مفتی محمد رفیع عثمانی   ؒکے سانحۂ ارتحال پر ایصال ثواب کا اہتمام

تازہ خبر قومی
 ذکر اللہ کی مجلس کے اختتام پر قاری فوزان نے کرائی دعاء مغفرت 
دیوبند:۔23؍نومبر
(رضوان سلمانی)
دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا قاری محمد فوزان کی رہائش گاہ ایک نورانی ذکر اللہ مجلس کا انعقاد کیا گیا ۔اسی کے ساتھ ساتھ جامعہ دارالعلوم کراچی کے مہتمم اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کے سانحہ ٔ ارتحال پر  ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا ۔
اس موقع پر مجلس سے خطاب کرتے ہوئے قاری محمد فوزان نے کہا کہ ایسی مجالس جن میں خدائے عز وجل اور اس کے رسول کا ذکر ہورہا ہو اس مجلس میں شریک تمام لوگوں پر فرشتے بھی سلامتی اور دعاؤں کے تحائف بھیجتے ہیں۔
قاری فوزان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم کی سورۃ بقرہ میں فرمان ہے کہ تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور ناشکری سے اجتناب کیا کرواس لئے اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد رکھنے کا اپنے آپ کو عادی اور پابند بنالینا چاہئے ۔
اسی طرح سورۃ الاحزاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت کیسا تھ کیا کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کیا کرو۔قاری فوزان نے کہا کہ حضور نبیؐ اکرم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے میںاس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر بندہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازوؤں کے برابر اس کے نزدیک ہوجاتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جب بندہ ذکر اللہ میں مشغول ہوتا ہے تو اس کو فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں اور رحمت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی مجلس قائم ہو اور اس میں ذکر اللہ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندامت وارد ہوتی ہے اسی طرح رات کو بستر میں لیٹتے وقت بھی اگر ذکر اللہ سے غفلت برتی تو بھی ندامت وارد ہوتی ہے اسلئے ہر مؤمن کو چاہئے کہ وہ چلتے پھرتے ذکر اللہ میں مشغول رہے تاکہ رضائے الٰہی حاصل ہوسکے ۔
مجلس کے آخر میں قاری محمد فوزان نے مفتی اعظم دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ کے سانحۂ ارتحال پر اپنے شدید صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی رفیع عثمانیؒ کا تعلق دیوبند سے تھا اور وہ ان کے عزیز وں میں سے تھے ۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی شخصیت اور عالم دین کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا عالم اسلام کا بڑا خسارہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم بلاشبہ اکابر علماء دیوبند کی خصوصیات کے وارث وامین تھے ۔مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ کی شخصیت بڑی خوبیوں کی حامل تھیں آپ ایک بلند پایہ اور بالغ نظر فقیہ اور مفتی تھے ۔ہزاروں فتویٰ آپکی یاد گار ہیں ۔مرحوم اپنے علم وفضل کے ساتھ ساتھ غیر معمولی اخلاقی عظمت اور قائدانہ اوصاف وخصوصیات کے حامل انسان تھے۔
وہ بہت جلدلوگوں میں گھل مل جاتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب متعلقین کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ ہے اللہ تعالیٰ جملہ پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے اور مولانا مفتی رفیع عثمانیؒ کی دینی خدمات کو قبول فرمائے آمین ۔اس موقع پر مفتی رفیع عثمانیؒ کے لئے ایصال وثواب کا اہتمام کیا گیا ۔اس موقع پر حافظ عمر الہی،ثاقب زماں،محمد معین ،محمد عفان،ثاقب قریشی ،محمد حبیب وغیرہ موجود رہے ۔قاری فوزان کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا ۔