11 ؍اگست تک دونوں پارٹیاں الگ ہوسکتی ہیں
حکومتی بحران پر جے ڈی یو ایم پی کا بڑا بیان
پٹنہ :8؍اگسٹ
(زیڈ این ایم ایس)
بہا ر کی سیاست میں پھر ایک بار اتھل پتھل کے امکان پائے جاتے ہیں بی جے پی اور آر جے ڈی اتحاد میں تلخیاں منظر عام پر آرہی ہیں اسی کے چلتے بہار میں جے ڈی یو۔بی جے پی اتحاد ایک بار پھر ٹوٹ سکتا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ 11 ؍اگست تک دونوں پارٹیاں اتحاد سے الگ ہو سکتے ہیں اور ریاست میں دوبارہ جے ڈی یو اور آر جے ڈی کی حکومت بن سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ اور اران اسمبلی کو اگلے دو دنوں میں پٹنہ پہنچنے کی ہدایت دی ہے
دوسری طرف آر جے ڈی بھی اسی نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے تمام ممبران اسمبلی کو پٹنہ میں ہی رہنے کو کہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نتیش نے سونیا گاندھی سے ٹیلی فون پر بات کی۔
ریاست میں 11 اگست تک نئی حکومت بن سکتی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق منگل کو ہی تیجسوی یادو اپنے تمام ارکان اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔ تاہم جے ڈی یو لیڈروں نے حکومت کے مستقبل کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔
دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جھانجھار پور سے جے ڈی یو کے رکن اسمبلی رام پریت منڈل نے کہا کہ بہار کی سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے۔ یہ ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ ہمارے وہاں پہنچنے سے پہلے وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
ہمارے لیڈر نتیش کمار ہیں، وہ جو بھی فیصلہ لیں گے وہ درست ہوگا۔ اس بیان کے بارے میں مانا جا رہا ہے کہ نتیش کمار آج این ڈی اے حکومت کے تعلق سے کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں۔
2020 میں نتیش کی پارٹی جے ڈی یو کی 28 سیٹیں کم ہو کر 43 پر آ گئیں، جب کہ بی جے پی کی 21 سیٹیں بڑھ کر 74 ہو گئیں۔ اس کے باوجود بی جے پی نے نتیش کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔ این ڈی اے کو 125 اور مہاگٹھ بندھن کو 110 سیٹیں ملیں
نتیش کمار بی جے پی سے کیوں ناراض ہیںذرائع کے مطابق انہیں حکومت چلانے میں فری ہینڈ نہیں مل رہا۔ چراغ ایپی سوڈ کے بعد آر سی پی بھی بی جے پی سے ناراض ہے۔پچھلے کچھ مہینوں میں نتیش نے کئی اہم میٹنگوں سے خود کو دور کر لیا ہے۔ چند ماہ قبل وہ وزیراعظم کی جانب سے کورونا پر بلائی گئی میٹنگ سے دور رہے۔
حال ہی میں سابق صدر رام ناتھ کووند کے اعزاز میں دی گئی ضیافت صدر دروپدی مرمو کی حلف برداری کی تقریب میں بھی نہیں گئے
ریاست میں بہار کے بی جے پی لیڈروں سے بھی ملاقات نہیں کی۔ سی ایم مقامی سطح پر پروگراموں میں شرکت کر رہے ہیں، لیکن وہ نہ تو کھل کر بی جے پی لیڈروں سے بات کر رہے ہیں اور نہ ہی ان سے ملاقات کر رہے ہیں۔
