’’ کانگریس چھور، بی جے پی کوجوڑو ‘‘ کا نعرہ۔
نئی دہلی : 14؍ستمبر
(زین نیوز)
کانگریس پارٹی پورے ملک میں بھارت جوڑو مہم چلا رہی ہے۔ لیکن گوا میں پارٹی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ گوا میں کانگریس کے 11 میں سے 8 ایم ایل اے بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ گوا قانون ساز اسمبلی کے اراکین کی تعداد 40 ہے جس میں بی جے پی کے 20 ایم ایل اے ہیں، جب کہ کانگریس کے 11 ہیں۔ لیکن اب کانگریس کے 8 ایم ایل اے بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔
اسی وقت، کانگریس کے سابق ایم ایل اے مائیکل لوبو نے کہا ہے کہ ہم پی ایم مودی اور سی ایم پرمود ساونت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے’’ کانگریس چھور، بی جے پی کوجوڑو ‘‘کا نعرہ دیا ہے۔ آج کانگریس کے تمام باغی ایم ایل اے سی ایم پرمود ساونت سے ملاقات کر رہے ہیں۔
گوا میں کانگریس پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ریاستی کانگریس میں بڑا ٹوٹ پھوٹ ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے سال 2019 میں بھی کانگریس کے 10 ایم ایل اے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ اب ایک بار پھر کانگریس میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے جے ڈی یو کے کئی ایم ایل اے بھی بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مشن 2024 کے پیش نظر مرکزی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہی کانگریس نے ایک خاص حکمت عملی تیار کی ہے۔ اسی کڑی میں کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا شروع کی گئی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور سابق صدر راہل گاندھی نے پارٹی لیڈروں اور کارکنوں کے ساتھ کنیا کماری سے بھارت جوڑو یاترا شروع کی ہے۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کی بھارت جوڑی یاترا کو خاندان بچانے کی مہم قرار دیا ہے۔