آر ایس ایس نےبھگوا جھنڈا ہٹا کر ترنگالگادیا۔سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پروفائل تبدیل

تازہ خبر قومی
نئی دہلی : 13؍اگسٹ
(زیڈ ایم این ایس)
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے یوم آزادی سے ٹھیک پہلے جمعہ کو اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پروفائل تصویر تبدیل کردی۔ بھگوا جھنڈا ہٹا کر ترنگالگادیا۔
یہ خبر اس لیے زیر بحث ہے کیونکہ آر ایس ایس نے پہلی بار ایسا کیا۔ ہر گھر پر مرکزی حکومت کی ترنگا مہم کے بعد اپوزیشن مسلسل سنگھ پر حملہ آور ہو رہی تھی۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور سنگھ کے سرکاریواہ دتاتریہ ہوسابولے نے بھی اپنے ڈی پی میں قومی پرچم یعنی ترنگا لگایا ہے۔
حکمراں بی جے پی کے نظریاتی چشمہ آر ایس ایس کو کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے قومی پرچم پر اس کے موقف پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مرکزی حکومت نے پروگرام کے ایک حصے کے طور پر لوگوں سے 13-15 اگست کے دوران اپنے گھروں سے قومی پرچم لہرانے یا ڈسپلے کرنے کی اپیل کی ہے
آر ایس ایس کے پبلیسٹی ڈپارٹمنٹ کے شریک انچارج نریندر ٹھاکر نے کہا، "سنگھ اپنے تمام دفاتر میں قومی پرچم لہرا کر یوم آزادی منا رہا ہے۔” ہندوستان کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کی خوشی میں حکومت آزادی کا امرت مہوتسو منا رہی ہے۔
پی ایم مودی نے ڈی پی بدلنے کی اپیل من کی بات کے 91 ویں ایپی سوڈ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے امرت مہوتسو کے تحت 13 اگست سے 15 اگست تک گھروں پر ترنگا جھنڈا لہرانے اور اپنے سوشل میڈیا پروفائل پر ترنگا لگانے کی اپیل کی تھی۔ اس کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنی پروفائل فوٹو میں ترنگا لگایا ہے۔
حزب اختلاف ‘آر ایس ایس کے سرکاری ہینڈل پر لگے بھگوا پرچم کو ہٹا کر ترنگا کی ڈی پی نہ لگانے پر تنقید کر رہا تھا۔ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ آر ایس ایس اور اس کے لیڈر ڈی پی میں ترنگا کب لگائیں گے۔
کانگریس کے قومی میڈیا انچارج جے رام رمیش نے پوچھا تھا کہ کیا یہ تنظیم، جس نے 52 سال تک ناگپور میں اپنے ہیڈکوارٹر پر قومی پرچم نہیں لہرایا، ‘تیرنگا’ کی پروفائل بنانے کے لیے وزیر اعظم کے پیغام پر عمل کرے گی۔ کانگریس لیڈر پون کھیرا نے کہا تھا کہ سنگھ والوں، اب ترنگا اپنا لو۔
آر ایس ایس کے مہم کے سربراہ سنیل امبیکر نےبدھ کو سنگھ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ترنگے کی تصویر نہ لگانے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی چیزوں پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ آر ایس ایس پہلے ہی ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے پروگراموں کے لیے اپنا تعاون بڑھا چکا ہے۔
جولائی میں، سنگھ نے حکومت اور خانگی اداروں اور سنگھ سے منسلک تنظیموں کے ذریعے منعقد کیے جانے والے پروگراموں میں لوگوں اور رضاکاروں کی مکمل حمایت اور شرکت کی اپیل کی تھی۔ امبیکر نے کہا تھا کہ ایسے معاملات اور پروگراموں کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا – جو پارٹی ایسے سوال اٹھا رہی ہے وہ ملک کی تقسیم کی ذمہ دار ہے۔