حیدرآباد:۔یکم نومبر
(پریس نوٹ)
دو روزہ ضروری جانچ پرکھ کی مہارتیں (کیاس) کا ورکشاپ بعنوان ”بچوں کی صحت کے متعلق موثر رپورٹنگ“ کا 29 اور 30 اکتوبر 2022کو دہرہ دون میں انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے 12 طلبہ نے حصہ لیا۔
ورکشاپ میں مانو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ہماچل پردیش یونیورسٹی اورایف ایم ریڈیو سے جملہ 150 طلبہ اور ریڈیو جاکیز (آر جیس) نے حصہ لیا۔ ورکشاپ میں جانچ پرکھ کی مہارتوں کے کورس کے تحت طبی صحافت کے لیے ثبوت پر مبنی رپورٹنگ اور حقیقت کی جانچ (فیکٹس چیک)کے اصول و طریقے سکھائے گئے۔
پروفیسر احتشام احمد خان، ڈین، اسکول برائے ترسیل عامہ و صحافت اور پروفیسر محمد فریاد، صدر شعبہ صحافت کو یونیسیف حکام نے اس قسم کی پہل کے لیے تہنیت پیش کی۔
پروفیسر احتشام نے کہا کہ اس قسم کی ورکشاپ سے صحافت کے طلبہ کو میڈیا اور اس کے طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس موقع پر پروفیسر فریاد نے کہا کہ آج کل کے فرضی خبروں کے دور میں کسی عوامی پلیٹ فارم پر خبر جاری کرنے سے قبل اس کی حقیقت کی جانچ ضروری ہے۔
ورکشاپ میں منعقدہ مقابلہ میں پہلا انعام حاصل کرنے والی ٹیم کو مانو کی طالبات فیضا پرویز اور ناضلی نے قیادت کی جبکہ تیسرا انعام حاصل کرنے والی ٹیم کی بھی قیادت مانو طلبہ فیضان اور صدیقہ فاطمہ نے کی۔
ورکشاپ میں کیاس کے پریکٹیشنرز، صحافت کے طلبہ اور مضامین کے ماہرین بشمول سنجے ابھیگیان، سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر، امر اجالا (دہرادون) و کیاس مینٹر؛ پنکج پچوری، میڈیا ایڈیٹر، گو نیوز، اور کیاس مینٹر؛ ڈاکٹر این کے اروڑہ، صدر نشین، انڈیاس کووڈ 19 ورکنگ گروپ آف دی نیشنل
ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن؛ پروفیسر (ڈاکٹر) راجیب داس گپتا، سینٹر آف سوشل میڈیسن اینڈ کمیونٹی ہیلتھ، اسکول آف سائنسز، جے این یو؛ جناب سوما شیکھر ملوگو، سابق اسوسی ایٹ ایڈیٹر، دی ہندو بزنس لائن؛ مرلی کرشنن چننادورائی، انٹر نیوز ہیلتھ جرنلزم نیٹ ورک؛ یونیسیف کے ٹیکہ اندازی ، صحت اور تغذیہ کے ماہرین و سینئر صحافی اور پرائیویٹ ایف ایم کے ممتاز آر جیز نے حصہ لیا۔
یونیسیف انڈیا کی چیف آف کمیونیکیشنز اور ایڈوکیسی اینڈ پارٹنرشپس ظفرین چودھری نے آن لائن خطاب کیا۔ یونیسف کی کیمونیکشن آفیسر محترمہ سونیا سرکار نے شکریہ ادا کیا۔