آر ایس ایس جمہوریت مخالف تنظیم ہے

تازہ خبر مضامین
محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) 
فون نمبر :=9933598528 
یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ راسٹریہ سیوم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) پورے طور پر فارشسٹ سیاسی نظریات کی حامل تنظیم ہے، آر ایس ایس جمہوریت کی بجائے آمریت کی حامی رہی ہے، تاریخی شواہد سے یہ واضح ہے کہ اس کے رہنماؤں نے ہٹلر اور مسولینی کے قومی و سیاسی نظریات سے براہ راست استفادہ کیا ہے، اور ان سے بیحد قریبی رشتہ رہے ہیں، ان کے بڑے بڑے لیڈروں نے اٹلی اور جرمنی جاکر فاشزم کی تعلیم و تربیت حاصل کی ہیں ۔
چنانچہ ہندوسماج کو فوجی تربیت دینے کی ضرورت و اہمیت کو انھوں نے اٹلی و جرمنی کے ماڈلوں کو دیکھنے کے بعد ہی محسوس کیا اور آج ملک میں اس کی شاکھاؤں کا جو جال پھیلا ہوا ہے، وہ درحقیقت اسی فاشسٹ ذہنیت کی آبیاری کرتے ہیں اور انہی شاکھاؤں کے ذریعہ ہندو فاشزم کے زہریلے جراثیم پورے ملک میں نئی نسل کے اندر سرایت کئے جاتے ہیں۔
  آر ایس ایس کا قیام 1925 میں کیشو رام بلی رام ہیڈگیوار کی جانب سے ناگپور میں عمل میں آیا ۔ اس کا مقصد ہندوؤں کو متحد کرنا اور بھارت کو ایک ہندو ملک میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کے لئے آر ایس ایس نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں درجنوں تنظیمیں قائم کیں۔  ڈاکٹر مہیپال سنگھ راٹھور کا کہنا ہے کہ "آر ایس ایس کا قیام ہندوتوا نظریات کو پروان چڑھا کر بھارت کے سیکولر تصور کو ختم کرنا اور اسے ایک ہندو ملک میں تبدیل کرنا ہے” ۔
  ڈاکٹر مہیپال سنگھ راٹھور مزید کہتے ہیں کہ "آر ایس ایس کے کارکنوں کو جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کی تربیت دی جاتی ہے۔ جسمانی تربیت میدانوں میں دی جاتی ہے جسے شاکھا کہتے ہیں۔ اس تربیت کے دوران آر ایس ایس میں شامل ہونے والے رضاکاروں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے اور دوسروں کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہے، انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی پہلے ہندو تھے جنہوں نے بعد میں مذہب تبدیل کیا”۔
 ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والوں سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ بی، جے، پی کے بانی ڈاکٹر شیاما پرشاد مکھرجی نے جب نہرو کابینہ سے مستعفی ہوکر ایک قوم پرست پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا تو انھوں نے اس وقت کے آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک گوروجی ہی سے کارکن مانگے تھے
چنانچہ انہیں سویم سیوکوں کو لے کر ڈاکٹر شاما پرشاد مکھرجی نے باضابطہ طورپر بھارتیہ جن سنگھ کی تشکیل کی جس کے وہ خود صدر بنے اور پنڈت دین دیال اپادھیائے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے۔ بعد میں کشمیر آندولن کے دوران گرفتار ڈاکٹر مکھرجی کی جیل میں موت واقع ہوگئی تو ایسا لگتا تھا کہ یہ نوازائیدہ پارٹی دم توڑ دے گی تو اس وقت آر ایس ایس کے سویم سیوکوں ہی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اس پارٹی کو زندہ رکھنے اوراسے بڑھانے کی بھرپور کوشش کریں۔
بی جے پی کی ابتدائی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس کا جنم آر ایس ایس ہی کی کوکھ سے ہوا ہے اور آر ایس ایس بھی اسے اپنی ہی پارٹی مانتی ہے۔ چنانچہ آر ایس ایس کے اشاعتی ادارہ سروچی پرکاشن سے شائع کتاب ”آر ایس ایس ایک تعارف“ میں جن 30 تنظیموں کو یکساں نظریاتی تنظیم بتایا گیا ہے اس میں ایک نام بی جے پی کا بھی ہے۔
 ڈنمارک کے اسکالر تھامس بلوم ہینسن نے اپنی کتاب، دی سیفرن ویو ڈیموکریسی اینڈ ہندو نیشنلزم ان انڈیا، میں لکھا ہے کہ” آر ایس ایس کو جمہوری اقدار میں صرف برائے نام دلچسپی ہے، یہ اپنے قیام سے لے کر اب تک انڈیا کو ‘ہندو راشٹر’ یعنی ہندو ملک بنانے کے مشن پر لگی ہوئی ہے، وہ ہندوازم کو مذہب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ کہتی ہے” ۔
  سینیئر صحافی انل یادو کے مطابق "عملی طور پر یہ مسلم اپیزمنٹ، تبدیلی مذہب، گوکشی، رام مندر، کامن سول کوڈ جیسے مذہبی معاملوں پر سرگرم عمل رہتی ہے جو اکثر فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بنتے ہیں اور لا تعداد رپورٹوں کے مطابق اکثر اس تنظیم پر فسادات میں شرکت کے الزامات لگتے رہتے ہیں” ۔
  وکی پیڈیا میں درج ہے کہ” کس طرح ہیڈگوار نے 1927 میں مسلمانوں کے خلاف 100 سویم سیوکوں کو تیار کیا تھا اور چار ستمبر کو لکشمی پوجا کے دن مسجد کے سامنے سے ڈھول باجے کے ساتھ جلوس لے جانے کی کوشش کی تھی اور جب مسلمانوں نے انھیں روکا تو آر ایس ایس کے کارکن تیار تھے اور انھوں نے مسلمانوں کو اس علاقے کو چھوڑنے پر مجبور کیا”۔
 ‘ہندوتوا’ نامی کتاب کے مصنف اور آر ایس ایس کے دوسرے اہم سربراہ ایم ایس گولورکر نے اپنے ایک خط میں ذکر کیا ہے کہ انھوں نے کس طرح ناگپور کے دنگوں میں اپنے ہاتھ کا استعمال کیا تھا، ان کے متعلق کتاب لکھنے والے پروفیسر جیوتیرمے شرما کا کہنا ہے کہ ‘ناگپور میں تو اپنے ہاتھوں کا بہت لوگوں نے استعمال کیا،
اگر آپ ان کے نظریے کے حامی ہیں تو آپ انھیں غیر گاندھی انقلابی کہیں گے اور اگر آپ ان سے اتفاق نہیں رکھتے تو آپ انھیں فسادی کہیں گے۔” آر ایس ایس کے ہندو قوم پرست نظریے کی بنیاد بنکم چندر چیٹرجی کی تصانیف اور لالہ لاجپت رائے، وی ڈی ساورکر اور بال گنگا دھر تلک جیسے ہندو مہاسبھا کے رہنماؤں کی تصانیف میں بھی صاف نظر آتی ہے۔
 ان ہی وجوہات کی بنا پر اس تنظیم پر کئی دفعہ پابندی لگ چکی ہے لیکن اس کے اثر و رسوخ اور دباؤ پر پابندی ختم بھی کی گئی ہے۔
 آر ایس ایس پر سب سے پہلے پابندی برٹش انڈیا میں صوبہ پنجاب کے وزیراعظم ملک خضر حیات ٹوانہ نے لگائی تھی۔ ملک خضر حیات یونینسٹ پارٹی کے پرائم منسٹر تھے۔
انہوں نے 24جنوری1947ء کو آر ایس ایس پر پابندی لگائی جو 28جنوری 1978 کو محض چار دن بعد ہٹا دی گئی، دوسری پابندی مہاتما گاندھی کے قتل پر لگائی گئی، گاندھی جی کا قاتل”نتھو رام گوڈسے” اسی جماعت کا ممبر تھا، تیسری پابندی بابری مسجد کے مسمار کئے جانے پر لگائی گئی لیکن پھر پابندی ختم کردی گئی۔
  ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو آر ایس ایس کی نقل و حرکت پر ہمیشہ شک رہا ۔ جب آر ایس ایس کے صدر گوالکر نے نہرو کو درخواست لکھ کر آر ایس ایس پر عائد پابندی ہٹانے کی گزارش کی تو نہرو نے اس کو جواب دیتے ہوئے لکھا۔”حکومت کے پاس ثبوت ہے کہ آر ایس ایس کی کارروائیاں قوم اور ریاست کے خلاف ہیں۔
کیونکہ وہ گروہی ہیں۔ ہمارے پاس بڑی شہادتیں ہیں اور اطلاعات موجود ہیں۔ جن کے ذریعے ہم یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جس کی حیثیت ایک پرائیویٹ فوج جیسی ہے اور جو بلاشک عین جرمنی کی جماعت نازی ازم کی سطور پر کام کررہی ہے۔ بلکہ فنی طور پر بھی اپنا تنظیم کو نازی ازم کے طور طریقوں سے چلا رہی ہے۔”
ایسے متعدد ریکارڈ محفوظ ہیں جن میں ہٹلر اور مسولینی سے ان کے تعلقات کے ثبوت ہیں۔ اس ریکارڈ کے مطابق سنگھ کے بانی ہیڈگیوار کے قریبی ساتھی، دوست اور مشہور ہندووادی بی. ایس منجے ہندوستان کے اولیں لیڈر ہیں جن کا اٹلی وجرمنی کے ان فاشسٹ حکمرانوں سے رابطہ ہوا۔ فروری، مارچ 1931/ میں گول میز کانفرنس سے واپسی پر منجے نے اٹلی کا سفر کیا، اور وہاں کے اہم فوجی اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا بغور جائزہ لیا، اوراٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی سے بھی ملاقات کی۔
نیز اٹلی میں فاشزم کی تعلیم و تربیت کے لئے جو تنظیمیں اس وقت سرگرم عمل تھیں انہیں بھی قریب سے دیکھا، چناں چہ منجے اپنی ڈائری میں ان تنظیموں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” تنظیم کا ڈھانچہ اوراس کا نظریہ مجھے پسند آیا اور میں اس سے بیحد متاثر ہوا۔ (اس موقع پر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اٹلی کی فوجی تنظیم نو کے لیے مسولینی نے خود اس تنظیم کو تشکیل دیا تھا) آگے منجے لکھتے ہیں فاشزم کا نظریہ کس طرح لوگوں کو اتحاد کے بندھن میں باندھ سکتاہے اس کا پتہ اس تنظیم کے دیکھنے سے اچھی طرح لگ جاتاہے۔
ہندوستان، خاص کر ہندو بھارت کو بھی ایسی تنظیموں کی ضرورت ہے، ڈاکٹر ہیڈگیوار کی قیادت میں ہماری تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھی اسی طرز پر بنی ہے۔ ڈاکٹر ہیڈگیوار کی اس تنظیم کی ترقی اور پورے مہاراشٹر اور اس سے باہر اس کی توسیع کے لیے میں تاحیات سرگرم عمل رہوں گا”.
 یہ بات اہل نظر سے مخفی نہیں ہے کہ آر ایس ایس اور مسولینی کی تنظیم کے طریق کار میں کافی حد تک یکسانیت و مماثلت پائی جاتی ہے۔ مسولینی کی تنظیم میں 16 سے 18 سال کے لڑکے لڑکیاں شامل کی جاتی ہیں۔ ان کی ہفتہ وار میٹنگیں ہوتی ہیں جہاں وہ لوگ جسمانی ورزشیں اور نیم فوجی مشقیں کرتے ہیں۔ آر. ایس. ایس کی شاکھاؤں میں بھی یہی سب کچھ ہوتا ہے۔
منجے اپنی ڈائری میں یہ بھی انکشاف کرتے ہیں کہ”19/مارچ 1930 / کو سہ پہر 3 بجے میں مسولینی سے ملنے گیا۔ دروازہ تک آکر انھوں نے میرا پرتپاک استقبال کیا۔ دوران گفتگو انھوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا میں نے ان کی یونین سٹی دیکھی، میں نے بتایا کہ میں ان کی قائم کردہ تنظیم سے کافی متاثر ہوا ہوں، اور میں مانتا ہوں کہ اٹلی کو ایسی تنظیموں کی ضرورت ہے اور ہمارے ملک ہندوستان کو بھی۔ میں نے انہیں مقاصد کے تحت اپنے ملک میں بھی ایسی تنظیمیں قائم کی ہیں”۔
 ہندوستان واپس آکر منجے نے اپنے دوست ہیڈگیوار کو کافی متاثرکیا جس کے نتیجے میں آر ایس ایس نے اپنے پلیٹ فارم سے منجے کو فاشسٹ نظریات کی اشاعت و تبلیغ کی کھلی چھوٹ دیدی چناں چہ اسی سلسلہ میں 31 جنوری 1934 کو ”فاشزم اور مسولینی“ کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس کی صدارت خود ہیڈگیوار نے کی تھی اور منجے نے اس میں افتتاحی تقریر کی تھی۔
 گزشتہ دنوں وکی لیکس کے خفیہ ڈاکومنٹس کے شائع ہونے پر یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ راہول گاندھی نے انڈیا میں امریکہ کے سفیر ٹموتھی رومر سے جولائی 2009ء میں کہاتھا کہ’’آر ایس ایس سے ہندوستان کو اتنا بڑا خطرہ ہے جتنا لشکر طیبہ سے نہیں ہے۔‘‘
  پچھلے کچھ عرصہ سے آر ایس ایس نے مسلمانوں کو اپنے جھانسے میں لانے کے لیے "مسلم راشٹریہ منچ” اور "جماعت علماء” نامی دو تنظیمیں قائم کیں ہیں، ان سبھی تنظیموں کے ذریعے آر ایس ایس کیڈر بنانے کا کام کرتی ہے اور ان کے لیے اسکولوں اور کالجوں سے ہی طالب علموں کی مقامی شاکھائوں کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے۔
 آر ایس ایس کی کل شاکھائوں کی تعداد 77848 ہے جو ملک اور بیرون ملک کے مختلف مقامات پر ہندو انتہا پسندی کے لیے کام کر رہی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 20 سے 35 سال کی عمر کے تقریباً 1 لاکھ نوجوانوں نے پچھلے ایک سال میں آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس ہندوستان کے 88 فی صد بلاک میں اپنی شاکھائوں کے ذریعے رسائی حاصل کر چکا ہے۔ قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں آر ایس ایس نے 12431 تربیت یافتہ سوئم سیوک سنگھ تیار کیے ہیں۔
بیرون ہند ان کی کل 93 ممالک میں شاکھائیں ہیں۔ یہ شاکھائیں ہندو سوئم سیوک سنگھ کے نام سے کام کر رہی ہیں۔ ہندوستان سے باہر آر ایس ایس کی سب سے زیادہ شاکھائیں نیپال میں ہیں۔ اس کے بعد امریکہ میں اس کی شاکھائوں کی تعداد 641 ہے۔ برطانیہ میں 48 شاکھائیں ہیں۔ آر ایس ایس کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط حالت میں ہے۔ کینیا کی شاکھائوں کا دائرہ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ، یوگانڈا، ماریشش اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے اور وہ ان ممالک پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ان کی پانچ شاکھائیں مشرق وسطی کے مسلم ممالک میں بھی ہیں اور وہاں کی شاکھائیں خفیہ طریقے سے گھروں میں مذموم عزائم میں مصروف ہیں.
 ہندوقوم پرستوں کے فاشسٹ نظریہ کی وضاحت نہرو میموریل میں محفوظ منجے کے اس خط سے بھی ہوتی ہے جو انھوں نے ”کھاپڑے“ کو لکھا تھا۔اس میں منجے بڑی صراحت سے لکھتے ہیں”مسلمان شرارت پسند ہوگئے ہیں کانگریس ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے ان کے آگے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ اس لیے ہمیں گاندھی اور مسلمان دونوں سے لڑنا ہوگا، اس کے لئے آر ایس ایس کااستعمال آسان اور مفید ہوسکتا ہے چرخے کامقابلہ آخر کار رائفل سے ہی کرنا ہوگا۔“
 حالیہ دنوں دارالحکومت دہلی میں وشو ہندو پریشد اور دیگر ہندو گروپوں کے زیر اہتمام منعقدہ ایک جلسہ عام میں مسلم مخالف اور انتہائی منافرت آمیز تقریریں کی گئیں۔اس جلسہ عام میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان پرویش سنگھ ورما نے مسلمانوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی اور وہاں موجود لوگوں سے اس کا حلف بھی لیا۔ اس موقع پر کئی اراکین اسمبلی، وی ایچ پی کے رہنما اور پولیس اہلکار بھی موجود تھے.
  پرویش سنگھ ورما نے ہندوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "اگر انہیں (مسلمانوں کو ) سبق سکھانا ہے اور ایک ہی بار میں مسئلہ کو حل کرنا ہے تو اس کا ایک ہی علاج ہے، ان کا مکمل بائیکاٹ۔” انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے حلف لیا، "ہم ان سے کوئی سامان نہیں خریدیں گے، ہم ان کی دکانوں سے سبزیاں نہیں خریدیں گے۔
” ورما نے مزید کہا،”آپ کو بس یہی ایک کام کرنا ہے، یہی ان کا علاج ہے۔”یہ اور اس قسم کی بے شمار بھاشن اور دھمکیاں بی جے پی کے رہنماؤں کے آئے دن سنتے رہتے ہیں، جس سے ان کے اندر چھپی نفرت، عداوت، دشمنی، بغض، کینہ، کھل کر سامنے آ جاتی ہے. ***