ولی وقاص کی رہائش گاہ پر شعری نشست کا آغاز
دیوبند، 3؍ جون
(رضوان سلمانی)
کل شب ایک شعری نشست کا انعقاد شاعر ولی وقاص کے مکان پر ہوا، جس کی صدارت ماسٹر شمیم کرتپوری نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر کاشف اختر نے انجام دیے۔ نشست کا آغاز زہیر احمد زہیر کی نعت پاک سے ہوا،پسندیدہ اشعار۔
مرے درد دل کی دوا کوئی کر دے٭ ہوا درد دل، لا دوا لمحہ لمحہ (ماسٹر شمیم)
روز اک خواب دفن کرتا ہوں٭ دل کو مدفن بنا لیا میں نے (زہیر احمد زہیر)
عکس تیرا مجھے شہر دل میں ملا٭ ہر جگہ ہر جگہ ہر جگہ ہر جگہ (ڈاکٹر کاشف اختر)
زخم جب ہوتے ہیں ناسور، غزل ہوتی ہے٭ درد جب حد سے گزرتا ہے قلم کُھلتے ہیں (ولی وقاص)
کون کہتا ہے زمیں یا آسماں رہ جائے گا٭ آگ ایسی لگ رہی ہے بس دھواں رہ جائے گا (وسیم شہپر)
مدینہ سے تشریف لائے مہمان خصوصی جناب امین الاہی کے علاوہ حکیم سید محمد احمد، مفتی عمیر عیاض قاسمی ، نبیل مسعودی، صائم عثمانی، ولی عثمانی
وغیرہ موجود رہے۔آخر میں نشست کے کنوینر ولی وقاص نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
