برقعہ پوش ملز م عدالت میں اچانک نمودار

تازہ خبر تلنگانہ
کریم نگر دسٹرکٹ کورٹ میں واقعہ۔
کریم نگر: 28؍جولائی
(زین نیوز)
کریم نگر دسٹرکٹ کورٹ میں مزید جہیز کے ہراسانی کے مقدمہ میں ماخوذ اصل ملزم نے عدالت شروع ہونے سے قبل کورٹ ہال میں چیخ و پکار کرنے لگا جو گرفتاری سے بچنے کے لئے برقعہ زیب تن کیے پیشی کے لیے پہنچا تھا ۔اس کی اس حرکت سے کورٹ ہال میں مقدمات کی تیاری میں مصروف وکلاء‘ حیرت زدہ ہوگئے
تفصیلات کے بموجب تما پور منڈل کے نستولا پور گاؤں سے تعلق رکھنے والے پالے سرنیواس ریڈی کے بشمول ان کے ارکان خاندان کے خلاف جہیز ہراسانی کا ایک مقدمہ زیر دوراں تھا جس کی بیوی نے 2000 ء میں درج کروایا تھا۔سرنیواس ریڈی کے پیشوں میں شرکت سے قاصر رہا تو عدالت نے اس کے خلاف ورانٹ جاری کیا۔
اپنی گرفتاری سے بچنے کے لئے وہ ایک منصوبہ کے تحت برقعہ زیب تن کیے اچانک عدالت میں نمودار ہوا ۔جہاں پہلے ہی سے اس کی بہن اور والد ملا ریڈی بھی موجودتھےکورٹ ہال میں موجود وکلاء نے محسوس کیا کہ برقعہ پوش خاتون نہیں بلکہ مرد ہے تو انہوں نے عدالت کے ڈیوٹی ہیڈ کانسٹبل پولیس محمد معز کو اس کی اطلا ع دی
 جس پر پولیس ہیڈ کانسٹبل نے ملزم کی سرنیواس ریڈی کی حیثیت سے شناخت کی جو برقعہ پہنا بے چینی کے ساتھ اپنےمقدمہ کی کارروائی کا آغاز کررہا تھا کیس کی تبدیلی کی وجہ سےدریافت کرنے پر وہ پولیس کو سیدھے جواب دینے کے بجائے تیز ی کے ساتھ کورٹ ہال میں داخل ہوکر چیخ و پکار کرنے لگا کہ اس کے پولیس ذیادتی کررہی ہے اس یہ ڈرامہ جاری تھا کہ والد ملا ریڈی نے اپنے قمیض سے کیڑ ے مار دوا کی بوتل نکال کر اقدا م خود کشی کی کوشش کی جسے پولیس والوں نے ناکام بنادیا او رملاریڈی کو قریبی دواخانہ منتقل کردیا۔
کورٹ ہیڈ کانسٹبل پولیس محمد معز نے اس ڈرامہ کہ آغاز کے وقت ہی پولیس اسٹیشن 2 ٹاون کریم نگر کو اس کی اطلاع دی تھی جس کے ساتھ ہی سرکل انسپکٹر پولیس لکشمی بابو نے اپنے ماتحت عملہ کے ساتھ عدالت پہنچ کر واقعہ کی تفصیلات سے اگاہی حاصل کی ۔
دریں اثنا ء ملز م سرنیواس ریڈی کی جانب سے وکیل دفعہ نے وارنٹ کی دستبرداری سے متعلق عدالت میں ایک عرضی دائر کی ۔جہاں فاضل مجسٹریٹ نے درخواست منظورکرتے ہوئے وارنٹ کو خارج کردیا
۔ لیکن ضلعی عدالت میں ہونے والی ان ڈرامائی پیش رفت نے قانونی حلقوں اور فریقین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تاہم الزام ہے کہ یہ واقعہ پولیس کی لاپرواہی سے پیش آیا۔