نامز دعہدوں پر اقلیتوں خواتین اور اردو کی نمائندگی نظرانداز

تازہ خبر تلنگانہ
ہائر ایجوکیشن میں عنقریب وائس چیرمینس کے تقررات
 ازالہ کی اردوداں عوامی منتخب نمائندوں پر بھاری ذمہ داری
حیدرآباد:۔11؍اکٹوبر
 (زین نیوز ) 
تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے وائس چیر مین کے عہدوں کو بہت جلد پر کیا جائے گا۔ اعلی تعلیمی کونسل کی وائس چیرمینس کی حیثیت سے پروفیسر آ رلمبادری اور پروفیسر بی دینکلا رمنا کی میعاد میں گذشتہ سال جولائی کے دوران توسیع کی گئی تھی۔
جس میں یہ بتایا گیا کہ آئندہ احکامات تک وہ اپنے عہدوں پر برسر کار رہیں گے۔ تاہم حکومت نے سال گذشتہ اگست میں کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے چیرمین پروفیسر آر لمبادری کو انچارج چیرمین بنایا ۔ یہ عہدہ پروفیسر پاپی ریڈی کی میعاد کی تکمیل کے بعد مخلوعہ تھا جنہوں نے دو میعاد تک اس پر فائز رہے۔ فی الوقت پروفیسر آر لمبادری بحیثیت و اس چیر مین اعلی تعلیمی کونسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔
 پروفیسر وی وینکٹ رمنا کو جاریہ سال جولائی میں حکومت نے انچارج وائس چانسلر آئی آئی آئی ٹی باسرمقرر کیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی ساری توانائی وہ نئے عہدے پر مرکوز کررہے ہیں۔ تعلیمی حلقوں میں یہ باتگشت کر رہی تھی کہ کارگذار چیرمین پروفیسر آر لمبادری کو مستقل چیرمین بنایا جاۓ گا۔
 تاہم ایک سال کا عرصہ گذرنے کے بعد بھی مستقل چیر مین نہیں بنایا گیا۔ انہیں مستقل چیر مین نامزد کرنے کے بعد وائس چیرمین کی مخلوعہ جائیدادوں کو پر کیا جائے گا۔ جس کی خبر تیزی سے گشت کر رہی ہے۔اسی طرح پروفیسر وینکٹ رمنا کو آئی آئی آئی ٹی باسر کا مستقل وائس چیرمین بنانے پر بھی حکومت غور کر رہی ہے اگر ایسا کیا جاتا ہے تو وائس چیر مین کے اعلی تعلیمی کونسل میں دو عہدے مخلوعہ ہوں گے۔
 حکومت سنجیدگی کے ساتھ ان تمام باتوں پر غور کرتے ہوۓ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ مذکورہ خالی دونوں عہدوں کے لئے کئی ایک پروفیسر نے اپنی اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے جن میں جے این ٹی یو کے ری ایکٹر پروفیسر اے گووردھن رجسٹرار جے این ٹی یو پروفیسر سابق رجسٹرار پروفیسر یا دیا ، عثمانیہ یونیورسٹی کے ڈین آف انجینئرنگ پروفیسر آر کمار کنویز پی ای سیٹ پروفیسر ستیہ نارائنا کنویز لاء سیٹ منظور حسین پروفیسر جی وی ریڈی، پروفیسر شیوشنکر، پارتھا ساتھی اور دنیش کے نام حکومت کے پاس زیر خور ہے۔
تاہم یہاں بتانا ضروری ہوگا کہ تمام پروفیسرس انگریزی اور تلگو ذریعہ تعلیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اعلی تعلیمی کونسل میں علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سے خواتین اور اردو کی نمائندگی صفر رہی ہے۔ جبکہ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہے تو دوسری جانب خواتین کو ہر شعبہ میں 3 3 فیصد نمائندگی دینے کا بارہا حکومت نے اعادہ کیا ہے۔
 فی الوقت اردو ذریعہ تعلیم میں پروفیسرس کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے ۔حکومت اردو اور خواتین کے ساتھ اگر انصاف کرنا چاہتی ہے تو اسے اردو ڈری تعلیم کی خاتون پروفیسر کو بحیثیت رکن نامزد کر کے ایک ہی اقدام میں دونوں کمیوں کا ازالہ کرسکتی ہے۔
 جو تلنگانہ یونیورسٹی میں پرنسپل، ڈین فیکلٹی آف آرٹس چیرمین بورڈ آف اسٹیڈیز اور دوسرے عہدوں پر بھی خدمات انجام دے چکی ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن میں بھی اردو اور خواتین کی نمائندگی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
جبکہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اردو کے تعلق سے نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ وہ اس کو جائز مقام دینا چاہتے ہیں۔اب متعلقہ عہد یداروں اور عوامی منتخبہ نمائندوں بالخصوص اردو داں وزراء ومقننہ ارکان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے ازالہ کے لئے حکومت کو متوجہ کرے۔
 تقریبا بورڈس میٹنس ایکیڈیمیز میں اقلیتی عہدے مخلوعہ ہیں جن میں ڈائرکٹرس و ممبرس کی جائیداد میں قابل ذکر ہیں اقلیتی کمیشن کے چیرمین وممبری کئی دن سے خالی پڑا ہوا ہے۔
جبکہ اردواکیڈمی اور مینارٹیز فینانس کارپوریشن میں ڈائرکٹرس کو ہنوز نامزد نہیں کیا گیا البتہ چیرمینس کی نامزدگی عمل میں آئی ۔صرف حج و کمیٹی میں ڈائرکٹر و چیرمین کو نا مزد کیا گیا ہے۔ جبکہ کے سی آر نے میشنس بورڈس اور اکیڈیمیز میں اقلیتوں اور خواتین کو مناسب نمائندگی دینے کا بار ہا تیقن دیا ہے۔