حیدرآباد:۔14؍نومبر
(پریس نوٹ)
آزاد ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش ١١ نومبر کو قو می یوم تعلیم کے ضمن میں اسکول، مدارس اور کالجوں میں مختلف پروگرامز کا انعقادعمل میں لایا۔
آئیٹا تلنگانہ کے صدر محمد یقین الدین، نائب صدر سید عارف، محمد نصیر الدین، محمد عبد المجیب، محمد سہیل محمد عبدالمعیز ، سید اظہر الدین، وغیرہ نے مبارکباد دی ۔ آذادی کے بعد ملک کے تعلیمی ڈھانچہ کو نئ جہت اور نئی سمت عطا کرنا مولانا کی ہمہ گیر شخصیت کی مرہون منت تھی ۔
مولانا ابوالکلام آزاد ملک میں تعلیی انقلاب کے نقیب تھے ۔ ملک کے تعلیمی ادارے بشمول ہندی، سائنسی ، تکنیکی ، تحقیقی ، فن موسیقی، آرٹ وکلچر، یو جی سی، اور تربیتی اداروے ان ہی کی ذہنی اختراع ہیں جو آج بھی ہزاروں طلباء کو فائدہ پہنچا تےآرہے ہیں مولانا بے پناہ صلاحیتیوں کے مالک تھے اس لیے انہیں man of thousand brain بھی کہا جاتا ہے۔
وہ بیک وقت عربی، اردو، انگریزی میں ماہرات کے ساتھ ساتھ مسائل کی یکسوئی میں قدرت رکھتے تھے۔ محمد عبدالمجیب نے ضلعی و مقامی صدور سے انکی شخصیت اور انکی تعلیمی خدمات سے سماج خاص کر اساتذہ ، طلباء ، اولیائے طلباء کو وقتاً فوقتاً روشناس کرواتے رہیں تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اصلاف کی خدمات، تعلیمات اور انکے مشن کو جاری رکھ سکے ۔
قوم کے لیے اپنے پیغام میں انھوں نے ” تعلیم ہی کو آذادی کہا تھا ” اور قوم کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کی تلقین کی انھوں نے یہاں تک کہا کہ ” اگر ہم صرف اپنے لیے زندہ ہیں تو اسکا مطلب ہم اپنی قوم کے لیے زندہ لاش ہیں ۔”
موجودہ دور میں انکی تعلیمات میں اپنی قوم کی ترقی کو تلاش کرنا ہوگا ۔ مولانا کے نقش قدم پر چل کے ہی ہماری قوم ترقی کرسکتی ہے ۔ سکریٹری محمد اصغر حسین نے ذور دیا کہ ١١ نومبر کو یوم تعلیم کے طور پر منا نا ہی مولانا کی خدمات کا صحیح معنوں میں اعتراف کرنا ہے،
ہم اللّٰہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ مولانا کی خدمات کو قبول کرے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
