مدارس کے نصاب میں تبدیلی در حقیقت مدا رس کی روح کے منافی ہے

تازہ خبر قومی
کل ہند رابطہ مدارس کے اجلاس سے مفتی ابوالقاسم نعمانی کا صدارتی خطاب 
دیوبند:۔، 30؍ اکتوبر
(رضوان سلمانی) 
کل رابطہ مدارس اسلامیہ کے اجلاس میں صدارتی خطبہ میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی نے کہا کہ اگر کوئی تنظیم اپنے اغراض و مقاصد کے تحت کام نہیں کرتی تو وہ ایک ڈھانچہ ہے اسی لئے ہم کو چاہئے کہ ہم اپنے اغراض و مقاصد کی تکمیل میں کوشاں رہیں۔
صحیح تربیت کے بغیر تعلیم کا مقصد فوت ہوجاتا ہے اسی لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت پر بھی توجہ دی جائے۔موجودہ ملکی و عالمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی منفی سرگرمی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔مدارس و مکاتب کے تمام کاغذات کو پہلی فرصت میں درست کرایا جائے۔فرقہ باطلہ کا سر کچلنا بھی مدارس کی ذمہ داری ہے۔
مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ مدارس اسلامیہ کانصاب ہی مدارس کی اصل روح ہے اور اس میں کوئی بھی تبدیل دراصل مدارس کی روح کے منافی ہے، اسلئے نصاب تبدیلی کے نام نہاد دانشوروں کے مطالبے پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مدارس میں پانچویں جماعت تک پرائمری تعلیم کا انتظام کیا جانا چاہئے اور اس کی باضابطہ حکومت سے منظوری لی جائے۔
 انہو ںنے کہا کہ مجلس عاملہ رابطہ مدارس تاکید کرتا ہے کہ نصاب میں بنیادی تبدیلی اور عصری علوم کی شمولیت کے بارے میں نام نہاد دانشوروں اور عاقبت نا اندیشوں کے مطالبے سے متاثر نا ہوں
 بلکہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم قدیم اور متوارث خطوط پر ہی قائم و استوار رکھیں؛ البتہ درجہ درجہ پنجم پرائمری تک ایسا نصاب تعلیم اپنے قائم کردہ مدارس میں رائج کریں جو دینیات کے ساتھ ضروری ضروری عصری علوم ،حساب ،جغرافیہ علاقائی زبان اور تاریخ پر مشتمل ہو اور بہتر ہوگا ان مدارس و مکاتب کو حکومت سے منظوری حاصل کرا لیں۔
یہ اجلاس نصاب تعلیم میں بنیادی تبدیلی کے خیال کو یکسر مسترد کرتا ہے نصاب کی روح کے منافی اور نصب العین کے خلاف سمجھتا ہے۔
مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ مدراس اسلامیہ کے داخلی نظام کے استحکام کے لئے سب سے اہم اور ضـروری بات یہ ہے کہ موجودہ عالمی یا ملکی حالات کے نتیجے میں کسی قسم کی منفی سوچ یامایوسی کا شکار ہونے سے پرہیز کیا جائے اور مسلمانوں کو بھی مثبت اندازِ فکر کی تلقین کی جائے۔
برادران وطن کے ساتھ رواداری اورپرامن بقائے باہم کے اصول پر عمل کیا جائے، مدرسہ کی مصلحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے غیرمسلم بھائیوں کو مناسب مواقع پر مدعو کرکے مدارس سے براہ راست واقفیت کا موقع فراہم کیا جائے۔
صدارتی خطبہ میں کہا گیا ہے کہ تاکہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے مدارس کے سلسلہ میں سروے یا تفتیش کی کارروائی کا حکم ہو تو ارباب مدارس کسی خوف یا ذہنی انتشار کا شکار نہ ہوں۔
نہ کسی جذباتیت کا مظاہرہ کریں نہ میڈیا کے لوگوں سے کوئی منفی بات کریں۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ افراد سازی کے عمل میں دوسری بہت زیادہ توجہ طلب چیز تربیت ہے ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ صحیح تربیت کے بغیر تعلیم کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ بالخصوص موجودہ دور میں جب کہ ماحول میں بگاڑ کے اسباب روز افزوں ہے۔
انٹرنیٹ اور ملٹی میڈیا موبائل نے فحش اور منکرات کو معاشرہ میں جرائم کی طرح عام کردیا ہے اور نئی نسل تیزی سے ان کا شکار ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں طلبہ کی نگرانی اور تربیت پر پہلے سے کہیں زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
 مفتی ابوالقاسم نعمانی نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ رابطہ مدارس کا اہم مقصد یہ بھی رہا ہے کہ مدارس اسلامیہ کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے اور روابط کو مستحکم کیا جائے۔
مدارس کے قیام کا ایک اہم مقصد مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح اور عقائد باطلہ اور فکری انحرافات سے امت کو محفوظ رکھنا ہے ۔
 اسی لئے دارالعلوم دیوبند اور اس کے فیض یافتگان نے روز اول سے ترجیحی طور پر اس ذمہ داری کو پورا کیا ہے۔ خاص طو رپر اس لئے کہ باطل فرقوں کی جانب سے مسلمانوں کے ہر طبقے پر محنت جاری ہے ،پہلے عموماً صرف ناخواندہ اور سادہ لوح مسلمان ان کا شکار ہوتے تھے ،لیکن موجودہ دور میں باطل افکار کی اتنی شکلیں سامنے آرہی ہیں کہ تعلیم یافتہ ہوں یا ناخواندہ ، ہر طبقے کے مسلمان ان کی زد میں آرہے ہیں،
اس لئے اہل حق علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقہ میں گہری نظر رکھیں، اہل مدارس اپنے اساتذہ کو مختلف فرقوں کے رد کے لئے علمی طور پر تیار رکھیں اور حسب ضرورت حکمت کے ساتھ ان سے کام لیں۔