جنوبی کوریا : ہیلووین کی تقریبات کے دوران بھگدڑ مچنے سے 120 افراد ہلاک۔ 150 افراد زخمی

تازہ خبر عالمی

سیئول :۔29/ اکتوبر
(زیڈ این ایم ایس)

جنوبی کوریا کی دارالحکومت سیئول میں ہفتے کو دیر گئے ہیلووین کی تقریبات کے دوران بھگدڑ مچنے سے 120 افراد ہلاک ہو گئے۔150 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی کو دل کا دورہ پڑا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
نیشنل فائر ایجنسی کے ایک اہلکار چوئی چیون سک نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ہجوم اٹاوان لیزر ضلع میں ایک تنگ گلی میں جمع تھامیڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی میں بھگدڑ کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے والے تقریباً 50 افراد کو سی پی آر دیا گیا۔
ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے بتایا کہ 81 کالیں ایسے لوگوں کی طرف سے آئیں جنہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔جنوبی کوریا کے صدر Eun Suk Yeol نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے حکام کو زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیال رہےکہ سیئول میں کورونا وائرس کی پابندیاں ختم ہونےکے بعدگھروں سے باہر پہلا ہیلووین منایا جا رہا تھا اور اندازے کے مطابق جائے حادثہ پر ایک لاکھ سے زائد افراد موجود تھے۔
اس کے ساتھ انہیں تہوار کے مقامات کی سیکوریٹی کا جائزہ لینے کو کہا گیا ہےمغربی ممالک میں ہالووین فیسٹیول منایا جاتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تہوار آباؤ اجداد کی روحوں کی سکون کے لیے منایا جاتا ہے۔
اس دن لوگ خوفناک میک اپ کرتے ہیں اور خوفناک لباس پہنتے ہیں۔اس رات اندھیرا چھانے پر بچے اور بڑے خوفناک قسم کے ملبوسات پہن کر دوسروں کو ڈرانے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
ہیلووین کی ابتداء قدیم سیلٹک تہوار سامہین سے ہوئی ہے۔ یہ دن سیلٹک کیلنڈر کا آخری دن ہے۔اس لیے سیلٹک لوگوں میں اسے نئے سال کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مسیحی برادری کے لوگ اس تہوار کو بڑی شان و شوکت سے مناتے ہیں۔
ہیلووین  امریکہ، انگلینڈ اور یورپی ممالک میں منایا جاتا ہے لیکن اس تہوار کی ابتدا آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ سے ہوئی