غلامانِ مصفطیﷺ کا شدید احتجاج۔ ایڈیشنل کلکٹرکو یاداشت پیش
جگتیال:16؍جون
(عمران زین)
صدرمرکزی کمیٹی امارت ملت اسلامیہ جگتیال محمد عبدالباری کی قیادت میں شیطان صفت گستاخ رسول ﷺنپور شرما اور نوین جندال کے خلاف جامع مسجد کے قریب مسلمانوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے بڑے پیمانے احتجاج کرتے ہوئے منظم کرتے ہوئےگرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
اس موقع پر مختلف قائدین نے مخاطب کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما اور بی جے پی قائد نوین جندال کی گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے انھیں سخت سے سخت سزا دی جائے صرف پارٹی سے معطلی ناکافی ہے ۔ کیونکہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن ناموس رسالت ﷺ کی توہین برداشت نہیں کرسکتےکیونکہ اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کی خاطرہی کل کائنات کو وجود میں لایا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے آخری نبی ہیں۔ وہ دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہمارے جانوں اور ہمارے ماں باپ سے اہم ہیں۔ ان کے لئے ہماری جان قربان کرنا ہوگا تو بھی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔انہوں نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ دنیا کو روشنی دی۔ اوواحد خدا کی بندگی کا حکم دیااپنے خالق سے بچھڑی ہوی انسانیت کو خالق حقیقی سے ملنے کا سیدھا راستہ دکھلایا۔
اخلاق حسنہ کا عظیم درس دیا عرب عجم امیر غریب حاکم ومحکوم کے فرق کومٹایا۔اور یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ اکرام کے قابل سب سے زیادہ متقی ہوگا۔ایسی عظیم المرتبت ذات گرامی کی توہین نا قابل برداشت ہے۔جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں پہچانا اس نے اپنی آخرت برباد کرلی ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے نپور شرما ‘ نوین جندال کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی ہے تو پھر شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑئیگا۔
قبل ازیں صدر مرکزی کمیٹی محمد عبدالباری کی قیادت میں ایک وفدجس میں محمد امین الحسن ریاستی ٹی آریس قائد‘ محمد سرا ج الدین منصور سابق نائب صدر نشین بلدیہ‘ سیدسجیل‘ محمد ذوالفقار احمد سابق کوآپشن ممبر‘ محمد خالد خان‘ محمد یونس ندیم‘ پٹواری شکیل‘ محمد حبیب الدین‘ مفتی محمد صدیق‘ ڈاکٹرمحمد ایوب‘ خواجہ سمیع الدین اظہر‘ نے ایک تحریری یاداشت ایڈیشنل کلکٹر مجالس مقامی مسز بی ایس لتا کو پیش کی گئی۔
مسلمانان جگتیال کی جانب سے کیے گئے احتجاج میں علماءو حفاط‘ مسلم کونسلرس‘ تمام سیاسی پارٹیوں سے وابستہ قائدین‘ صدور مساجد ‘ کے علاوہ سینکڑوں کی تعدا د میں نے حصہ لیا