KTR

حیدرآباد کے نام کی تبدیلی کے شوشہ پر کے ٹی آر کا سخت رد عمل

تازہ خبر تلنگانہ

پہلے احمدآباد کا نام بدل کر اڈانی آباد سے موسوم کرنے کا چیلنج‘
جملہ باز آخر کون ہے؟ٹویٹ پرردعمل کے سلسلہ کا آغاز

حیدرآباد : 4؍جولائی
(زین نیوز)
بی جے پی کے قومی عاملہ اجلاس میں تلنگانہ میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے پرحیدرآباد کے نام کی تبدیلی سے متعلق تبصروں پر ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے ٹی آر کا تنقیدی رد عمل سامنے آیاہے۔انہوں نے ٹویٹرہینڈل پر اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعہ بی جے پی کوہدف ملامت بنایااورکہاکہ آپ لوگ پہلے احمد آباد کا نام بدل کر اڈانی آبادکیوں نہیں کرتے؟ ویسے اصل یہ جملہ جیوی(جملہ باز) کون ہے؟ا ن کے اس ردعمل بعد ٹویٹر پران کا یہ ٹویٹ تیزی سے وائرل ہورہا ہے اور بیشتر ٹویٹرصارفین کے مختلف ٹویٹس کا سلسلہ چل پڑا۔

ہمارے قائدین کو یہ ہم یہ بتاناضروری سمجھتے ہیں کہ دو دن حیدرآباد میں بی جے پی کے قومی عاملہ کے اجلاس اور جلسہ عام میںوزیر اعظم نریندر مودی بشمول بیشتر مرکزی وزاء ‘ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کے وزرائے اعلی ور قائدین نے کو مخاطب کیااس دوران چند ایک سنگی مقررین نے دوران تقرراس بات کا اعاد ہ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تلنگانہ میں برسراقتدار آتے ہی حیدرآباد کا نام ایک جنبش قلم بدل کر بھاگیہ نگرسے موسوم کیا جائے گا۔

مرکزی وزیر مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ اگر بی جے پی 2024 کے اسمبلی انتخابات کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر رکھ دیا جائے گا جس کا ان کی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے۔

مرکزی وزیر روی شنکر پرساد اور جھارکھنڈکے سابق وزیر اعلیٰ رگھو برداس نے بھی تائید کرتے ہوئے کہاکہ حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر رکھا جائے گا۔ریاستی صدر تلنگانہ بی جے پی مسٹر بنڈی سنجے نے بھی ماضی میںاپنے خطاب میں متعدد مرتبہ حیدرآباد کا نام کا شوشہ چھوڑچکے ہیں۔بی جے پی کے مرکزی وزراء اور قائدین کی جانب سے یہ اعلان غیر زعفرانی پارٹیوں‘ سیکولر قائدین اورشہریوں موضوع بحث بناہو اہا ہے۔

واضح رہے کہ مرکزی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار میآنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے قیادت میں ملک کے چند ایک شہروں، قصبوں اور گلیوں کے مسلم نام بدل دئے گئے ہیں ان مسلم ناموں کو تبدیل کرتے ہوئے بتدریج ہندو ناموں سے موسوم کیا گیاہے۔ بھگوا جماعت ایک مخصوص طبقہ کے ناموں سے بغض وعناد کا یہ سلسلہ دہلی شہر میں اورنگ زیب روڈ سے شروع ہوا، الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج اور فیض آباد کا نام ایودھیا سے موسوم کردیا گیا۔

مہاراشٹرا میں ادھوٹھاکرے حکومت نے بھی جاتے جاتے اورنگ آباد کو شمباجی نگر اور عثمان آباد کو دھارشیوا میں تبدیل کر دیا ہے۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ اس ترتیب سے حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر کر دیں گے۔

قارئین ان کی یہ شدت پسند جنونی حرکت سے سب کا ساتھ‘ سب کا وکاس اور سو کا وشواس کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے اس جس کانعرہ مانئے مودی نے نہ صرف دیا بلکہ دنیا کو بے وقوف بنا نے کیلئے اس کا خوب ڈھونڈورا پیٹتے نہیں ۔