جو کچھ ہو رہا ہے وہ سراسر غلط اور شرمناک ہے : نربھیا کی ماں آشا دیوی
نئی دہلی ۔23/اگست
(عمران زین)
نربھیا کی ماں آشا دیوی نے گجرات حکومت کی طرف سے بلقیس بانو کے خلاف عصمت دری کیس کے ملزمان کی رہائی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عصمت دری کرنے والوں کا پرتپاک استقبال دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سراسر غلط اور شرمناک ہے۔
انہوں نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے ریپ کرنے والوں کے ساتھ ایسے رویوں کی وجہ سے ہی وہ خواتین کی عصمت دری کا سبب بن رہے ہیں۔
ایک ٹیلی ویژن ڈیبیٹ شو میں بات کرتے ہوئے، نربھیا کی ماں، آشا دیوی نے کہا: "جب میں دیکھتی ہوں کہ ریپ کرنے والوں کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے تو خون کھولتا ہے۔” نربھیا کی ماں آشا دیوی نے ان لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے بلقیس بانو کے ریپ کرنے والوں کا ہار اور مٹھائی سے استقبال کیاجارہا ہےجو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت بات ہے
واضح رہے کہ15 اگست کو، گجرات حکومت نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے 11 مجرموں کی سزا کو معاف کر دیا، اس کے چند گھنٹے بعد جب پی ایم نریندر مودی نے پیر کو اپنی یوم آزادی کی تقریر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں بات کی تھی۔رہائی پانے والے گیارہ افراد کو 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور اس کی 3 سالہ بیٹی سمیت اس کے خاندان کے سات افراد کے قتل میں مجرم قرار دیا گیا تھا
ملک کی یوم آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے ضمن میں منائے جارہے”آزادی کے امرت مہوتسو”کے موقع پر15 اگست کوحکومت گجرات کی جانب سے 11 قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد کے نام پر رہا کیےجانے کےبعدبشمول مجلس اتحادالمسلمین ،کانگریس مختلف تنظیمیں،غیر جانبدارصحافی، سماجی جہدکار اورسوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پرسوال اٹھائے ہیں
گجرات نسل کشی کے دؤران مارچ 2002 میں ضلع داہود میں ان 11 مجرموں کی جانب سے پانچ ماہ کی حاملہ خاتون بلقیس بانو (جن کی عمراس وقت 21سال تھی) کی اجتماعی عصمت ریزی اور ان کی تین سالہ بیٹی کو پتھر پر پٹک بےرحمی سے قتل،ساتھ ہی بلقیس بانو کے خاندان کے جملہ سات افراد کو قتل کرنے والے ان مجرموں کو کیوں اور کس بنیاد پر اس طرح آزاد کردیا گیا؟ جو عدالت کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے؟بتایا جارہا ہے کہ ان 11 افراد نے جملہ 14 افراد کو قتل کیا تھا۔
اس سلسلہ میں سوشل میڈیاپر ایسی شرمناک ویڈیو اور تصاویروائرل ہوئی ہیں جن میں دیکھاجاسکتا ہےکہ ان 11 قاتلوں کی پیرکے دن گودھرا سب جیل سے رہائی کےبعد ان کے پیر چھوکر آشیرواد لیتےہوئےمٹھائی کھلاکر اور تلک لگاکر باقاعدہ ان کااستقبال کیا جارہا ہے۔افسوس کہ ان میں چند خواتین بھی شامل تھیں۔
جیسے کہ ان 11 درندوں نے انسانیت کی بھلائی کےلیےجیل کی صعوبتیں برداشت کیں یا یہ کوئی مجاہدین آزادی ہیں یا ملک کے جیالے ہیں!!ان کی ایسی تصاویربھی وائرل ہوئی ہیں جن میں بتایاگیا ہے کہ وشواہندوپریشد کی جانب سے ان 11 قاتلوں کو تہنیت بھی پیش کی گئی۔

رکن قانون ساز کونسل نظام آباد و دختر تلنگانہ مسز کویتا نے چیف جسٹس سے دردمندانہ درخواست کرتے ہوۓ مکتوب تحریر کیا کہ میں آپ کو 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی عصمت دری کے بارے میں صمیم قلب کے ساتھ لکھ رہی ہوں، جہاں گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر 1992 کی پالیسی پر انحصار کرتے ہوۓ 11 مجرموں کو رہا کیا تھا جبکہ ریاستی حکومت کی 2014 کی نظر ثانی شدہ پالیسی کے مطابق انہیں معافی کیلئے نااہل قرار دیا گیا ہے ۔
عصمت دری جیسے جرائم ہمارے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور سزا یافتہ زانیوں کو ایک ایسے دن آزادانہ طور پر باہر نکلتے دیکھ کر جو کہ ہمارا یوم آزادی ہے، ہر ۔ عورت اور ہر اس شہری کا دل کانپ اٹھا جو ملک کے قوانین پر اپنا یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا نظام انصاف پر مبنی ہے۔
انہوں نے متعلقہ تکنیکی اور قانونی نکات پر روشنی ڈالی اور نشاندہی کی کہ اس کیس کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے کی تھی۔سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ان مجرموں کو سزا سنائی تھی۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 435 (a) (1) میں کہا گیا ہے کہ ماسوا مرکزی حکومت سے مشاورت کے ریاستی حکومت کے کسی بھی معاملہ میں سزا کو معاف کرنے یا اس میں کمی کرنے کا اختیار ریاستی حکومت استعمال نہیں کرے گی جس کی جانچ سی بی آئی نے کی ہو۔
انہوں نے استفسار کیا اور یمارک کیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کیا 11 مجرموں کی رہائی مرکزی حکومت کے ساتھ مشاورت سے کی گئی تھی۔انہوں نے مناسب طور پر نشاندہی کی کہ اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ 1992 کی پالیسی کو 2014 کی پالیسی سے بدل دیا گیا تا کہ ریاستی حکومت کی معافی کی پالیسی کو مجرمانہ معاملہ میں سپریم کورٹ کے 20 نومبر 2012 کے فیصلہ سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔
اپیل نمبر 491-490 بابت1 201 جہاں سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ مناسب حکومت کے معافی کے اختیارات کو من مانی طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئیے اور مذکورہ طاقت پر کچھ موروثی طریقہ کار اورٹھوس جانچ پڑتال کے ساتھ استعمال کیا جنا چاہئے ۔