واقعہ کا فیس بک لائیو۔ پرنسپل اور 11 طلباء کے خلاف مقدمہ درج
رانچی: یکم؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
اگر ہم تعلیم کی بات کر یں‘اسکول کا لج کی بات کر یں تواستاد کا ایک بہت بڑا مقام ہے ۔جہاں استاد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے ، وہیں طالبات کو بھی یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ وہ اپنے استاد کا ادب واحترام کر یں استا دایک ایسا رہنما ہے جو لوگوں کو گمراہی سے نکال کر منزل کی طرف رہنمائی کر تا ہے
۔ جس طرح ماں باپ کا کردار اہم ہے کیونکہ وہ اپنی اولاد کی جسمانی طور پر اس کی صحت اس کے نشونما کاخیال رکھتے ہیں اسی طرح استاد اپنے شاگرد کی روحانی تربیت کا انتظام اور احترام کرتا ہے‘ ایسے میں استاد کی تعظیم و احترام شاگرد پر لازم ہے کہ استاد کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے ‘ لیکن فی زمانہ طالب علموں کے اخلاقی معیار میں گروٹ آچکی ہے ۔
آئے دن ٹیچروں کے ساتھ بدتمیزی کے واقعہ اخبارت اور خبروں کی زینت بن رہے ہیں ۔اکثر واقعات میں اساتذ ہ کی جانب سے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات رونما ہوتے ہیں ‘ جھارکنڈ کے دمکا میں ایک ایسا ہی چونکا دینے اور محو حیرت کردینے والا واقعہ پیش آیا ہے
تفصیلا ت کے مطا بق جھارکھنڈ کے دمکا میں ایک ریاضی کے استاد اور رہائشی اسکول کے ایک کلرک کو مبینہ طور پر 9ویں جماعت کے پریکٹیکل امتحان میں مبینہ طور پر خراب نمبر دینے پر طلبہ کو درخت سے باندھ کر مارا پیٹا گیا اور اب درخت کو باندھنے کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، پولیس نے بتایاکہ ضلع کے گوپی کندر تھانہ علاقہ کے تحت چلنے والے ایک سرکاری شیڈولڈ ٹرائب رہائشی اسکول میں پیش آیا۔
https://twitter.com/Namanjoshi231/status/1564881077680095237
یہ تمام طلباء پریکٹیکل امتحانات میں کم نمبروں کی وجہ سے فیل ہوئے تھے جس سے ناراض ہو کر انہوں نے ٹیچر کو باندھ کر مارا پیٹا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہورہی ہے طلباء کا الزام ہے کہ ٹیچر نے انہیں جان بوجھ کر کم نمبر دئیے جس کی وجہ سے وہ فیل ہو گئے۔
اس سے ناراض طلباء نے ٹیچر، کلرک اور چپراسی کو سکول کے آم کے درخت سے رسی سے باندھ کر خوب مارا۔ طلباء نے اس پورے واقعہ کا فیس بک لائیو بھی کیا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ڈی ڈی سی نے معاملہ کی جانچ کرنے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ہے۔
اس معاملہ میں اسسٹنٹ ٹیچر کمار سمن اور کلرک سونیرام چوڑے کی تحریری درخواست پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں اسکول کے پرنسپل رام دیو کیسری سمیت 11 طلبہ کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔
گوپی کندر پولیس اسٹیشن میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسکول کے پرنسپل کے اکسانے پر ہی طالب علموں نے کمار سمن اور سونیرام چادرے کے ساتھ مارپیٹ کی جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل (جے اے سی) نے 26 اگست کو نویں جماعت کا نتیجہ جاری کیا تھا، جس میں شیڈول ٹرائب ریذیڈنشیل ہائی اسکول گوپی کندر کے 11 طلباء فیل ہوئے ۔
اس سے ناراض ہو کر طلباء نے پیر کو ایک گروپ بنایا اور اسکول ٹیچر کمار سمن اور کلرک سونیرام چودھری کے پاس پہنچ کر پریکٹیکل میں دیئے گئے نمبروں کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے۔ وہ جوابی بیاض دکھانے پر اصرار کر رہے تھے۔پیپر دکھانے سے انکار پر طلباء بے قابو ہو گئے اور درخت سے بندھاپیپر دکھانے سے انکار پر دونوں کو مارنا شروع کر دیا ۔
اس وقت اسکول چپراسی اچانتو ملک بھی اس موقع پر موجود تھا۔ مشتعل طلباء نے تینوں کو اسکول کے احاطہ میں آم کے درخت سے باندھ کر مارا پیٹا۔طلبہ کا الزام ہے کہ جان بوجھ کر کم نمبر دئیے گئے ہیں۔ بعد ازاں استاد کے کہنے پر طلبہ نے اسے چھوڑ دیا۔
ویڈیو میں طلبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اساتذہ نے بچوں کے مستقبل سے کھیلا ہے۔ اسے لائیو بنائیں، ویڈیو کو وائرل کریں۔ڈی ڈی سی دمکا کے ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر (ڈی ڈی سی) نے کہا کہ اس کی جانچ ضلع ویلفیئر آفیسر اور گوپیکندر کے بی ڈی او کریں گے۔ طلباء کے الزام کی بھی جانچ کی جائے گی۔
ڈی ڈی سی نے کہا کہ وجہ کچھ بھی ہو، ٹیچر اور دیگر کی پٹائی کا معاملہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں قصوروار طلباء کی نشاندہی کی جا رہی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی