ملعون راجہ سنگھ کی گرفتاری اور رہائی کے بعد سے مسلمانوں میں شدید برہمی
حیدرآباد۔25اگست
(زین نیوز)
رسول پاک ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کرنے والے گوشہ محل سے وابستہ ملعون ایم ایل اے راجہ سنگھ کی ڈرامائی انداز میں گرفتاری اور عدالت کے ذریعہ ضمانت پر رہائی کے بعد سے مسلمانوںمیں شدید برہمی پائی جارہی ہے۔ اور اس مردود ایم ایل اے راجہ سنگھ کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سینکڑوں و ہزاروں کی تعدادمیں نوجوانوں نے پھر سے ایک بار نعرے تکبیر اللہ اکبر کے ساتھ اپنے احتجاج کو بلند کیا اوراس احتجاج میں پہلے کے مقابل مزید شدید پیدا ہوگئی اور 23اگست کی شام سے ہی مختلف مقامات پر وقفہ وقفہ سے پرامن انداز میں احتجاج کو بلندکیاجارہا ہے تاکہ حکومت پر دبائو پیدا کیاجاسکے اوراس ملعون ایم ایل اے کی دوبارہ گرفتاری ہوسکے۔
کیونکہ ملعون ایم ایل اے راجہ سنگھ نے رسول پاک ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کرنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوتے ہی پھر سے ایک بار مذہب اسلام اورمسلمانوںکو نشانہ بنایا اور ایک بار مسلمانوں کی دل آزاری کی۔ جس کی وجہ سے شہر کے عوام میں اس مردو ایم ایل اے اوراس کے حامیوںکے خلاف شدید غصہ پایا جارہا ہے اور اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے تک مسلمانوںنے اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کا عزم بھی کیا۔
اور اسی کے تحت 23اگست منگل کی شام اور رات کو پرانے شہر کے مختلف مقامات جیسے کہ انجن بائولی‘ تاریخی چارمینار‘ علیجاہ کوٹلہ‘ مغلپورہ ‘سلطان شاہی‘ حسینی علم و دیگر مقامات پر پرامن انداز میں احتجاجیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور اس دوران ملعون ایم ایل اے راجہ سنگھ کے خلاف شدید کے ساتھ نعرے بازی کی جارہی تھی اور اسے پھانسی کی سزا دینے کے علاوہ اس کے سرکو تن سے جدا کرنے کا بھی مطالبہ کیاجارہا تھا۔
اس بار پرانے شہر کی انتہائی مصروف ترین سڑک شاہ علی بنڈہ کو احتجاجیوں نے اپنا ایک مقام بنالیا جہاں پررات دیر گئے سے ہی سینکڑوں و ہزاروں کی تعداد میں نوجوان قیام کئے ہوئے تھے اور مسلسل نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے غم و غصہ کا اظہار بھی کررہے تھے۔ اتنا ہی نہیں ان احتجاجیوں نے وقفہ وقفہ سے شاہ علی بنڈہ‘ انجن بائولی اور دوسرے مقامات پر فلاش پروٹسٹ کو انجام بھی دیا۔
جس کی وجہ سے رات کے وقت سے ہی پولیس کا عملہ بھی چوکسی اختیار کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل گیا اور امکانی خدشات کے پیش نظر حالات پر قابوپانے کیلئے پٹرول میں شدت پیدا کردی گئی۔ اور پھر پرانے شہر میں داخل ہونے والے انٹری پوائنٹ پر جیسے کہ پرانا پل چوراہااور دوسرے مقامات پر پولیس نے غیر مقامی لوگوں کے داخلہ پر پابندی لگاتے ہوئے بیریگیڈس لگادیئے اورٹاسک فورس ٹیموں کے علاوہ لاء اینڈ آرڈراور پولیس عملہ کو تعینات بھی کردیاگیا۔

جہاں عام آدمیوں کی تلاشی اور گاڑیوں کی چیکنگ وغیرہ کی جارہی تھی ۔ علاوہ ازیں پرانے شہر شاہ علی بنڈہ روڈ پر آدی رات کے وقت اچانک اس وقت ماحول خراب ہوگیا جب پولیس عملہ کی طرف سے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے زور دیاجارہا تھا۔ لیکن اس دوران پولیس اور احتجاجیوں کے بیچ ہلکی سی سنسنی پھیل گئی جہاں کچھ شرپسند لوگ عمداً احتجاجیوں کے بیچ داخل ہوکر پرامن ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے سنگباری شروع کردی جس کے نتیجہ میں ایک دو بڑے گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن میں پولیس پٹرولنگ گاڑی بھی شامل ہے۔
جس کے بعد حالات کو قابو میں کرنے کے لئے پولیس عملے نے لاٹھی چارج کا سہارا بھی لیا۔ اور اس وجہ سے شاہ علی بنڈہ روڈ پر قائم کئے گئے اس احتجاجی کیمپ سے بھاگ نکلے مگر جو لوگ پرامن انداز میں احتجاج کو بلند کئے تھے وہ یہاں پربیٹھے رہے حالانکہ پولیس کی طرف سے انہیں اٹھانے کی پوری پوری کوشش کی گئی مگر ناکام رہی۔ اور یہ احتجاج کا سلسلہ 24اگست کی صبح تک بھی جاری رہا۔
جہاں کے احتجاجی نعروں کی گونج میں ملعون ایم ایل اے راجہ سنگھ کی دوبارہ گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہے۔ اور اپنے احتجاج کو جاری رکھا۔ اس پرامن احتجاج کی وجہ سے پرانے شہرمیں پولیس کے عہدیداروں نے انتہائی چوکسی اختیا کرتے ہوئے اور پھر یہاں پولیس کی بھاری فورس کو تعینات بھی کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب شاہ علی بنڈہ روڈ پر قائم کئے گئے احتجاجی کیمپ میں اس وقت بھگدڑ مچ گئی جب یہاں پتھرگٹی ڈویژن سے وابستہ مجلس اتحاد المسلمین کے کارپوریٹر سہیل قادری ‘محمود قادری نے پہنچ کر عوام کی تائید میں ان کے ساتھ دھرنے میں شامل ہوئے۔
جہاں پر پولیس عملے نے انہیں اپنی حراست میں لے لیا اور پھر اس کے ساتھ ہی بھگدڑ وغیرہ مچ گئی اور اتفری تفرح کا ماحول بھی دیکھا گیا۔ مگر اس کے باوجود بھی یہ احتجاجی اپنے احتجاج کو پرامن انداز میں جاری رکھے ہوئے تھے۔ حالانکہ پولیس کے عملے نے سہیل قادری اور دیگر کئی ایک احتجاجیوں احتیاطی تدابیر کے طورپر دوسرے پولیس اسٹیشن کو منتقل کردیا اور اس واقعہ کے فوری بعد پولیس کے عملے نے پرانے شہر میں خصوصی طورپر توجہ دیتے ہوئے بھاری تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کردیااور پھر حالات کے پیش نظر پولیس نے رات 8بجے سے قبل پرانے شہر میں تمام کاروباری سنٹرس کو بندکرانے کا اعلان کیا اور وقفہ وقفہ سے پولیس پٹرولنگ گاڑیوں کے ذریعہ عوام کو اطلاع دی جارہی تھی۔
تاکہ رات کے وقت غیر ضروری طورپر عوام سڑکوں پر نہ نکلے جس کی وجہ سے پرامن ماحول خراب ہورہا ہے۔ قبل ازیں حالات کے پیش نظر پرانے شہر میں تمام تعلیمی اداروں کو رضاکارانہ طورپر بند کردیاگیا تھا۔ اور یہ بھی کہاجارہاہے کہ مزید دو تین دنوں تک اس طرح سے ہی یہاں پر ماحول کو قائم رکھا جائے گا۔ خصوصی طورپررات کے وقت پولیس عملہ کڑی نظر رکھاہوا ہے اور تمام پٹرول پمپس کو قبل از وقت بندکرادیاگیا کیونکہ تقریباً نوجوان گاڑیوں پر گھوم پھر کر غیر ضروری شر پھیلانے کی کوشش کررہے ہیںجن میں کچھ گنجٹی اور وائٹنر کا نشہ کرنے والے لوگ بھی شامل ہے جو مسلمانوںکوبدنام کرنے کے لئے پرامن ماحول کو خراب کرنا چارہے ہیں۔
اسی دوران سائوتھ زون کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس پی سائی چیتنیا نے تیقن دیا ہے کہ ملعون ایم ایل اے راجہ سنگھ کے خلاف پولیس کسی بھی حال میں کارروائی کرے گی۔ جس نے رسول پاک ﷺ سے کی شان اقدام میں گستاخی کرتے ہوئے نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہمارے دلوں کوبھی ٹھیس پہنچایا ہے۔
انہوںنے کہاکہ محمد ﷺ ساری دنیا اور انسانیت کے لئے ایک اچھام پیغام لے کر آئے ہم بھی دل و جان سے محمد ﷺ کی عزت کرتے ہیں مگر اس طرح کے لوگوں کی وجہ سے پرامن ماحول خراب ہورہاہے۔ لہٰذا ڈی سی پی سائوتھ زون نے تمام احتجاجیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس پر بھروسہ رکھیں ‘ ہم اس کے خلاف میں ضرور دوبارہ کارروائی کریںگے‘ اسے ریمانڈ کریںگے جس نے رہائی کے بعد بھی محکمہ پولیس پر بھی تنقید کی اور یہ مسئلہ ہماری انا کا بن چکا ہے۔