حیدرآباد: یکم ؍فروری
زین نیوز
چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی دختر مسز کے کویتا نے ایک بار پھر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک خاندان کا دل جیت لیا۔ لاک ڈاؤن کے دوران بھی انہوں نے کئی ایک طلبہ کی مدد کی تھی۔
تلنگانہ کی پہلی خاتون میکانک آدھی لکشمی کے لئے بھی انہوں نے ہر ممکنہ مدد کا یقین دلایا اور کہاکہ مصیبت زدہ اس خاندان کی وہ مدد کرائیںگی۔ مسز کویتا نے آدھی لکشمی کو عصری مشنری دلانے کا وعدہ کیا اور ان کی دو لڑکیوں کی تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا بھی تیقن دیا۔ کویتا نے کہا کہ خاتون اگر کسی چیز کا عزم کرتی ہے تو اس کو سرانجام دے کر ہی دم لیتی ہے جس کو آدھی لکشمی نے ثابت کردکھایا۔
یہاں یہ بتانا صروری ہے کہ شجاعت نگر منڈل مستقر پر کھمم قومی شاہراہ سے متصل ایک ٹائر میکانک شاپ ہے جہاں واقع ایک شیڈ میں ٹراکٹر ‘ لاریاں اور بڑے بڑے کنٹینرس کھڑے رہتے ہےں۔ ایک خاتون شیڈ سے باہر آکر ان گاڑیوں کی خرابی سے متعلق معلومات حاصل کرتی ہے۔ پنکچر ‘ ٹائر کی تبدیلی ہو یا دوسرا کوئی اور کام اس کو تیزی کے ساتھ درست کرتی ہے۔ شوہر کے ساتھ شیڈ چلاتے ہوئے خاندان کی کفالت میں مدد کررہی ہے۔ اس خاتون کا نام آدھی لکشمی ہے
۔ بھدرا درا کتہ گوڑم ضلع کے قدیم انجنا پورم سے تعلق رکنھے والی آدھی لکشمی معاشی طورپر کمزور خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ شوہر میکانک کا کام کرتے ہوئے دو بچوں کی پرورش کررہا تھا۔ تاہم اس کی تنخواہ اس کے لئے ناکافی تھی۔ جس کو دیکھتے ہوئے اس کی بیوی نے یہ فیصلہ کیا کہ خاندان کی کفالت کےلئے وہ بھی خود بھی اپنے شوہر کی مدد کرے۔ چنانچہ شوہر کے ساتھ مل کر کوئی ایک کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ دونوں میاں بیوی قرض حاصل کرتے ہوئے شجاعت نگر ٹائر ورکس شیڈ قائم کیا۔ میکانک کا کام سیکھتے ہوئے وہ خود اس شیڈ کو چلارہی ہے۔ گاڑیوں کی گریسنگ سے لےکر ویلڈنگ کا کام اور پنکچر بھی
بنارہی ہے۔ اس طرح محنت کے ذریعہ آدھی لکشمی تمام کی توجہ اپنی جانب مرکوز کروانے میں کامیاب رہی ہے۔ کویتا نے ایک مقامی زبان کے اخبار مں شائع شدہ خبر پڑھ کر نہ صرف متاثر ہوئی بلکہ وہ اس خاتون سے ملاقات کرکے اسے اپنی جانب سے ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔
