انسانی بقا اورماحولیات کے تحفظ کے لئے شجرکاری ضروری

تازہ خبر قومی

عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر مفتی وقاص ہاشمی کا اظہار خیال

دیوبند، 5؍ جون
(رضوان سلمانی)
عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر ادارہ خدمت خلق کے چیئرمین اور مولانا حسن الہاشمیؒ کے جانشین مفتی وقاص ہاشمی نے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام کی آمد سے پہلے عرب معاشرہ جہاں بے شمار سماجی واخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا وہیں جسمانی وماحولیاتی گندگی بھی اس سماج کا لازمی حصہ تھیں۔ عربوں کی غیرمہذب قبائلی زندگی میں صفائی اور نفاست کا کوئی اہتمام نہ تھا، طہارت ونظافت سے بے اعتنائی برتی جاتی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کائنات کا حسن وجمال، اس کی قدرتی وفطری آب وہوا میں ہے۔ یہ قدرت کا عجیب نظام ہے کہ اس کائنات میں جہاں ماحول کو آلودہ کرنے والے غیرقدرتی وسائل پائے جاتے ہیں وہیں رب کائنات نے ماحولیاتی کثافت کو جذب کرنے والے اہم ترین ذرائع بھی پیدا کررکھے ہیں۔

زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ساری غلاظتوں کو دفن کرلیتی ہے، مرنے والے ا نسان اور دیگر جانور زمین میں دفن نہ کئے جائیں تو سارا ماحول متعفن ہوکر رہ جائے ۔ ان ساری قدرتی ذرائع کے باوجود اس وقت ماحولیاتی کثافت پوری دنیا کے لئے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے ، جدید طرز زندگی کے سبب ہر گزرتے دن کے ساتھ آلودگی میں اضافہ ہوتا ہی جارہا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی اس وقت ایک عالم گیر مسئلہ بن چکی ہے ، قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرنے والے دین اسلام نے جہاں موجودہ دور کے دیگر مسائل کا حل پیش کیا ہے وہیں اس کی تعلیمات میں ماحولیاتی آلودگی کا بھی حل موجود ہے۔ انہو ںنے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کے مختلف اسباب وذرائع میں ایک اہم ذریعہ درخت اور درختوں سے بھرے جنگلات ہیں،

جن کی موجودگی صاف وشفاف فضا فراہم کرنے اور ماحول کو پرلطف وپاکیزہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ روئے زمین پر جابجا پھیلے درخت انسان کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہے، درخت نہ صرف ہمیں سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔

مفتی وقاص ہاشمی نے کہا کہ درخت لگانے کے عمل کو شجر کاری کہا جاتا ہے ، شجر کاری نہ صرف سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے بلکہ ماحول کو خوبصورت اور دلکش بنانے میں بھی ان کا قابل ذکر حصہ ہے۔ شجرکاری ہر دور میں تحفظ ماحولیات کے لئے کلیدی کردار کی حامل رہی ہے او رہمیشہ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پر شجر کاری کی ترغیب دی گئی ہے۔

مفتی وقاص ہاشمی نے کہا کہ اتنا ہی نہیں کہ عالمی ادارہ صحت نے فضائے آلودگی کو دنیا میں صحت عامہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے ،ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ آلودگی دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بیرون فضائے آلودگی چین اور بھارت جیسے ممالک کے لئے بڑا مسئلہ ہے جہاں تیزی سے صنعت کاری ہورہی ہے ۔

ماحولیات اورنباتات کے ماہرین کے مطابق ایک اوسط سائز کا درخت دو خاندانوں سے خارج شدہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو جذب کرکے ہوا میں کافی آکسیجن پیدا کردیتا ہے ۔ مفتی وقاص ہاشمی نے کہا کہ ملک میں بڑھتی آلودگی اور موسمی تبدیلیوں سے ہم سب بخوبی واقف ہیں،شجر کاری ملک کے لئے وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے، زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو روکنے کے لئے بارشوں کی بہت ضرورت ہے، جس کے لئے درختوں کا ہونا لازم وضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد ملک کے حالات اور آکسیجن کی کمی کے واقعات کے تناظر میں یہ بات ضروری ہوچکی ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں میں درختوں کی اہمیت وافادیت سے متعلق شعور پیدا کیا جائے ، ان کو آنے والے خطرات سے آگاہ کیا جائے اور شجر کاری کے حوالہ سے سالانہ وقتی اور عارضی مہم چلانے کے بجائے مستقل اور دائمی اقدامات کئے جائیں تاکہ ملک کا مستقبل تابناک ہو اور ماحولیات کا تحفظ ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو یہ عہد کرلینا چاہئے کہ وہ کم سے کم ایک درخت ضرور لگائیں۔