چند عہد یدارفرقہ پرستوں کے آلہ کار ۔مسجد کی شہادت پر شدید برہمی

تازہ خبر تلنگانہ

مسلم جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی شکایت

رات کی تاریکی میں گھناؤنی حرکت قابل مذمت بلالحاظ سیاسی وابستگی مسلمانوں کا احتجاج

حیدرآباد۔3/اگست
(زین نیوز/ایجنسیز )
شمس آباد میں مسجد خواجہ محمود کی رات کی تاریکی میں شہادت پر ریاست بھر کے مسلمانوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ حکام کی اس حرکت سے جہاں مسلمانوں کے جذبات ایک طرف مجروح ہوئے ہیں محکمہ جات پولیس بلدی اور ریونیو کے چند ایک عہد یدارفرقہ پرستوں کے آلہ کار بننے پر سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔

اس گھناؤنی حرکت کے خلاف بلالحاظ سیاسی وابستگی مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مسجد ، قرآن شریف اور دیگر مذہبی کتب کی بے حرمتی کے خلاف سیاسی سماجی اور مذہبی قائدین نے شہید ملبے کے پاس پہنچ کر جذبات سے مغلوب ہوگئے جنہیں پولیس نے گرفتار کیا۔

یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کل نصف شب کے بعد مسجد خواجہ محمود کو شمس آباد کے میونسپل حکام نے پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ گرین ایونیو کالونی پہنچ کر پورے علاقہ کا محاصرہ کیا اور برقی منقطع کرنے کے بعد مقامی مسلمانوں کے مکانات کے دروازوں کو باہر سے بند کر کے مسجد پر بلڈوز کر دیا۔

ایک دو مسلمان جو اس واقعہ کی بذریعہ سیل فون دوسروں کو اطلاع دینے کی کوشش کر رہے تھے ان کے فونوں کو بھی چھین لیا گیا۔ یہ مسجد جو تین سال پہلے تعمیر کی جارہی تھی ۔

 

گذشتہ دوسال سے باقاعدگی کے ساتھ مسلمانان کالونی پنجگانہ نماز میں ادا کر رہے تھے۔ تفصیلات کے بموجب گرمین ابو نیو کالونی فیر اور فیر پندرہ ایکڑ اراضی پر محیط ہے 8 1 0 2 میں پریٹیج انفرا کے مالکین طبیب علی اور طاہرعلی نے شمس آباد گرام پنچایت سے مناسب اجازت کے بعد چھوٹے بڑے ملا کہ 50 کے قریب پلاٹنگ کی تھی اور مسجد کے لئے باضابطہ ڈھائی ڈھائی گز کے مربع گز کی جگہ کو مختص کیا تھا کیونکہ اس کالونی میں 90 فیصد سے زائد مسلمان آباد ہیں۔

انہوں نے تین سال قبل تعمیری کام شروع کیا تھا اور اس میں باضابطہ طور پر نماز پنجگانہ کا اہتمام کیا جار ہا تھا۔ تاہم مسجد سے متصل وشال سنگھ نامی ایک شخص کا مکان ہے جس نے الزام ہے کہ میونسپل حکام سے مسجد کی غیر قانونی تعمیر کی شکایت کی اور اس سلسلہ میں عدالت میں مقدمہ زیر دوراں ہے۔

دونوں فریقین عدالت سے رجوع ہوۓ۔ حیرت اس بات کی ہے کہ عدالت میں مقدمہ زیر دوراں ہے مگر بلدی حکام بالخصوص کمشنر کالونی کی سوسائٹی اور نہ ہی مسجد کی انتظامی کمیٹی کونوٹس جاری کی بلکہ ایک منصوبہ کے تحت رات کی تاریکی میں مسجد کو شہید کیا۔

اس سلسلہ میں پہلے ہی مقامی مسلمانوں نے وزیر داخلہ اور وقف بورڈ کے حکام کو اس سے آگاہ کیا تھا۔ ریاست بھر کے مسلمانوں نے حکام کی جانب سے ایک مخصوص طبقہ کے مذہبی مقامات کو غیر قانونی ہونے کے نام پر نشانہ بنانے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ سلسلہ گذشتہ چھ سات سال سے جاری ہے۔

انہوں نے مسجد کی فی الفور اسی مقام پر دوبارہ تعمیر اور خاطی حکام کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا بصورت دیگر شدید احتجاج کی دھمکی دی۔

فی الوقت یہ مسئلہ پوری ریاست میں گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے ٹی آرایس کے دور حکومت میں خالص مسلم مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی شکایت کرتے ہوۓ ٹی آرایس حکومت کو ذمہ دار ٹہرایا۔