں ۔