سید منصور علی‘ ریسرچ اسکالر حیدرآباد یونیورسٹی
(رپورٹر رہنمائے دکن)اعجاز الدین حامد نے اپنی کتاب ”حیدرآباد میں اردو صحافت“ میں رہبر دکن کا آغاز 2/ اگست 1921لکھا ہے لیکن صحیح تاریخ یکم اگست 1921ہے۔ روزنامہ رہبر دکن یکم اگست 1921کو افضل گنج حیدرآباد سے جاری ہوا۔
چند برس پہلے تک رہنمائے دکن بھی اسی عمارت میں قائم تھا۔ رہبر دکن کے مدیر سید احمد محی الدین معاون تھے۔ معین مدیر محمد عبداللہ خاں تھے۔ سید یوسف الدین اس کے مہتمم تھے۔اخبار کا رجسٹر سرکارآصفیہ نمبر (9) تھا۔ تار کا پتہ ”رہبر“ لکھا جاتا تھا۔
”سید احمد محی الدین ایڈیٹر روزنامہ ”رہبر دکن“ سن 1900میںضلع کریم نگر کے جگتیال میں پیدا ہوئے ان کے والد میر ضیاء الدین اس زمانے میں تحصیلدار تھے۔ احمد محی الدین کی ابتدائی تعلیم حیدرآباد کے مدرسہ مفیدالانام اور مدرسہ آصفیہ میں ہوئی
انھوں نے مڈل اسکول کے بعد میٹرک اور ایف اے علی گڑھ سے پاس کیا۔ نظام کالج حیدرآباد سے گریجویشن کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ مہتمم آبکاری کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے
اس کے بعد ملازمت کا خیال ترک کرکے صحافت سے وابستہ ہوگئے اور یکم اگست 1921کو اخبار ”رہبر دکن“ جاری کیا۔ مملکت آصفیہ کے اس دور کے دیگر اخبارات میں ”رہبر دکن“ کا صف ِ اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔
جنوبی ہند کے اس دور کے تمام اردو روزناموں میں رہبر دکن کا شمار کثیر اشاعت روزنامہ کی حیثیت سے ہوتا تھا۔ اس دور میں اس کی روزآنہ تعدداد اشاعت 8تا 10ہزار کے لگ بھگ تھی۔
”رہبر دکن“ کے سالنامہ اور خاص نامے بالعموم عوام الناس میں اور بالخصوص ادبی حلقوں میں بہ نظر تحسین دیکھے جاتے تھے۔ اس اخبار کے اداریوں میں سیاسی افراتفری کے زمانے میں عوام کی صحیح رہنمائی کی۔
1967-68کے زمانے میں ”رہبر دکن“ کے سالنامے کی قیمت ایک روپیہ اسی پیسے اور خصوصی نمبر کی قیمت ڈھائی روپیہ تھی۔ اس دور کے لحاظ سے یہ قیمت بھی گراں تھی مگر عوام الناس کی پسندیدگی کے سبب سارے نمبر بہت جلد فروخت ہوجاتے تھے۔
جامع عثمانیہ کے قیام‘ اردو ذریعہ تعلیم کی حمایت اور عوام الناس کو علم کی اہمیت سے روشناس کرانے کی غرض سے اس اخبار کے اداریوں نے کس طرح اہم رول ادا کیا اس کا اندازہ 20اکٹوبر 1967یوم پنجشنبہ کے اخبار کے اداریہ سے کے اقتباس سے بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔
اخبار لکھتا ہے ”محمد اعجاز الدین حامد حیدرآباد میں اردو صحافت صفحہ 61باوجود مشکلات کے اپنی ذمہ داری سے مجبور ہوکر ”رہبر“ نے اپنی بساط بھر شروع کردیا ہے اور مملکت کی اس تحریک کو جس سے جامعہ عثمانیہ کی صورت میں ذریعہ تعلیم ایک ملکی اور دولتی زبان قرار پانے والی تھی‘
پوری قوت سے اس کی حمایت کی اس واسطہ کہ قوم کا دماغی ارتقاء غیر اور اجنبی زبان کے ذریعہ تعلیم ہونے سے اس طرح مکمل نہیں ہوسکتا تھاکہ محاکمات سے گزر کر اس نے تخلیقی قوتیں بھی پیدا ہوجائیں۔
اس نے ملک اور حکومت دونوں کو سمجھادیا کہ تعلیم میں دو عملی نہ ہونی چاہئے ایک نصاب کا فیصلہ ہوجائے اور سارے ملک کی نسلوں کو وہی پڑھایا جائے کہ ایک سے زیادہ طریقہ ہائے تعلیم میں مرکزیت نہیں پراندگی ہے۔“
روزنامہ ”رہبر دکن“ کے مسلسل لکھنے والے شعراء‘ ادیب اور مصنفین و محققین میں مہاراجہ سر کشن پرشاد‘ صدر آعظم بہادر‘ نواب حیدر یارجنگ بہادر‘ نظم طباطبائی‘ نواب نظامت جنگ بہادر‘ ایم اے ایل ایل بی‘ بیرسٹر صدر المہام سیاسیاست‘
نواب فصاحت جنگ بہادر‘ جلیل استاد محترم اعلیٰ حضرت حضور نظام‘ مسرس سروجنی نائیڈو بلبل ہند‘ ملک عبدالقیوم بی اے بیرسٹر یٹ لا گوجرانوالہ پنجاب‘ مولانا سید سلمان ندوی‘ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
”رہبر دکن“ میں حضور نظام کا کلام اور ان کے وہ پسندیدہ مضامین جو ہوش بلگرامی کے قلم سے ہوتے تھے سرکاری نگرانی میں شائع ہوتے تھے۔ بیرونی تجارتی فورمس کے بڑے بڑے اشتہارات شائع ہوتے تھے جو رہبر دکن کے کثیر لاشاعت ہونے کا بین ثبوت تھا اور اس لحاظ سے دکن کا منفرد اخبار تھا۔
روزنامہ ”رہنمائے دکن“
سید ممتازمہدی نے اپنی کتاب ”حیدرآباد کے اردو روزناموں کی ادبی خدمات“ میں لکھا ہے کہ سید احمد محی الدین صاحب مرحوم کی ادارت میں روزنامہ ”رہبر دکن“ 1920میں جاری ہوا۔روزنامہ ”رہنمائے دکن“ کی اشاعت یکم اگست 1921سے شروع ہوئی۔
پولیس ایکشن نمبر 1948میں شائع ہوا اس وقت سید محمود وحید الدین ”رہبر دکن“ کے مدیر تھے۔ بقول سید محمود وحید الدین صاحب ”ملٹری ایکشن کے ساتھ ہی ”رہبر دکن“ بند کردیاگیا۔ پولیس ایکشن کے بعد ”رہبر دکن“ دوبارہ جاری کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کی اجازت نہیں ملی۔
حتیٰ کہ مدیر کی حیثیت سے جناب محمود وحید الدین صاحب کے نام پر کسی نئے اخبار کا اجراء دشوار ثابت ہونے پر محمد منظور حسن کی ادارت میں ”رہنمائے دکن“ جولائی 1949 میں جاری ہوا۔
سید منظور حسن صاحب ادارہ ”رہبر دکن“ سے وابستہ رہے تھے لہذا ”رہنمائے دکن“ کے مینجنگ ایڈیٹر کے فرائض تو ادا کرتے رہے لیکن اس روزنامہ کی کرتا دھرتا اور مالک سید محمود وحید الدین ہی تھے۔
1976 میں سید محمود وحید الدین نے سید لطیف الدین قادری کو روزنامہ ”رہنمائے دکن“ کی ادارت سپرد کردی جبکہ منظور حسن صاحب نومبر 1968 میں اپنی خدمات سے سبکدوش ہوگئے تھے۔ 20جنوری 1984کو سید لطیف الدین قادری صاحب کا انتقال ہوگیا اور سید وقار الدین صاحب ”رہنمائے دکن“ کے مدیر ہوگئے۔
”رہنمائے دکن“ کے ابتدائی زمانہ میں مستقل کالم کے طورپر تقریباً روزآنہ ہی سچی باتیں کے عنوان سے ”صدق“ لکھنو ہفتہ وار کا کالم ڈائجسٹ کیا جاتا تھا۔ سچی باتیں کے علاوہ مستقل کالموں میں ”تازہ ترین تار“ جس میں تازہ خبریں دی جاتی تھی۔ ”گھر کی باتیں“ میں مقامی خبریں ”خبر و نظر“ رہنمائے دکن کا اہم کالم تھا۔
رہنمائے دکن کا ہر دوشنبہ کو خصوصی شمارہ شائع کیا جاتا ہے پہلا صفحہ کوئی ایک رنگ عموماً اودے یا آسمانی رنگ میں شائع کیا جاتا تھا۔ پہلے صفحہ پر ”رفتار سیاست“ کے عنوان سے عالمی‘ مقامی‘ ہندوستانی یا پڑوسی ممالک سے متعلق اس ہفتے کے اہم سیاسی مسئلہ کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا تھا جو آج بھی جاری ہے۔
”ماضی کے ”رہبر دکن“ اور موجودہ ”رہنمائے دکن“ میں خاص طورپر عیدین اور خلفائے راشدین کی وفات پر بہترین مضامین پر مشتمل سپلیمنٹس شائع کئے جاتے اور شب معراج‘ شب برات اور شب قدر کی تمام راتوں پر اداریہ لکھے جاتے تھے جس کا سلسلہ ”رہنمائے دکن“ میں بھی جاری رہا۔
”رہبر دکن و ”رہنمائے دکن“ کے خصوصی کالم و صفحات میں پسند اپنی اپنی‘ گلہائے صدرنگ‘ بچوں کا صفحہ‘ طلباء و نوجوانوں کا صفحہ‘ رہنما و رہرو‘ نقدو نظر‘(کتابوں پر تبصرہ) شاعری (نظمیں)‘ غزلیات‘ طنزیہ و مزاحیہ شاعری‘ تنقیدی‘ تحقیقی مقالے اور مضامین وغیرہ‘ افسانے‘ ڈرامہ‘ شعر و ادب‘ شخصی خاکے‘ تعارفی مضامین‘ ادبی خبریں‘ رپورتاژ‘ سمینار‘ اداریہ‘ انٹرویوز‘ وغیرہ شامل ہیں۔
روزنامہ ”رہبر دکن“ اور ”رہنمائے دکن“ کے اداریے بصیرت افروز اور فکر انگیز ہوا کرتے ہیں ”رہنمائے دکن“ ایک معیاری اخبار کی حیثیت رکھتا ہے جس کے لئے سید لطیف الدین قادری اور سید وقار الدین قادری کی شب و روز محنت اور خون و جگر صرف ہوا ہے
ان دونوں بھائیوں نے اس کی بنیادوں کو مضبوط و مستحکم کیا اور خود کو مالی منافعیت سے دور رکھتے ہوئے اخبار کو بلندیوں پر پہنچایا‘ اس کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کے مسائل کو ہمیشہ پیش کرتا رہا۔

بالخصوص عرب ممالک اور فلسطین کیلئے ”رہبر و ”رہنمائے دکن“ کی خدمات ناقابل فراموش ہے۔ مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کی ظلم و بربریت کو منظر عام پر لایا۔
ان دونوں روزناموں کو بنیادی اور اہم مقصد یہی تھا کہ فلسطین عوام کی حمایت کی جائے اور ان پر اسرائیلی حکومت کی بربریت سے عوام کو واقف کروایا جائے اور حکومت ہند پر زور دیا جائے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرے اور ان کی مدد کرے۔ چنانچہ اس مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے اور فلسطینی کاز کی حمایت کیلئے ہمیشہ رہنمائے دکن پیش پیش رہا ہے۔