نظام آباد26؍جنوری
از قلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
جمعیۃ علماء وادارہ مظہرالعلوم ٹرسٹ ضلع نظام آباد کے زیراہتمام 72/ویں یوم جمہوریہ تقریب کاپرجوش ووالہانہ پروگرام بتاریخ 26/جنوری 2021بمقام دفتر جمعیۃ علماءنزدمسجد عبداللہ بودہن روڈ نظام آباد تلنگانہ پر انعقاد عمل میں آیا پرچم کشائ بوقت صبح ساڑھے نو بجےعمل میں آئی

ملک کو آزاد ہوے آج پورے 74/سال مکمل ہورہے ہیں جہاں آزادی کے بعد سے مکمل طور پر جمہوریت کو برقرار رکھا گیا اور اس ملک کے ہر باشندہ کو یکساں حقوق آزادی حاصل رہے ہرموڑ پر دستور کی پاسداری کی گیء ہندو مسلم سکھ عیسائ سب باہمی اخوت ومحبت کے ساتھ اپنی زندگی گذارتے رہے کسی کو کسی پر فوقیت وبرتری نہیں دی گیء ملک کی آزادی میں سب ہی کا خون شامل رہا کسی کو وفادار اور غدار سے یاد نہیں کیا گیا بلکہ سب کے پیش نظر ملک کا آئین اور دستور ہی تھا ہمیشہ اخوت وبھای چارہ کو فروغ دینے اور پورے ملک میں گنگا جمنی تہذیب ورواداری کے ترانے گنگناتے ریے بلالحاظ مذہب وملت خیرسگالی اور خیر خواہی اسی طرح رفاہ عامہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ امداد باہمی کا طریقہ اپنایا جاتارہا ایک دوسرے کی خوشی وغم میں سب برابرکے شریک رہےآپسی پیار ومحبت کے گیت گاتے اور سناتے رہے ایک دوسرے کی عبادات ومعابد کا تقدس واحترام کیا جاتارہا شادیوں میں شرکت کی خوشیاں اور غموں میں دکھ درد اور تسلیوں کا سامان بھی ہوتا رہا لیکن برا ہوان فرقہ پرست وتعصب پسند جماعتوں تنظیموں اور افرادکا جنہوں نے سی اےاے .این پی آر اور این آر سی جیسے کالے قوانین کا سہارا لے کر ملک کو بانٹنے کا کام شروع کیا کبھی بابری مسجد اور رگام مندر کاڈھونگ رچاکرہندومسلم سکھ عیسائ کو آپس میں لڑانے اور جدا کرنے کا پلان بنایا ایک نئ پالیسی بناکر ملک کے سمویدھان کو اپنی عددی اور حکومتی طاقت کااستعمال کرکے بدلنے کی سازش کی اس ملک بھارت کے باشندگان کو ایک دوسرے کے خلاف اکسا کر جذبات کے دھارے میں بہاکر اپنی حکومت بچانے کا منصوبہ بنایا عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کو ڈھاکر لڑاؤ اور حکومت کرو والی پالیسی بنای اپنے نفرت انگیز بیانات میں ہندو کو مسلم کے اور مسلم کو ہندو کے خلاف لاکھڑا کرنے کی چال چلی غرضیکہ ہر اعتبار اس سونے کی چڑیا اور جنت نشاں ملک کو انتہای پستی اور ذلت کی آخری حد تک ڈھکیل دیا دنیا کے دیگر ممالک میں ایک امتیازی حیثیت کے حامل جمہوریت اور ترنگا والے ملک کو ہندوتوا اور ہندوراشٹر ہی نہیں بلکہ ایک قسم کی کٹرتا کا علمبردار بنادیا اور یہاں کے سیکولرزم کی آج دھجیاں بکھیر دیںآج ضرورت ہے اس بات کی کہ اس انتہاء پسندی کے خلاف علم بغاوت بلند کریں اور جمہوریت کی بقاء وتحفظ کے لےء اپنے دستور اور آئین کو بچانے کے لےء ملک کے ہرہر باشندہ کو لازم ہیکہ وہ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرکے ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاے اور ان کے حوصلوں اور جوانمردی کے تذکرے کےء جائیں ملک کےہربچہ بچہ کو ہمارے سمویدھان اور قانون سازوں سے واقف کرایا جاے اور انہیں آمادہ کیا جاے کہ ملک کی سلامتی اور امن وامان کی بقاء کے لےء ہم خون کے آخری قطرہ کے بہنے تک اس ملک کی حفاظت کریں گے اسی غرض سے آج 26/جنوری2021کو72/ویں یوم جمہوریہ کے موقعہ پر جگہ جگہ ترنگا لہراے گےء ملک کی عظمتوں کو سلام پیش کرکے شہیدان وطن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوے پرچم کشای کی گئ جمعیۃ علماء نظام آباد کے ذمہ داران نے بھی حسب سابق پرشم کشای کرتے ہوے اس موقع پرضلع نظام آباد کی عظیم ترین علمی وتجربہ کار شخصیت استاذالعلماء شفیق الملت مولانا سید ولی اللہ قاسمی صاحب علیہ الرحمۃ کویادکرتے ہوے ملک وملت کے کی جانے والی ان کی خدمات کو سراہا اور ان کے لےء دعاء مغفرت کی گیءاسی طرح آج کسانوں کو جن قوانین سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس کو فوری واپس لینے کا حکومت وقت سے مطالبہ کیا گیا وطن کے لےء قربانی دینے والے جوانوں اور حکمرانوں کو بھی یادکرکے دعاء کی گیء کہ اللہ پاک دشمنوں کی بری نظر اور فرقہ پرستوں سے ملک اور ملک کے ہر باشندہ کی حفاظت فرماے
مسائل کیسے بھی ہوں تاقیامت رہ نہیں سکتے
یہ ظالم ظلم کی بن کر علامت رہ نہیں سکتے
ہے جن کا عزم ہم کو چین سے جینے نہیں دیں گے
وہ یہ بھی جان لیں خودبھی سلامت رہ نہیں سکتے

