فیفا ورلڈ کپ:مراکش سے شکست کے بعد بیلجیئم میں تشدد پھوٹ پڑا

تازہ خبر عالمی
مشتعل افراد نے کار اسکوٹرس کو آگ لگا دی
نئی دہلی:۔28؍نومبر
(زیڈاین ایم ایس)
 قطر میں جاری فیفا ورلڈ کپ میں اتوار (27 نومبر) کو مراکش کی بیلجیئم کے خلاف 2-0 سے جیت کے بعد تشدد پھوٹ پڑا ۔ اس کے بعد پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں کا استعمال کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ برسلز میں ایک درجن کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا۔
 دوسری جانب فسادیوں نے سڑکوں پر گاڑیوں، ای اسکوٹروں کو آگ لگا دی اور کئی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ واقعے میں ایک شخص کے زخمی ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔
برسلز کے میئر فلپ کلوس نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ شہر کے مرکز میں جمع نہ ہوں اور کہا کہ حکام سڑکوں پر امن بحال کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس کے حکم کے بعد ٹرین اور ٹرام کی آمدورفت میں خلل پڑا ہے۔
کلوز نے کہاکہ یہ لوگ کھیل کے پرستار نہیں، فسادی ہیں۔’ وزیر داخلہ اینلیس ورلنڈن نے کہا کہ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ کس طرح مٹھی بھر لوگ حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔

 پڑوسی ملک ہالینڈ میں، پولیس نے کہا کہ روٹرڈیم میں تشدد پھوٹ پڑا جب فسادات کے افسران نے تقریباً 500 افراد کے فٹ بال کے حامی گروپ کو روکنے کی کوشش کی جس نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور آتش زنی اور توڑ پھوڑ کی۔
 واقعہ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اتوار کی دیر شام کئی شہروں میں بدامنی کی اطلاع ملی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم اور دی ہیگ میں بدامنی کا ماحول ہے۔
بیلجیئم کے دارالحکومت میں کئی مقامات پر درجنوں فٹبال شائقین کے ساتھ ہنگامہ آرائی ہوئی، جن میں سے کچھ نے مراکش کے جھنڈوں میں لپٹے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں کو قابو کرنے کے لیے پولیس نے پانی کی توپیں اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ پولیس کے ترجمان Ilse Van de Keere نے کہا کہ یہاں صورتحال فی الحال قابو میں ہے اور جن علاقوں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں وہاں احتیاطی طور پر پولیس کی گشت جاری ہے۔
برسلز کے میئر فلپ کلوس نے لوگوں کو شہر کے مرکز سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسران سڑکوں پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔
 سیکوریٹی وجوہات کی وجہ سے پولیس کو احتیاطی اقدام کے طور پر وہاں میٹرو اور ٹرام سروس کو روکنا پڑا۔ تشدد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے میٹرو اسٹیشنوں کے گیٹ بند کر دیے گئے اور سڑکوں پر پولیس کی گشت بڑھا دی گئی۔