زرعی پمپ سیٹس کو نہیں بی جے پی کو میٹر لگانا ضروری ہوگیا ہے۔کے سی آر

تازہ خبر تلنگانہ
یہ منگوڑو حلقہ کے انتخابات نہیں بلکہ ہمارے اور ملک کے مستقبل سے جڑا معاملہ ہے ‘
حیدرآباد۔20اگست
 (زین نیوز) 
 چیف منسٹر مسٹر کے  چندرشیکھرراؤ نے واضح کیا ہے کہ وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی کی کسان مخالف اور عوام دشمن پالیسیاں جمہوریت کے ساتھ کھلوار ہے ۔ منگوڑو اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے سلسلہ میں آج منعقدہ جلسہ دست شفقت عامہ سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ مرکز میں برسر اقتداربی جے پی حکومت نے وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی کی قیادت میں مخالف عوام اور موافق سرمایہ دار و مالدارپالیسوں پر عمل پیرا ہے ۔ انہوں نے یہ جاننے کا مطالبہ کیا کہ مرکز زرعی برقی پمپ سیٹس کیلئے میٹر کیوں  لگانے پر بضد ہے ۔
 اس سوال پر اس نے اس کی وجوہات بتانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ منگوڑو میں جو ہو رہا ہے وہ یہاں ضمنی انتخاب نہیں بلکہ ہماری زندگی کا انتخاب ہے۔بی جے پی کے حق میں ووٹ کا استعمال گویا کہ زرعی کنوئیں یا بورویل کے پاس لگانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا تعاقب کرکے اسے بھگایا جاتا ہے سمجھئے کہ یہ ہمارے لئے آزادی ہے۔
کے سی آر نے عوام سے کہا کہ وہ ایسی جماعت کو ہتھیار دیں جوان کو بھگانے مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔چیف منسٹر نے امیت شاہ کے دورہ پر سوال اٹھایا کہ وہ کس منہ سے ریاست کے دورہ پر آرہے ہیں کیا ہمیں آپ نے پانی کا حصہ دلوایا یا پھر قانون ریاستی تنظیم جدید کے تیقنات کو عملی جامہ پہنایا؟  انہوں نے کہا کہ عوام کے ہاتھ میں ووٹ ایک بہت بڑا ہتھیار ہے جسکو سوچ سمجھ کراستعمال کرنا چاہیے۔
کے سی آر نے کہا کہ ایک دور ایسا بھی تھا کہ نلگنڈہ ضلع ‘ محبوب نگر اور دیگر کئی اضلاع میں دس یا بیس ایکڑزمین کے حامل افراد حیدرآباد آکرآٹورکشا چلایا کرتے تھے ۔ کیو ں کہ زراعت کیلئے ہمیں نہ پانی ملتا نہی کرنٹ دستیاب رہتا حتی کہ بیج و تخم اور کھاد جیسی ـضروری  بھی نصیب نہیں ہوتیں۔اسی لئے کسانوں کی زندگیاں بد حال تھیں۔
علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ان تمام خامیوں کا ازالہ کرلیا گیا ۔ بلکہ انہیںرعیتو بندھوتک دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشن کاکتیہ کے ساتھ تالابوں کی مرمت کی گئی ہے۔لنگانہ آہستہ آہستہ ترقی کے راستہ کو طئے کررہا ہے یہ ان کی (بی جے پی) کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری جیسی ترقی بی جے پی کی اقتدار والی کسی ایک ریاست میں کرکے دکھلائیں۔
قومی راجدھانی میں پینے کا پانی اور نہی  مطلوبہ برقی دستیاب ہے ۔ کے سی آر نے ان سے سوال کیا کہ کیا تم نے کوئی ایک پروجیکٹ  بھی بنوایا؟  انہوں نے کہا کہ تلنگانہ بھارت کی واحد ریاست ہے جو24 گھنٹے  بلا خلل معیاری بجلی فراہم کرتی ہے۔
 انہوں نے ریمارک کیا کہ بی جے پی کے پاس حکومت کرنی صلاحیت نہیں ہے۔ وزیر اعظم کی آبائی ریاست گجرات میں بھی ہماری جیسی اسکیمات نہیںہیں۔ آج بھی بجلی بند ہے ۔ چیف منسٹر نے سخت ریمارک کیا کہ زرعی پمپ سیٹ کو اب بی جے پی کو میٹر لگانے کا وقت آگیا ہے۔کیا وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے عوام اور کسان بے بس ہو جائیں۔
انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ ان کے بہکاوئے میں نہ آئیں۔منگوڑو کے ضمنی انتخابات کسانوں کی روزی روٹی کا الیکشن ہے ۔ بی جے پی کو ملک کی ترقی سے زیادہ مذہبی اور ذات پات کا جنون عزیز ہے۔آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کس وزیراعظم کے دور میں روپے کی قدر گر گئی ہوئی تھی جو کہ آج 80 روپے ہے ۔
یہ وہی وزیر اعظم مودی  ہیں جنہوں نے سابقروپیئے کی قدر میں معمولی سی گراوٹ پر واویلا مچایا تھا۔ان ہی کے دور میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ نئی کمپنیوں کا قیام تو دور کی بات موجودہ کمپنیاں فروخت کی جا رہی ہیں۔ کسانوں کی ان کے پاس کوئی اہمیت نہیں ہے ۔کھڑی فصلیں نہیں خرید سکتے۔ کے سی آر نے واضح کیا کہ جب تک آپ کا آشیرواد ہے تب تک کے سی آر زندہ ہے ۔
 انہوں نے دوٹوک کہا کہ تلنگانہ  میں ان کے رہتے زرعی پمپ سیٹس پر برقی میٹر لگانے دین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آخر میں کے سی آر نے کہا کہ منگوڑو کے ضمنی انتخابات ایک سازش کے تحت منعقد کروائے جارہے ہیں ورنہ عام انتخابات کیلئے ایک سال بھی نہیں تھااس کے ساتھ یہ انتخابات کروائے جاسکتے تھے۔
قبل ازیں چیف منسٹر پرگتی بھون سے موٹر کاروں کے بھاری قافلہ کے ساتھ منگوڑو روانہ ہوئے۔انہوں نے کانگریس کو پر بھی تنقید کی۔جلسہ میں وزراء ‘ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی وکونسل‘پارٹی قائدین کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے ذمہ داروں نے بھی شرکت کی۔منگوڑوکے عوام کی بھی بڑی تعداد جلسہ میں موجود تھی۔