قابل اعتراض ویڈیوز کی وائرل ہونے کے تمام افواہیں سراسر غلط اور بے بنیاد
ایس ایس پی موہالی
چندی گڑھ: 18؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
چندی گڑھ یونیورسٹی میں ہفتہ کی رات دیر گئے اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب طالبات کو معلوم ہوا کہ ان کی قابل اعتراض حالت میں ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ دراصل بتایا جا رہا ہے کہ یونیورسٹی کے ایک طالبہ نے قابل اعتراض حالت میں 60 طالبات کا ویڈیو بنایا اور اسے ایک نوجوان کے ساتھ شیئر کیا۔اس کے بعد نوجوان نے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا۔ فی الحال ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
یم ایم ایس بنانے کا معاملہ سامنے آتے ہی سینکڑوں طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اسی دوران طلباء نے مشتعل طلباء کو منانے آئی پولیس پر بھی برہمی کا اظہار کیا جس کے بعد پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ ہنگامہ کرنے والے طلباء کا کہنا ہے کہ واقعہ کی اطلاع یونیورسٹی انتظامیہ کو دی گئی، اس کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
Punjab | Chandigarh University (CU) students held a protest last night after alleged 'leaked objectionable videos' of women students went viral
Protesting students have alleged loss of life & injuries related to this incident. Police version awaited pic.twitter.com/px1O0SDYaF
— ANI (@ANI) September 18, 2022
بتایا جار ہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خودکشی کی کوشش کرنے والی کئی طالبات کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ یہاں خودکشی کی کوشش سے یونیورسٹی انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔ الزام ہے کہ انتظامیہ نے ویڈیو بنانے والے طالبہ کو ایک کمرے میں بند کر رکھا ہے، تاکہ طالب علم پر حملہ نہ ہو۔ وہیں پولس انتظامیہ بھی اس معاملے میں کچھ بتانے سے کترارہی ہے۔ اس وقت چندی گڑھ یونیورسٹی میں ہنگامہ جاری ہے۔
چندی گڑھ یونیورسٹی کا معاملہ زور پکڑ گیا ہے لیکن ایس ایس پی موہالی وویک شیل سونی کے بیان کے بعداس معاملہ میں نیا موڑ آیا ہے ۔ایس ایس پی موہالی وویک شیل سونی نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس موجود تمام معلومات اور ویڈیوز کی فرانزک جانچ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم نے اب تک کی تحقیقات میں واضح کیا ہے کہ جو ویڈیو ہے وہ ان کی ہے، اس کے علاوہ کسی اور کی ویڈیو نہیں ہے۔
#WATCH कल शाम मामला सामने आया था कि एक लड़की ने वीडियो बनाया था। बाद में अफवाह फैली की और भी वीडियो बनाए गए हैं। यहां के कुछ छात्रों ने प्रदर्शन किया। मामले में FIR लिखी गई है। आरोपियों को पकड़ा जा चुका है, किसी की मृत्यु नहीं हुई है: चंडीगढ़ विश्वविद्यालय मामले पर मोहाली SSP pic.twitter.com/ulXQpwO9J6
— ANI_HindiNews (@AHindinews) September 18, 2022
اس معاملے پر چندی گڑھ یونیورسٹی کا بیان سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دیگر طالبات کی قابل اعتراض ویڈیوز شوٹ کرنے کی تمام افواہیں سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ کسی بھی طالب علم کی کوئی ویڈیو قابل اعتراض نہیں پائی گئی، سوائے ایک لڑکی کی جانب سے بنائی گئی خانگی ویڈیو کے جو اس کے بوائے فرینڈ کے ساتھ شیئر کی گئی تھی۔
یونیورسٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افواہیں ہیں کہ 7 لڑکیوں نے خودکشی کر لی ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ کسی لڑکی نے ایسا کوئی قدم اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ واقعے میں کسی لڑکی کو ہسپتال میں داخل نہیں کیا گیا ہے۔
چندی گڑھ یونیورسٹی ویڈیو لیک معاملے پر، پنجاب اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن منیشا گلاٹی نے کہا ہے کہ اس ویڈیو کو وائرل کرنے والی لڑکی پر فوری کارروائی کرتے ہوئے حکام نے دفعہ 354 (C) IT کے تحت مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کی ہے۔ اس معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی
چندی گڑھ یونیورسٹی کا معاملہ زور پکڑ رہا ہے۔ اس معاملے پر مسلسل تاثرات مل رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے معاملے کو سنگین قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر وال پر لکھا کہ چندی گڑھ یونیورسٹی میں ایک لڑکی نے کئی طالبات کی قابل اعتراض ویڈیوز ریکارڈ کر کے وائرل کر دی ہے۔
یہ بہت سنگین اور شرمناک ہے۔ اس میں ملوث تمام مجرموں کو سخت ترین سزا ملے گی۔ مظلوم بیٹیوں کا حوصلہ ہے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ سب صبر سے کام لیں۔
قابل اعتراض ویڈیو کے لیک ہونے پر پنجاب سٹیٹ کمیشن فار ویمن کی چیئرپرسن منیشا گلاٹی نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے، بہت افسوسناک ہے۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ میں تمام طلبہ کے والدین کو یقین دلانے کے لیے حاضر ہوں کہ ملزمان کو بخشا نہیں جائے گا۔
پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا ہے کہ چندی گڑھ یونیورسٹی معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جو بھی قصوروار ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ افواہوں سے گریز کریں۔