مظفر نگر ضلع کی عدالت کا تاریخی فیصلہ
مظفر نگر: 5؍جولائی
(زین نیوز)
اترپردیش کے مظفر نگر ضلع کی ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 8افراد کے اجتماعی قتل کے کیس میں 16افراد کو عمر قید سزاء سناتے ہوئے تاریخ ساز فیصلہ سنایا۔ فاضل جج نے تمام مجرمان کو سزاء کے ساتھ 60زار روپئے جرمانہ بھی عائد کیا۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ11؍جولائی 2011کا تھا ۔
جو اترپردیش کے مظفر نگر کی ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں زیر دوراں تھا۔ 2011 میں گنے کی کمیٹی کے سابق چیئرمین ادے ویر سنگھ اور ان کے خاندان کے تین معصوم بچوں سمیت آٹھ افراد کو اجتماعی طور پر قتل کر دیا گیا تھامقدمہ کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (POCSO ایکٹ) کورٹ نمبر-2 میں ہوئی۔
واضح رہے کہ کار اور ٹرک کے درمیان تصادم کے میں ایک خاندان کے 8؍افرادافراد بشمول تین معصوم بچوں کی کی موت واقع ہوگئی تھی پولیس کی جانب سے جب مقدمہ درج کرکے تحقیقات کی گئیں تو کار اور ٹرک کے حادثہ میں تفتیش شروع ہوئی تو سازش کا انکشاف ہوا یہ حادثہ
11 جولائی 2011 کو روہانہ مارگ پر بڈکلی موڑ پر روہانا پر پیش آیا۔ ۔
مدعی براجویر سنگھ نے وکرانت تیاگی عرف وکی، اس کی بیوی مینو تیاگی سمیت 20 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جو چارتھوال کے سابق بلاک چیف تھے۔ سال 2011 میں اس واقعہ میں متوفی ادے ویر سنگھ کے بھائی برج ویر سنگھ نے 20 نامزد لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا
اس معاملے میں مغربی اتر پردیش میں بدنام زمانہ سابق بلاک سربراہ وکی تیاگی کی اہلیہ مینو تیاگی سمیت 16 لوگوں کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، ساتھ ہی 60ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی۔
جبکہ مقدمہ کے دو ملزمان بعد میں انتقال کر گئے اور ایک کو غیر بیمہ قرار دیا گیا۔ اس معاملے میں کل 19 لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا۔ اس کیس میں کل 37 گواہوں کو معزز عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسے درست سمجھتے ہوئے عدالت نے کُل 16 لوگوں کو سزا سنائی ہے۔