مولوی قاضی شیخ محمد علی رشادی کا خطاب
کڈپہ : 31؍اگست
(پریس نوٹ)
حافظ اصغرعلی صاحب کی اطلاع کے مطابق مولوی قاضی شیخ محمد علی رشادی سکریٹری لجنۃ العلماء کمیٹی کڈپہ نے اپنے خطاب میں فرمایا لوگوں میں ماہ صفر کے مطالق یہ بات عام ہے کہ صفر کا مہینہ منحوس ہےیہ اللہ اور اسکے رسول کے احکامات سے دوری کا نتیجہ ہے ۔اسلئے کہ یہ بات جان لینی چاہئیے کہ ہر مہینہ ہر دن اللہ نے بنایا ہے ۔اللہ ہر عیب و نقص سے پاک ہے اور اسکے بنانے میں بھی کوئی کمی نہیں ہے سارے مہینے اچھے بنائے ہیں ۔
اصل نحوست ہماری بد اعمالیوں کی وجہ سے آتی ہے اسلئے نمازی متقی کا چہرہ منور رہتا ہے بے نمازی بد اعمالیوں میں مبتلا شخص کا چہرہ بےنور مرجھا ہوا دکھتا ہےہمارے آقا شہنشاہ دوجہاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا عدوا ولا طیرا ولا ھامۃ ولا صفر۔ ایک کی بیماری دوسرے کو لگی اسکی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
بدفالی بد شگونی بھی غلط ہے بلی راستے میں سامنے آگئی تو کچھ برا ہوگا سمجھ کر روک جانا یہ بھی غلط ہے ۔پرندہ کی اڑنے سے غلط سوچنا یہ بھی غلط ہے ۔اور صفر کا مہینہ منحوس سمجھنا بھی غلط ہے ۔بعض لوگوں کے غلط رسومات اسلام کے نام پر شروع کرنے والے ہوں گئے اسلئے ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صفر کو صفرالمظفر فرمایا کامیابی کا مہینہ قرار دے دیا خیر کا مہینہ قرار دیا۔
اسلام کےدشمنوں نے مسلمانوں کے ایمان کو خراب کرنے کیلئے من گھڑت باتوں میں الجھادیا کہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اسکے تیرہ دن بڑےخراب ہیں ان دنوں میں دلھا دلھن کو الگ الگ رکھنا ہے اور اس مہینے کے آخر بدھ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ٹھیک ہوئی اسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہریالی میں تفریح کو گئے ہم بھی ہر سال گھروالوں کو لیکر پارکوں میں جانا اسکو اسلام سمجھ گئے ہیں ۔
یہ سب عقیدہ کی وجہ سے ایمان چلا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ صفر خیر کا مہینہ ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت خراب صفر کے مہینے کے آخر میں ہوئی ربیع الاول میں پردہ فرمائے بعض لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت خراب ہونے کی ابتداء کو آخری چہارشنبہ کی خوشی مناتے ہیں دراصل آپﷺکی رحلت کی ایام کی ابتداء کی خوشی ہے۔اللہ سارے عالم کے مسلمانوں کو راہ راست پر چلنے کی توفیق دے ۔آمین