نمونیہ کے مریضوں میں اضافہ ‘ بچوں سے لے کر بڑے تک زد میں 

تازہ خبر قومی
موسم کی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو اپنی صحت کو لے کر احتیاط برتنی چاہیے
دیوبند:۔13؍ نومبر
(رضوان سلمانی) 
موسم کی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو اپنی صحت کو لے کر احتیاط برتنی ہوگی ، موسم تبدیل ہونے کے ساتھ ہی نمونیہ نے بچوں اور بڑوں کو اپنی زد میں لے لیا ہے، گزشتہ تین روز میں ضلع اسپتال کے بچہ وارڈ میں نمونیہ سے متأثر 20بچوں کو داخل کرایا گیا ہے ۔
وہیں پرائیویٹ ڈاکٹروں کے پاس بھی والدین بیمار بچوں کو لے کر پہنچ رہے ہیں ۔ تفصیل کے مطابق سردی شروع ہوتے ہی بچوں سمیت بڑوں پر یہ سردی بھاری پڑنے لگی ہے، ایس بی ڈی ضلع اسپتال میں بچوں کے ماہر ڈاکٹر کی اوپی ڈی میں ہر روز 150سے 180وائرل بخار سمیت ، سردی کھانسی اور زکام کے مریض پہنچ رہے ہیں۔
 وہیں ایک دن میں آدھا درجن سے زائد بچے نمونیہ کے بھی ہسپتال پہنچ رہے ہیں ۔ بچوں کے ماہر ڈاکٹر پروین کمار نے بتایا کہ نمونیہ سے متأثر بچوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ، ایک روز میں آدھا درجن سے زائد بچوں کو اسپتال میں داخل کرنا پڑرہا ہے ، یہ بدلتا موسم بچوں کے لئے بڑاخطرناک ہوتا ہے ۔ تھوڑی سی لاپرواہی میں بچے بیمار پڑجاتے ہیں۔
 انہوںنے بتایا کہ نمونیہ سانس سے جڑی بیماری ہے، اس میں پھیپھڑوں میں سوجن آجاتی ہے ، کئی مرتبہ پانی بھی بھرجاتا ہے ، 2سے 3سال کے بچوں کو اس سے خطرہ زیادہ ہوتاہے۔ اسپتال کے سینئر فزیشن ڈاکٹر بی ایس سوڈھی نے بتایا کہ سردی میں نمونیہ کی شکایت بڑوں میں بھی ہوتی ہے ، ان کی سانس میں تکلیف بڑھ جاتی ہے ۔
 انہو ںنے بتایا کہ اوپی ڈی میں ہر روز نمونیہ سے متأثر دو درجن سے زائد مریض پہنچ رہے ہیں ان کا علاج کیاجارہا ہے جو زیادہ متأثر ہوتے ہیں ان کو داخل کرلیاجاتاہے ۔ نمونیہ کی علامتوں میں سانس لینے یا کھانسنے پر ،سینے میں درد ہونا، کھانسی جو کف پیدا کرسکتی ہے ، تھکان محسوس ہونا، بخار ،پسینہ اور کپکپی ٹھنڈ لگنا، سانس لینے میں پریشانی ہونا یہ نمونیے کی علامتیں ہیں ،
 اس سے بچنے کے لئے بچوں کو صبح شام گرم کپڑے پہنانا چاہئے، بچوں کو صبح شام ننگے پیر نہ چلنے دیں ، بچوں کو ٹیکہ ضرور لگوائیں ، ذرا بھی پریشانی ہونے پر ڈاکٹر سے علاج لیں ،بزرگ لوگ پان بیڑی سگریٹ سے پوری طرح پرہیز کریں ۔