مانو ماڈل اسکول میں یومِ آزاد تقاریب کار نگا رنگ آغاز۔
ڈاکٹر اودیش رانی و پروفیسر عین الحسن کے خطاب
حیدرآباد:۔ 7 نومبر
(پریس نوٹ)
ملک میں نفرت کی سوچ پنپ رہی ہے۔ مانو ماڈل اسکول کے بچے اس سوچ کو کچل کر رکھ دیں گے۔ ہماری زبان اردو ہے۔ اردو محبت کی زبان ہے۔ محبت کے ذریعہ نفرتوں کو ختم کردیا جائے گا۔ طلبہ آپسی بھائی چارہ اور اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں معاون بنیں۔ یہی ہماری ملی جلی تہذیب کا ورثہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار ممتاز ادیب و کالم نگار ڈاکٹر اودیش رانی باوانے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ماڈل اسکول واقع وٹے پلی فلک نما میں یومِ آزاد تقاریب کے افتتاحی پروگرام سے مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ یومِ آزاد تقاریب کا آج مانو ماڈل اسکول میں رنگا رنگ افتتاح عمل میں آیا
جہاں قبل ازیں طلبہ نے سماجی پیغامات پر مبنی ایک شاندار ثقافتی پروگرام پیش کرتے ہوئے خوب داد حاصل کی۔ بشریٰ اینڈ گروپ نے ایک خوبصورت استقبالیہ گیت پیش کیا، حاجرہ اینڈ گروپ کے ”اسکول چلے ہم“ کے عنوان سے گانے پر ڈانس پرفارمنس اور ترنم اینڈ گروپ نے "شبھ دن آئے رے” پیش کیا۔
نشاط، ہانیہ اور عائشہ نے مولانا ابوالکلام آزاد کی مختصر سوانح حیات پر بالترتیب اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں تقریر کی۔ یوگا ایکٹ اشفاق اینڈ گروپ نے انجام دیا۔ فیضان اور پارٹنرز نے قوالی پیش کی۔
کلاس VIII اور IX کے طلبہ نے ایروبک پروگرام پیش کیا جبکہ تحسین گروپ نے سماجی پیغام کے ساتھ دل کو چھو لینے والا مائم ایکٹ پیش کیا۔عرفان گروپ کی طرف سے "سمارٹ فون اور ہم” کے موضوع پر موضوعی کارکردگی اسمارٹ فون سے پہلے اور بعد کی زندگی کو ظاہر کرتی ہے۔

نعیم اینڈ گروپ کے پیش کردہ ڈرامہ "تعلیم بالغان” نے ایک فکر انگیز پیغام دیا۔ یونیورسٹی ترانہ کو امرین اینڈ گروپ نے گایا تھا۔تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی کے اعتراف میں طلبہ میں انعامات اور سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔
محترمہ اودیش رانی نے ابتداءمیں پڑھے گئے سورہ رحمن کی آیات کا حوالہ دے کر کہا کہ مذہب انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ انہوں نے حدیث کے حوالے سے کہا کہ رسول پاک نے کہا تھا کہ ہندوستان سے انہیں ٹھنڈی ہوا آرہی ہے۔ اسی ملک کے ہم رہنے والے ہیں۔
پروفیسر سید عین الحسن وائس چانسلر نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال کے مقابل پروگرامس میں مزید بہتری آئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ترقی ہو رہی ہے۔ انہوں نے ماڈل اسکول میں پینٹنگ اور دستکاری کے کلاسس چلانے کے منصوبے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ گذشتہ سال میں نے وعدہ کیا تھا کہ یہاں کے طلبہ کو یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم میں 10فیصد تحفظات فراہم کیے جائیں گے۔ یہ تحفظات دسویں اور بارہویں کے طلبہ کو دیئے جارہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی تمام طلبہ کو یونیورسٹی میں مدعو کریں گے اور گچی باؤلی مین کیمپس کے مشاہدے کا انتظام کریں گے جہاں پر فیشن ڈیزائننگ اور انٹیریر ڈیزائننگ کے کورسز شروع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کو مختلف شعبہ جات دیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے طلبہ کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور ہنر پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
پروفیسر صدیقی محمد محمود، ڈین، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، پروفیسر علیم اشرف جائسی، صدر نشین، یوم آزادی تقاریب کمیٹی، ڈاکٹر زائر حسین، کنٹرولر امتحانات، پروفیسر مشتاق آئی پٹیل، پرووسٹ، بوائز ہاسٹلز، پروفیسر محمد فریاد،انچارج پبلک ریلیشنز آفیسر و صدر شعبہ ¿ ترسیل عامہ و صحافت بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر کفیل احمد، پرنسپل، ماڈل سکول نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ محترمہ آسیہ انجم آرا، ہیڈ مسٹریس نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر فہیم اشرف اور محترمہ حاجرہ سلطانہ نے کارروائی چلائی۔پروگرام کو مانو انسٹرکشنل میڈیا سنٹر یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا گیا۔