دیوبند،30؍جولائی
(رضوان سلمانی)دارالعلوم دیوبند کے استاذ اور نائب ناظم آل انڈیا مجلس ختم نبوت مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ رؤیت ہلال میں رؤیت کا معنی تمام ہی فقہاء نے یہ بتایا ہے کہ آنکھ سے دیکھا جائے خواہ کسی آلہ اور مشین کی مدد سے یا براہ راست بغیر کسی آلہ کے ۔اور ہلال کہتے ہیں مہینہ کی پہلی شب کا وہ چاند جو قدر ت باری کی جانب سے طے کردہ 29 یا 30 دن کا دورانیہ اپنے مدار میں پورا کرکے افق مغرب پر اگلے مہینے کے لیے دیکھنے میں آئے،
ہجری مہینہ کے لیے ضروری ہے کہ 29 یا 30 دن کا ہو اس لیے ہجری مہینہ نہ کبھی 28 دن کا ہوسکتا ہے نہ کبھی ۳۱ دن کا ؛ ۔لہٰذا 28 ویں دن میں کسی بھی طرح دیکھے جانے والے چاند کو ہلال نہیں کہا جاسکتا جیسا کہ بعض فقہاء نے اس جزیہ کی صراحت بھی کی ہے ۔ رؤیت ہلال کا بڑا گہرا ربط چاند کے فطری نظام کو سمجھنے پر موقوف ہے ۔
اگر اس نظام کو سمجھا جائے تو رؤیت ہلال کے مسئلے میں اٹھنے والے بہت سے سوالات اور اختلافات کا تسلی بخش جواب یہاں سے ملتا ہے۔چاند کی طول و عرض کی وہ رفتار کہ جس سے ماہ و سال بنتے ہیں یہ نظام ؛قدرت کا بنایا ہوا ایسا نظام ہے جس میں انسان کا کوئی دخل نہیںاور یہ نظام کسی حساب و کتاب کا بھی محتاج نہیں۔حضرت امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نے کتاب التفسیر میں سورۃ توبہ کی آیت ’’ انّ عِدَّۃ الشُّہورِ عِندَ اﷲ اثْنا عَشَر شَہراً‘‘ کے تحت ایک حدیث پاک نقل کی ہے: ’’ اِنَّ الزّمان قد استدار کہیأ تہ یومَ خلق اﷲ السماوات و الارض ، السنۃ اثنا عشر شہراً ‘‘ انہوںنے کہا کہ وقت اسی طرح گردش کررہا ہے جس طرح زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت اﷲ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا اور بنایا ۔
چنانچہ چاند کا دورانیہ خدائی نظام کے تحت ایسا صاف ستھرا نظام ہے کہ اس میں کسی حساب و کتاب کی کہیں سے کہیں تک ضرورت نہیںپڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام جب سے رائج ہے آج تک کبھی ناکام نہیں ہوا ۔ شاہ عالم کورگھپوری نے کہا کہ واضح رہے کہ بعض مذاہب اور بعض تحریکوں کے ارکان ایسے بھی ہیں
جنہوں نے مہینوں کی تعداد کو 19 دن میں اور سال کو 19حصوں پر تقسیم کرکے 19 مہینے کا سال بناکراسلام کے مد مقابل اپنا کیلنڈر الگ بنایا ہواہے جیسے کہ بہائی مذہب ۔اور بہائیوں سے سبق لیتے ہوئے قادیانیوں نے بھی اسلام کے مقابل اپنا الگ کیلنڈر بنایا ہوا ہے جن کے نام اسلامی مہینوں کے نام سے مختلف ہیں لیکن ناموں کے فرق کے ساتھ مہینوں کی تعداد ۱۲؍ ہی مانتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ شمشی نظام یعنی عیسوی کیلنڈر کا ایک مہینہ اوسطاً 30دن 10گھنٹے 30منٹ سے بنتا ہے جس کاایک سال 365دن 6گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے ۔یہ زائد ۶ گھنٹہ چار سال میں ۲۴ گھنٹے میں تبدیل ہوکر ایک دن مکمل ہوجاتا ہے ۔ اسی لیے عیسوی کیلنڈر میں چوتھا سال 366دن کا ہوتا ہے جیسا کہ ہر چار سال کے بعد فروری میں ۲۹ دن شمار کیاجاتا ہے۔تاریخوں کا حساب اسی پر چلتا رہے گا ۔ 28سال کے بعد انتیسویں سال کا پہلا دن پھر پہلے سال کی پہلی تاریخ کے دن پر آجائے گا ۔
گویا ہر 28سال کے بعد وہی پہلے والا دن و تاریخ آجائے گا۔ کیوںکہ ہر چار سال میں بڑھنے والا ایک دن ، ۲۸ سالوں میں ایک ہفتہ بن جایا کرتا ہے اس لیے انتیسویں سال کا پہلا دن پھر پہلے سال کی پہلی تاریخ کے دن پر آجائے گا ۔مولانا شاہ عالم نے کہا کہ پوری دنیا میں رائج موجودہ’’ گری گورین کیلنڈر‘‘ جس کو انگریزوں نے ۱۷۵۲ء میں تسلیم کرکے رائج کیا، اسی حساب پر بنایاگیا ہے اور اس حساب کو بنانے میں بھی عیسائیوں کے تیرہویں پوپ ’’ گری گوری ‘‘(موت ۱۵۸۲ئ) نے اسلام کی رائج کردہ ہجری حساب سے مدد لی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی حساب سے مدد لیے بغیر جو کیلنڈر بھی ماضی میں بنایاگیا ہے مثلاً یہودی کیلنڈر ، بکرمی کیلنڈر وغیرہ وہ سب کے سب ایک مدت کے بعد ناکام ہوکر اپنی افادیت کھوچکے اور انسان کے وضع کردہ حساب کی ناکامی کا ثبوت دے چکے ہیں۔
موجودہ کیلنڈر بھی چونکہ ایک انسانی حساب پر مبنی ہے ماضی میں اس لیے یکم مارچ 1900ء سے ۲۸ فروری2100ء تک کی تاریخیں صحیح ہیں بقیہ یکم مارچ 1900ء سے پہلے جیسے کئی مرتبہ ناکام ہوا ہے اسی طرح اور 28 فروری2100ء کے بعد ایک مرتبہ پھر ناکام ہوجائے گا ۔
یہ خوبی صرف اور صرف ہجری کلینڈر میں ہے کہ نہ ماضی میں کبھی ناکام ہوا اور نہ آئندہ کبھی ناکام ہوگا ۔مولانا نے کہا کہ آپ آج بھی کمپوٹر اور موبائل پر دیکھ لیں کہ ستمبر1752ء میں3 ستمبر سے13 ستمبر تک کی تاریخیں غائب ہیں ۔2 ستمبر کے بعد سیدھے14 ستمبر کی تاریخ آپ کو کیلنڈر میں ملے گی ۔
اسی طرح دسمبر1634ء میں31 دسمبرکی تاریخ اتوار ے دن میں ہے اور یکم جنوری 1635ء جمعرات میں دیکھائی گئی ہے ۔بقیہ تین دن یعنی دوشنبہ منگل اور بدھ ،غائب ملیںگے ۔اسی طرح فروری1900ء میں آپ دیکھئے کہ اس سال میں ۴ پر تقسیم ہونے کی وجہ سے فروری کا مہینہ29 کا ہونا چاہئیے لیکن ایک دن غائب کرکے کیلنڈر میں28 فروری بدھ کا دن دکھایاگیاہے ۔آپ یاد رکھیں کہ2100ء میں ماہ فروری 29 دن کا ہونا چاہیے لیکن آپ کیلنڈر دیکھئے کہ 28 دن کا بتاکر آگے بڑھ گئے ہیں اورحساب داں ایک دن غائب کرگئے ہیں ۔
اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کا دامن یہاں چھوڑدیا ہے اس لیے ان کا بنایا ہوا قانون یہاں آکر خود بخود فیل اور ناکام ہوجاتا ہے ۔جب کہ ہجری تاریخوں میں یہ غلطی آپ کو کبھی نہیں ملے گی نہ ماضی میں نہ مستقبل میں ۔ مہینوں کی تاریخ میں اگر اختلاف نظر بھی آجائے تو سال پورا ہوتے ہوتے چاند ان تمام اختلافات اور محسوس کی جانے والی کمی بیشی کو اپنے دورانیہ سے ختم کردیتا ہے ۔اور پھر تاریخیں اور دن اپنی جگہ درست ہوجاتے ہیں۔