منچیریال اور کمرم بھیم آصف آباداوپن کاسٹ پروجیکٹوں پر کوئلے کی پیداوار متاثر
پل اور سڑکیں زیر آب دیہی علاقوں کا رابطہ منقطع ۔عوام کو مشکلات کا سامنا
عادل آباد:12؍جولائی
(زین نیوز)
کمرم بھیم آصف آباد، عادل آباد، نرمل اور منچیریال اضلاع کے کئی حصوں میں منگل کو چوتھے دن بھی موسلادھار بارش جاری رہی، جس سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی جس سے پل اور سڑکیں زیر آب آکر دیہی علاقوں کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ منڈل مراکز اور ضلع ہیڈکوارٹر کی طرف جانے والی سڑکیں مسلسل بارش کی وجہ سے تباہ ہوگئیں۔
عادل آباد شہر میں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آرہاہے نچلے علاقہ مکمل زیرآب ہوتے جارہے ہیں کئی مواضعات میں پانی داخل ہوچکا ہے کئی شاہرائیں مسدود ہوتی جارہی ہے۔ضلع میں واقع پروجیکٹس کی سطح آب میں کافی اضافہ کے سبب دروازوں کو کھول کر پانی کو اخراج کیا جارہا ہے۔سات نالا پروجیکٹ،چناکا پروجیکٹ،گنگا ندی اور کنٹالا واٹر فال اور اسی طرح پوچیرا واٹر فالس ابل پڑے ہیں۔
ایسے میں ضلع کلکٹر سکتا پٹنایک اور ضلع ایس پی ادے کمار ریڈی،ارکان اسمبلی جوگورامنا،راتھوڑ باپو راؤ،ضلع پریشد چیرمین جناردھن راتھوڑ،میونسپل چیرمین جوگوپریمندر اور وائس چیرمین ظہیر رمضانی مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے چوکسی اختیار کیے ہوئے ہیں اور مختلف محکموں کے افسران کو عوام کے لئے دستیاب رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔مسلسل بارش کے سبب عوام کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔
اس دوران محکمہ پولیس پوری طرح متحرک ہیں اور مواضعات کادورہ کرتے ہوئے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔لوگ گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے بھی عوام کو گھروں میں رہنے اور شدید ضرورت کے وقت ہی باہر نکلنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔کلکٹریٹ اور پولیس ہیڈکوارٹر میں ایمرجنسی کے موقع ربط کرتے ہوئے مدد حاصل کرنے کے لئے کنٹرول کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا گیا ہے اور شدید ایمرجنسی کے وقت ہیلپ لائن نمبرات پر ربط کرنے عوام کو مشورہ دیا گیا ہے۔کلکٹریٹ کنٹرول روم ہیلپ لائن نمبر1800 425 1939/
9490619045 / 08732226246 پولیس کنٹرول روم ہیلپ لائن نمبر
وہیں عادل آباد میونسپل وائس چیئرمین ظہیر رمضانی نے بارش سے متاثرہ علاقوں کا کمشنر بلدیہ اور ٹی آر ایس پارٹی قائدین و کارکنوں کے ہمراہ دورہ کرتے ہوئے راحت کاری کے کاموں میں حصہ لیا۔اور عوام کے لئے اپنی خدمات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عادل آباد ضلع کا اچوڈا منڈل مرکز گاؤں کے مضافات میں ایک پل ٹوٹنے کی وجہ سے باسڑک کا راستہ سے منقطع رہا۔
نارنور منڈل میں ملنگی گاؤں اور آس پاس کے بستیوں کو الگ تھلگ کردیا گیا ہے ۔ اوٹنور منڈل کے لکرم گاؤں میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ کمرم بھیم آصف آباد ضلع اور منچیریال اضلاع میں بھی ندیوں نے کئی دیہاتوں کا رابطہ منقطع کر دیا۔ لوگوں کو طبی ایمرجنسی سمیت مختلف ضروریات کے لیے منڈل مراکز تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔منچیریال اور کمرم بھیم آصف آباد اضلاع میں ایس سی سی ایل کے زیر زمین اور اوپن کاسٹ پروجیکٹوں پر کوئلے کی پیداوار متاثر ہوئی۔
ضلع کمرم بھیم آصف آباد کی اوسط بارش 86 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ کیرامیری منڈل میں سب سے زیادہ 186 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ جینور منڈل میں 183 ملی میٹر بارش ہوئی۔ سرپور (یو)، لنگا پور، آصف آباد اور بیجور منڈل میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ ضلع کی اصل بارش 1 جون سے 12 جولائی تک 678 ملی میٹر کی معمول کی بارش کے مقابلے میں 678 ملی میٹر بتائی گئی، جو کہ 123 فیصد زیادہ بتاتی ہے۔

عادل آباد ضلع کی اوسط بارش 81 ملی میٹر اور اوٹنور میں سب سے زیادہ 175 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اندرویلی، عادل آباد دیہی اور نیراڈی گونڈہ منڈلوں میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی۔ ضلع کی اصل بارش یکم جون سے 12 جولائی تک 316 ملی میٹر کی معمول کی بارش کے مقابلے میں 553 ملی میٹر تھی، جو کہ 75 فیصد سے بڑی زیادتی کو ظاہر کرتی ہے۔
دریں اثنا، نرمل ضلع کی اوسط بارش 58.4 ملی میٹر اور منچیریال ضلع میں اوسطاً 41.2 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔ نرمل کی اصل بارش 303 ملی میٹر کے مقابلے میں 626 ملی میٹر تھی، منچیریال میں 311 ملی میٹر کی عام بارش کے مقابلے میں 640 ملی میٹر حقیقی بارش درج کی گئی۔ ان دونوں اضلاع میں بالترتیب 107 فیصد اور 105 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔
ا
مسلسل بارشوں سے کپاس اور دھان کی فصلوں کو نقصان پہنچا۔ آبپاشی کے پراجکٹوں سے وافر مقدار میں پانی پہنچ رہاہے۔ نرمل میں کدم نارائن ریڈی پروجیکٹ میں 1.77 لاکھ کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ آبی ذخائر کی سطح 700 فٹ کے مقابلے میں 693 فٹ تک پہنچ گئی