منشیات سے نئی نسل کی زندگی اور مستقبل کو بچائیے

تازہ خبر قومی

عالمی یوم منشیات کے موقع پر مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کا اظہار خیال

دیوبند، 31؍ مئی
(رضوان سلمانی)
عالمی یوم منشیات کے موقع پر معروف ادیب اور دارالعلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے جاری بیان میں کہا کہ منشیات کا استعمال انسانی زندگی کے لئے زہر ہے۔ یہ نہ صرف آدمی کو کھوکھلا کرتی ہے بلکہ اس کے حواس پر بھی حملہ آور ہوتی ہے، جو لوگ بھی منشیات کا شکار ہیں وہ زندگی سے مایوس ہوتے چلے جاتے ہیں، زندہ رہنے کا کوئی جذبہ اور امنگ ان میں نظر نہیں آتی۔ ایسا شخص معاشرے اور سماج سے کٹ کر رہ جاتا ہے، نئی نسل کہ جس کی ہر طرح حفاظت کرنی چاہئے وہ ہاتھوں سے نکلتی چلی جارہی ہے اور منشیات کا شکار ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منشیات زہر ہے جو آہستہ آہستہ آدمی کے جسم میں اترتا رہتا ہے ، اسے بے حیثیت بھی بناتا ہے اور بھیانک موت کے دروازے پر بھی پہنچادیتا ہے۔ تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں کو منشیات سے محفوظ رکھیں اور اپنے نوجوانوں کی نگرانی کریں کہ ان کے قدم نہ ڈگمگائیں اور منشیات کے عادی نہ ہوجائیں۔ پوری دنیا منشیاب کی گرفت میں ہے اور اس نے خصوصاً نئی نسل کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے ، یہ نہ صرف خطرناک بات ہے بلکہ دن بدن اس سے تشویش بھی بڑھتی چلی جارہی ہے کہ نئی نسل کا مستقبل کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور ہوٹلوں ، کلبوں اور ایسے عوامی مقامات پر جہاں ان منشیات کا زور ہے اور یہ آسانی کے ساتھ فراہم ہورہے ہیں ، حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ نئی نسل کو تباہ ہونے سے بچائیں اور ان لوگوں کو قانون کی گرفت میں لے جو منشیات کے کاروبار کو چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق دنیا کے تمام بالغ افراد کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ منشیات کی لعنت میں گرفتار ہے ، ان میں 27فیصد مرد اور 13فیصد خواتین ایسی ہیں جو باقاعدہ منشیات کی شکار ہیں۔

دنیا بھر میں امراض قلب اور سانس کی تکالیف جیسی بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات میں سے 8فیصد کی وجہ منشیات کا استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہر سال 31مئی تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے طو رپر منایا جاتا ہے اور یہ دن 1987سے منایا جارہا ہے، ہر سال لاکھوں افراد کینسر میں مبتلا ہورہے ہیں اور ان میں سے اکثر مریض صرف تمباکو کی وجہ سے اس جان لیوا مرض کا شکار ہورہے ہیں، ہمارے چاروں طرف بے شمار کینسر کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ قرآن کریم بھی منشیات کے استعمال کو جان کے نقصان سے تعبیر کرتا ہے۔

جو لوگ منشیات میں مبتلا ہیں وہ اپنی جانوں کے دشمن ہیں اور اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان کررہے ہیں جو اسلام کی نظر میں انتہائی مذموم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو منشیات سے بچانے میں والدین کا کردار سب سے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، پھر گھر کے دیگر افراد اور اساتذہ کا رول بھی اس میں انتہائی کارآمد اور فائدہ مند ہوگا ۔ والدین اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور فکرمندی کے ساتھ ان کا خیال کریں کہ ان کے بچوں کا کس طرح کے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے اور ان کے حلقہ احباب میں کوئی ایسا بچہ تو نہیں جو نشے میں لت میں مبتلا ہو، اس کی صحبت سے اپنے بچوں کو بچائیں اور ان کی زندگی اور مستقبل کو محفوظ کریں۔