محمدﷺ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے

تازہ خبر تلنگانہ

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سارے عالم کے لیے رحمت بناکر بھیجا

چارمینار میں منعقدہ جشنِ عید میلادالنبی ﷺ تقریب وزیر داخلہ محمد محمود علی  کا خطاب

حیدرآباد:۔ 10/ اکتوبر
 (پریس نوٹ) 
حضور اکرم ﷺ نے اپنی 63 سالہ زندگی میں عالم انسانیت کو درس دیا ہے کہ انسانوں کو دونوں جہانوں میں کامیابی کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سارے عالم کے لیے رحمت بناکر بھیجا۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے چارمینار میں منعقدہ جشنِ عید میلادالنبی ﷺ تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔
 انہوں نے کہا کہ آج کا دن سارے عالم کے لیے بہت ہی اہمیت اور خصوصیت کا دن ہے۔ کیونکہ آج ہی کے دن سرکارِ دو عالم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ جب حضور اکرمﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ سر تا پا قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔
اللہ کے رسول ﷺ نے تعلیم حاصل کرنے پر کافی زور دیا ہے۔آگے کہا کہ حصول تعلیم کے مطابق ہی آپ ﷺ پر پہلی وحی اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ نازل ہوئی۔اس کے علاوہ کئی احادیث مبارکہ بھی موجود ہیں۔
 جن سے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مگر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہوں  نے کہا کہ ہماری قوم تعلیم میں کافی پیچھے ہے۔انہوں نے کہا کہ محمد رسول اللہﷺ ،اللہ کے آخری رسول ہیں۔نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا گیاہے۔ محمد محمود علی نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے رشتہ داروں، دوست و احباب اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کو اہمیت دی۔
سرکار دو عالم ﷺ نے تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپﷺ  نے کبھی بھی اپنے دشمنوں باالخصوص، مشرکین مکہ، یہودیوں اور عیسائیوں سے بدسلوکی نہیں کی اور نہ ہی جنگ کے لیے پہل کیا۔محسن انسانیت ﷺ معافی کو حد درجہ پسند کرتے تھے۔ اور اپنے دشمنوں کو ہمیشہ معاف کیا کرتے تھے۔
وزیر موصوف نے جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا کہ جنگ بدر کے بعد محمد ﷺ نے اسیران جنگ کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ جو قیدی غربت کی وجہ سے فدیہ ادا نہیں کر سکتے تھے اور پڑھے لکھے تھے انہیں دس مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے کے عوض رہا کر دیا گیا۔
یہ قیدی محمد ﷺ کے حسن سلوک سے اس حد تک متاثر ہوئے کہ ان میں سے بہت سے مشرف بہ اسلام ہوئے جن میں عباس بن عبد المطلب اور عقیل بن ابوطالب شامل تھے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم سب کو محمد ﷺ کی سیرت طیبہ کا گہرائی و گیرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ آپ ﷺ کی زندگی کو اپنی زندگیوں ڈھال سکیں۔اور دونوں جہاں میں کامیابی حاصل کرسکے۔آگے کہا کہ حضور اکرم ﷺ مہمانوں کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی میزبانی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے تھے۔
محمد محمود علی نے کہا کہ ہم سب کو آج کے مبارک دن یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم سب آپﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں گے۔ اور ہر حال میں ان تعلیمات پر سختی سے عمل کریں گے۔انہوں نے اپنی تقریر کی ابتداء  اقبال کے شعر  "کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں   یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں ” سے شروع کی جبکہ  "محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
  اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے” سے اختتام کیا۔اپنی تقریر کے آخر میں وزیر داخلہ محمد محمود علی نے امت مسلمہ کو عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد پیش کی۔اس اجلاس میں علماء، مشائخین، عوامی نمائندے اور غلامانِ رسول ﷺ کافی تعداد میں شریک تھے۔