مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرےکا ریالی سے خطاب
ممبئی : 22؍مئی
(زیڈ ایم این ایس)
مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ اور آبادی پر قابو پانے کے لیے ایک قانون بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔واضح رہےکہ ملک میں یکساں سول کوڈ اور آبادی پر کنٹرول سے متعلق قانون بنانے کا مطالبہ ایک عرصہ سے اٹھ رہا ہے۔ بی جے پی رہنما قانون بنانے کے لیے سڑک سے لے کر گھر گھر تک اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
مرکزی حکومت نے بڑھتی ہوئی مانگ پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاہم مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پہلے ہی یکساں سول کوڈ اور آبادی پر کنٹرول سے متعلق قانون بنانے کا اشارہ دیا ہے ۔ شاہ نے اتراکھنڈ انتخابات سے قبل ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ اور آبادی پر کنٹرول کے بارے میں جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔
Raj Thackeray urges PM Modi to bring Uniform Civil Code, population control law
Read @ANI Story | https://t.co/46pRIkCMv9#PMModi #RajThackeray #Maharashtra #UniformCivilCode pic.twitter.com/RC0CRaS6Rf
— ANI Digital (@ani_digital) May 22, 2022
یکساں سول کوڈ کا ذکر آئین کے آرٹیکل 44 میں ہے۔ یونیفارم سول کوڈ ایکٹ کے تحت ہندوستان میں رہنے والے ہر شہری کے لیے ایک مشترکہ قانون ہوگا۔ یکساں سول کوڈ ایکٹ میں شادی، طلاق اور جائیداد کی تقسیم میں تمام مذاہب کے لیے یکساں قانون لاگو ہوگا۔ جس کا اطلاق تمام مذاہب پر یکساں ہوگا۔ اس وقت ملک میں مسلمانوں، عیسائیوں اور پارسیوں کا پرسنل لاء لاگو ہے۔ یکساں سول کوڈ ایکٹ پر طویل عرصہ سے بحث چل رہی ہے۔ لیکن اس پر آج تک عمل نہیں ہو سکا
تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لیے آبادی پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ پاپولیشن کنٹرول ایکٹ کے تحت ایک جوڑے کے لیے بچوں کی تعداد کی حد مقرر ہے۔ اس پر قانون بنانے کے لیے بی جے پی نے راجیہ سبھا میں پرائیویٹ ممبر بل بھی پیش کیا تھا۔ اس بل میں دو یا دو سے زائد بچے ہونے پر والدین کو سرکاری سہولیات سے محروم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ آئین کی 42ویں ترمیم میں ریاست اور مرکز دونوں کو آبادی کنٹرول سے متعلق قانون بنانے کا حق حاصل ہوا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔