تمباکو نوشی، شراب نوشی اور جنک فوڈ بنیادی وجہ!
حیدرآباد:۔4؍ اکتوبر
(زین نیوز بیورو)
ملک میں کینسر سے متاثرہ لوگوں اور اس سے ہونے والی اموات کی تعداد میں سال بہ سال اضافہ ہوتے ہوئے راجیہ سبھا کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے کہا ہے کہ کینسر کے علاج کی سہولتیں ناکافی ہیں۔ کمیٹی نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے چند سفارشات پیش کیں۔ ہر سال، ملک میں کینسر کے 14 لاکھ نئے کیسس رجسٹر ہوتے ہیں اور 50 سرکاری دواخانوں اور 200 خانگی دوخا نیکینسر کے بڑھتے ہوئے کیسس کا علاج کرنے کیلئے کافی ناکافی ہیں۔
کمیٹی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں دیہی علاقوں میں کینسر رجسٹریشن مراکز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ وہ اس وقت صرف شہروں میں موجود ہیں۔ اس کا اضافہ خاص طور پر تلنگانہ، آندھرا پردیش، راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور اڈیشہ میں کیا جانا چاہیے، جہاں کینسر کے کیسس بڑھ رہے ہیں۔
جب کینسر سے ہونے والی اموات سے متعلق انشورنس کلیم کئے گئے تو یہ بات سامنے آئی کہ ہر پانچ میں سے ایک موت 26 سے 45 سال کی عمر کے افراد کی ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ نوجوان بھی اس خوفناک بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ سرکاری دواخانوں کے مقابلے خانگی دوخانوںمیں کینسر کے علاج کے اخراجات تین گنا زیادہ ہیں۔
کینسر کے علاج کیلئے داخل ہونے والے چالیس فیصد لوگوں نے اپنی جائیدادیں بیچ دی ہیں یا علاج کے لئے قرض لئے ہیں، کمیٹی نے نشاندہی کی اور تجویز دی کہ بینکوں کو کینسر کے مریضوں کو طبی قرض فراہم کرنا چاہیے۔ اس نے یہ بھی تجویز کیا کہ ملک بھر کے بنیادی مراکز صحت میں ہفتہ میں دو بار کینسر اسکریننگ ٹسٹ کروائے جائیں۔
تلنگانہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ کینسر کا خصوصی علاج صرف سرکاری شعبہ کے ایم این جے ہاسپٹل میں دستیاب ہے اور آنکولوجی کا شعبہ صرف کاکتیہ میڈیکل کالج میں ہے اور یہ ناکافی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں کینسر سے اموات کی تعداد 2018 میں 24,788 سے بڑھ کر 2019 میں 25,408 اور 2020 میں 26,038 ہوگئی۔
اس تناظر میں یہ بتانا مناسب ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے عوام میں کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ ملک میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو اپنا طرز زندگی بدلنا چاہیے، تمباکو نوشی اور شراب نوشی اور غیر صحت بخش (جنک)کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے اور انہیں روزانہ 30 منٹ تک جسمانی ورزش کرنی چاہیے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے 33 فیصد کیسس سگریٹ نوشی اور شراب نوشی اور 33 فیصد غیر صحت بخش خوراک کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
ا