خودکشی اور ذہنی تناؤ "موت پریشانیوں کا حل نہیں

تازہ خبر دلچسپ؍معلوماتی خبرین
ـ”World Suicide Prevention day”
ڈاکٹرسُمیرہ یاسمین
ماہر نفسیات‘
ایس آر ونپرتی (تلنگانہ)
ہر سال ستمبر 10 تاریخ کو ورلڈ سو سائیڈ پر یونشن ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر میں خودکشی اور ذہنی تناؤ یا دماغی تناؤ پر روشنی ڈالنا چاہتی ہوں انسان جب مشکلات سے دوچار ہوتا ہے اور جب وہ تمام تر کوششوں کے باوجود حل نہیں کر پاتا تب وہ ذہنی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی پریشانی چاہنے کے باوجود کسی کو بتا نہیں پاتا ۔ تب وہ اکیلے پن کا شکار ہو جاتا ہے ۔اکیلے پن میں اُسکو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کرے تو کیا کرے۔
 ہر نظریہ سے سوچ سوچ کروہ (دماغی) ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ وہ مرض علاج نہ کروائیں تو بڑھتا جاتا ہے اور وہ کئی اُلٹے سیدھے حرکات کرنے لگتا ہے ۔ کبھی تو نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ اُسکو موت ہی آسان حل سمجھ میں آتا ہے ۔
 کئی بار تو (دماغی ) ذہنی تناؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ خود کشی کر بیٹھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہو جسم کے ہر اعضا میں کوئی نہ کوئی بیماری موجود ہے۔ جو ہماری لا پرواہی کی وجہ سے بڑھتی جاتی ہے ۔ جسم کے ہر اعضا کی طرح دماغ بھی ایک عضو ہے، اُسمیں بھی حالات کی وجہ سے کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جس کا ہمیں علاج کروانا ضروری ہے علاج کروانے پر عام بیماریوں کی طرح یہ بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔
لوگ ہر بیماری کا علاج کرواتے ہیں۔ لیکن اگر ذہنی بیماری ہو جائے تو ڈاکٹر کے پاس جانے کتراتے ہیں پھر ڈرتے ہیں یہ سونچ کرکہ اگر ہم دماغی ڈاکٹر کے پاس جائیں تو لوگ کیا سوچیں گے لوگ ہم کو پاگل کہیں گے ۔ یہ سوچ کر ڈاکٹر کے پاس جانے سے  خاموش ہو جاتا ۔ یہی سوچ بہت بڑی غلطی ہے ۔اور یہ سوچ ہی بالکل غلط ہے ذہنی طور پر جو بیمار ہوتا ہے وہ کوئی پاگل نہیں ہوتا ۔
 عام بیماریوں کا جس طرح علاج ہوتا ہے اُسی طرح (دماغی) ذہنی بیماری کا بھی علاج ہوتا ہے ۔ جب ہم دوسری بیماریوں کا علاج کروانے نہیں شرماتے تو دماغی علاج کے لیے ہی کیوں شرم آتی ہے ؟ کیوں دوسروں سے چھپانا چاہتے ہیں ۔ ایسا کرنا بہت بڑی غلطی  ہے یہی غلطی پریشانیوں کا اور بیماری بڑھانے کا سبب بنتی ہے ۔ جیسا ہم عام بیماری دوسروں کو بتاتے ہیں اسی طرح ذہنی بیماری ہو تو اپنے والدین اور گھر والوں کو بتائیں اور علاج کروالیں ۔ انشا الله جلد ٹھیک ہو جائیں گے
 کونسی بھی بیماری ہو‘ دوا اور دعا دونوں کی ضرورت ہے۔ علاج کروانا سنت ہے چاہے وہ جسمانی بیماری ہو یا ( دماغی) ذہنی بیماری ۔ موت پریشانیوں کا حل نہیں ہے وہ تو ایک دھوکہ ہے جو لوگ اپنے آپ کو دیتے ہیں۔ اور اپنوں کو زندگی بھر کی تکلیف اور غم دیگر چلے جاتے ہیں ۔
 اگر کسی کو ذہنی بیماری ہو تو شروع میں ہی دماغی( ذہنی) ڈاکٹر سے رجوع ہوں انشاء الله ادویات اور سائیکو تھراپی سے ٹھیک ہو جائیں گے اگر علاج نہ کروائیں تو دوسرے امراض  کی طرح یہ مرض بھی بڑھے گا اور اُسکا نتیجہ بھی دوسری بیماریوں کی طرح خطرناک نکلے گا
 صلاح اگر ہم وقت پر بغیر شرمائے کہ (دماغی) ذہنی بیماری کا علاج کروائیں تو تھوڑے سے وقت میں کم ادویات اور تھوڑی سی سائیکو تھراپی سے ٹھیک ہو جائیں گے انشاء الله
الله تعالی سورہ نساء آیت نمبر 29 میں فرماتے ہیں کہ’’ ” اپنے آپ کو ہلا ک مت کرو‘ بیشک اللہ تم پر مہربان ہے‘‘
 سورہ طلاق آیت نمبر 3 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں دو جس نے اللہ پر بھروسہ کیا اُسکے لئے اللہ کافی ہے
 اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ سورة الشرح آیت نمبر 6 میں ” بیشک مشکل کے ساتھ "”آسانی ہے
الله تعالی فرماتے ہیں سورہ رعد کی آیت نمبر 28 میں اللہ کی یاد سے دل سے آرام پاتے ہیں
اسی لیے کوئی بھی بیماری ہونا اُمید نہ ہوں دعا کرتے ہوئے علاج کروائیں ۔ انشاالله رحمن کے رحم و کرم سے جلد شفا یاب ہو جائیں گے