مانو کے وارنسی سب ریجنل سنٹر اور شعبہ ایم سی جے کا قومی سمینار۔ پروفیسر عین الحسن و دیگر کے خطاب
حیدرآباد:۔ 28 نومبر
(پریس نوٹ)
آزادی سے قبل اردو اور ہندی صحافت نے مل کر جس مضبوطی کے ساتھ ملک کے دشمنوں سے لوہا لیا اس کے متعلق جاننا اور پڑھنا موجودہ دور میں گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط کرنے لیے بے حد ضروری ہے۔
بنارس ایک ایسی جگہ ہے جس نے ہندی کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے فروغ میں اپنا اہم رول ادا کیا۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے وارانسی میں منعقدہ اردو صحافت کے 200 سال کی تکمیل کے سلسلے میں منعقدہ قومی سمینار میں کیا۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، ذیلی علاقائی مرکز، وارانسی اور پنڈت مدن موہن مالویہ انسٹیٹیوٹ آف ہندی جرنلزم، مہاتما گاندھی کاشی ودیا پیٹھ، وارانسی (ایم جی کے وی پی) کے اشتراک سے ایک روزہ قومی سمینار کا ایم جی کے وی پی میں جمعہ کو انعقاد عمل میں آیا۔
پروفیسر عین الحسن نے کہا کہ راجہ رام موہن رائے نے فارسی میں اخبار نکالا اور وہ اخبار عراق اور افغانستان تک پڑھا جاتا تھا۔ نے ہندی، سنسکرت اور اردو زبان کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ لفظ اپنے ماحول کے اعتبار سے اپنی جگہ بنالیتے ہیں۔ ان پر کسی زبان کا قبضہ نہیں ہوتا۔
پروفیسر اشوک مشرا، انچارج وائس چانسلر، ایم جی کے وی پی نے صدارتی خطاب میں تمام زبانوں کو اور ان کی صحافت کو ایک ڈھنگ سے پیش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی زبان ثقیل نہیں ہوتی اور کسی زبان کو کسی مذہب یا قوم سے متعلق نہیں سمجھنا چاہیے۔
پروفیسر نرنجن سہائے، صدر شعبۂ ہندی و جدید زبانیں نے کلام نسواں کے چند اشعار پیش کیے۔
جناب ایم ڈبلیو انصاری، آئی پی ایس ، چھتیس گڑھ نے منشی پریم چند کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو ایک مذہب کی زبان نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی زبان ہے۔
ایم جی کے وی پی کے سابق استاذ پروفیسر عزیز حیدر، کاشی ودیاپیٹھ میں ہندی اور اردو کی تعلیم اور بنارس میں اردو صحافت میں نئے دور پر روشنی ڈالی۔
جناب افضل، جناب اے کے لاری، پروفیسر اوم پرکاش سنگھ، جناب اجئے رائے نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر محمد فریاد، صدر شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت نے کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر شمس الدین نے شکریہ ادا کیا۔