یہ کہ موجودہ مرکزی سرکار عوام کے نفس کو سمجھ چکی ہے اور جان چکی ہے کہ عوام سے جھوٹے وعدے اور مستقبل کے بڑے بڑے خواب دیکھا کر آسانی سے ووٹ حاصل کیئے جا سکتے ہیں لیکن ملک کے گنے چنے کارپوریٹ کو وعدے کا جھانسہ نہیں دیا جا سکتا ہے بلکہ چناؤ جیتنے کے لئے اُنہیں مسلسل فائدہ کراتے رہنا ہوتا ہے۔ ۔یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد ایک منافع میں چل رہی سرکاری کمپنیوں کو کارپوریٹ کو تھمایا جا رہا ہے ۔بدلے میں کارپوریٹ بی جے پی کا چناؤ میں فنڈنگ کرتے ہیں اور بی جے پی اور سرکار کے خلاف ایسی باتوں کو عوام میں جانے سے روکتے ہیں جو پارٹی اور سرکار کو عوام میں غیر مقبول بناتی ہیں ۔کیونکہ تقریباً سبھی ہندی چینلوں اور بڑے ہندی اخباروں پر انہی کارپوریٹ کا قبضہ ہے ۔کیونکہ عوام کی بات میڈیا میں سنی نہیں جاتی ہیں تو سرکاری سطح پر انکا خوب استحصال ہو رہا ہے ۔سرکاری ملازموں اور سیاسی رہنماؤں کا ایک طرح سے گٹھ جوڑ بن چکا ہے اور اب وہ لوگ عوام کو پریشان کرنے اور اُنھیں لوٹنے میں کسی طرح کا خوف اور ڈر محسوس نہیں کرتے ہیں۔بی جے پی اور اسکے اتحادی سے منسلک سیاسی رہنماء بے خوف ہیں کہ پیسے سے آئندہ ٹکٹ بھی لے لینگے اور اگلا چناؤ بھی جیت جائیں گے ۔اسلئے عام عوام کی ایک شہری حثیت بالکل ختم ہو چکی ہے ۔عوام کی پریشانی سننے والا کوئی نہیں ہے ۔کووڈ کے دوران اور کووڈ کے بعد لوگوں کی آمدنی کم ہو چکی ہے ۔تین کروڑ سے زیادہ مڈل کلاس غریبی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔غریبوں کا حال اور برا ہے لیکن اشتہار میں سب کچھ چکا چوندھ نظر آ رہا ہے ۔لیکن راہل گاندھی کی بات میں سچائی ہے کہ ملک کا ایک چھوٹا سا طبقہ ہر طرح کی سہولیات حاصل کر پا رہا ہے اور جسے کچھ بولے بہت کچھ دیا جا رہا ہے جبکہ نوّے فیصدی لوگوں کے درمیان نعرے تقسیم کیئے جا رہے ہیں اور قربانیاں مانگی جا رہی ہیں ۔ ایک نہ ایک دن سرکار کے وعدوں کا غبارہ پھوٹے گا لیکن تب تک بہت دیر نہ ہو جائے اور ملک کو اس کی بڑی قیمت نہ چکانی پر جائے۔اسلئے اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا ہے ۔عوام ہوش کے ناخن لیں اور اس ملک کو دو بھارت بننے سے بچا لیں۔