اصلاح معاشرہ میں خواتین کا اہم کردار پلونچہ کے طلباء کا شاندار تعلیمی مظاہرہ۔
مولانا رضوان القاسمی بچکندہ کا خطاب۔
کاماریڈی:۔21؍دسمبر
(پریس نوٹ )
انسان دنیا میں آتا ہے اور اپنی زندگی گزارتا ہے اور چلا جاتاہے،اسکی موت کے ساتھ اسکا نامہ اعمال بھی بند ہو جاتا ہے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کیونکہ مرنے کے بعد بھی ان کا نامہ اعمال کھلا رہتا ہے،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اپنے بعد ایسی نیک اولاد چھوڑتا ہے جو اس کے لئے اللہ سے دعا کرتی ہے یا اسکے ایصال ثواب کے لئے کو ئی کار خیر کرتی ہے
اس کا نامہ اعمال بند نہیں ہوتا،دنیا میں ہم اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں گے اس کو دنیا دار بنانے کے بجائے دیندار بنانے کی کوشش کریں گے تو یہ ہمارے لئے نجات کا ذریعہ ہوگی ورنہ بصورتِ دیگر وبال کا ذریعی ہوگی
ان خیالات کا اظہار مولانا رضوان القاسمی صاحب بچکندہ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے زیر اہتمام اصلاح معاشرہ اور جان سے پیارا ایمان ہمارا کے عنوان پر پلونچہ ماچاریڈی کے عظیم الشان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا نیز کہا کہ ہر
انسان کے اندر اللہ رب العزت نے ایک فطری خواہش رکھی ہے کہ جب وہ جوانی کی عمر کو پہنچے تو شادی کے بعد صاحب اولاد ہو جائے اولاد کا ہونا ایک خوشی ہوتی ہے اور اولاد کا نیک ہونا دوگنی خوشی ہوتی ہے

اسی لیے جب بھی اللہ رب العزت سے اولاد کی دعائیں مانگیں تو ہمیشہ نیک اولاد کی دعائیں مانگیں بچوں کا نیک ہونا ماں باپ کا اپنی اولاد کی تربیت کرنا یہ اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے،اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں اگر ہم اس کی نعمتیں شمار کرنا چاہیں تو شمار بھی نہیں کر سکتے یہ زندگی اس کی نعمت ہے
سورج چاند اور ستارے اس کی نعمت ہیں نباتات اور جمادات اس کی نعمت ہیں گرمی اور سردی اس کی نعمت ہیں ہاتھ پاؤں اور تمام اعضاء اس کی نعمت ہیں گویائی اس کی نعمت ہے ایمان اس کی نعمت ہے، غرضیکہ ہم پر اس کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے اولاد کو نور چشم بھی کہتے ہیں
لخت جگر بھی کہتے ہیں بوڑھاپے کی لاٹھی کا نام بھی دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اولاد اگر واقعی اولاد ہو تو وہ آنکھوں کا نور بھی ہوتی ہے دل کا سرور بھی ہوتی ہے جگر کا ٹکڑا بھی ہوتی ہے اس کے وجود سے گھر کی ویرانیاں ختم ہو جاتی ہیں اس کی جوانی والدین کے بڑھاپے کی لاٹھی ہوتی ہے اولاد وہ نعمت ہے
جس کی خواہش ہر شادی شدہ جوڑے کو ہوتی ہے ان کے بغیر ان کی ازدواجی زندگی ادھوری اور نا مکمل تصور کی جاتی ہےاور جب نومولود کی آمد ہوتی ہے تو خوشی میں مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارک باد دی جاتی ہے
شرعی طریقے پر نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے ساتویں دن اچھا سا نام رکھ کر عقیقہ کی سنت ادا کی جاتی ہے پھر جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا جاتا ہے
ماں باپ کی ساری توجہ اسی کے ارد گرد گھومنے لگتی ہے کبھی اس کے کھانے کا خیال تو کبھی پہننے کا خیال تو کبھی اس کے کھلونوں کا خیال غرض راحت و آرام کے لئے ساری تدبیر اختیار کی جاتی ہیں لیکن جس چیز کا خیال سب سے زیادہ ضروری ہے اس پر بہت کم ماں باپ توجہ دیتے ہیں وہ ہے اس کی دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت ۔
جب وہ سنبھل سنبھل کر چلنے کی سعی کرتا ہے اور ابتدا میں زبان سے کچھ بولنے کی کوشش کرتا ہے تو دراصل یہیں سے ماں باپ کی اصل ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے کہ اس کی صحیح رہنمائی کرے اس کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں ۔
اللہ کے سارے پیغمبروں نے اور ان سب کے آخر میں ان کے خاتم سیدنا حضرت محمد صلی اللہ وسلم نے اس چند روزہ دنیا کی زندگی کے بارے میں یہی بتایا ہے کہ یہ دراصل آنے والی اس اخروی زندگی کی تمہید ہے اور اس کی تیاری کے لیے جو اصل اور حقیقی زندگی ہے اور جو کبھی ختم نہ ہوگی اس نقطہ نظر کا قدرتی اور لازمی تقاضا ہے کہ دنیا کے سارے مسلئوں سے زیادہ آخرت کو بنانے اور وہاں فوز و فلاح حاصل کرنے کی فکر کی جائے
اس لیۓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صاحبِ اولاد پر اس کی اولاد کا یہ حق بتایا ہے کہ وہ بالکل شروع ہی سے اس کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر کرے اگر وہ اس میں کوتاہی کرے گا تو قصور وار ہوگاماں کی تربیت کے نرالے اندازخواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی تربیت کا بڑا دلچسپ واقعہ ہے کہ جب ان کی پیدائش ہوئی ذرا سمجھ بوجھ والے ہو گئے
ماں باپ بیٹھ کر سوچنے لگے کہ ہم بچے کی کس طرح اچھی تربیت کریں تاکہ ہمارا بچہ اللہ رب العزت سے محبت کرنے والا بن جائے دونوں آپس میں میں مشورہ کرتے رہے لیکن وہ جو بات کرتے تھے اسے اسی وقت عمل میں لے آیا کرتے تھے
آج کی عورتوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کی شادی نہیں ہوتی تو بچوں کی تربیت کے بارے میں ان کے پلان ہوا کرتے ہیں اور ان کی شادی ہوتی ہے اور ان کے پانچ بچے ہوتے ہیں تو ایک پلان بھی بچوں کی تربیت کا ان کے پاس نہیں ہوتا ان کا دماغ ایسا ماؤف ہو چکا ہوتا ہے تو وہ ایسی نہیں تھی وہ تو بچے کی اچھی تربیت کرنے والی تھیں
لہٰذا ماں باپ بیٹھے سوچ رہے تھےبیوی کہنے لگی کہ میرے ذہن میں ایک بات ہے میں کل سے اس پر عمل کروں گی جس کی وجہ سے میرا بیٹا اللہ سے محبت کرنے والا بن جائے گا خاوند نے کہا بہت اچھا چنانچہ اگلے دن جب بیٹا مدرسہ میں گیا تو پیچھے ماں نے اس کی روٹی بنادی اور اندر کہیں پر چھپا دی
جب بچہ آیا کہنے لگا امی مجھے بھوک لگی ہے مجھے روٹی دیں تو ماں نے کہا کہ بیٹا روٹی ہمیں بھی اللہ تعالی دیتے ہیں آپ کو بھی اللہ تعالی ہی دیں گے آپ اللہ تعالی سے مانگ لیجئے بیٹے نے پوچھا امی میں کیسے مانگوں فرمایا کہ بیٹے مصلیٰ بچھا دو اس پر بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاؤ اور اپنے اللہ سے دعا مانگو چنانچہ بچے نے مصلیٰ بچھا یا دونوں ہاتھ اٹھا لیے اور دعا مانگنے لگا
اے اللہ میں ا بھی مدرسہ سے آیا ہوں تھکا ہوا ہوں اور مجھے بھوک لگی ہوئی ہے اور مجھے پیاس بھی لگی ہوئی اللہ مجھے روٹی بھی دے دیجئے پانی بھی دے دیجئے یہ دعا مانگنے کے بعد بیٹے نے پوچھا کہ امی اب میں کیا کروں تو ماں نے کہا کہ بیٹے اللہ نے تیرا رزق بھیج دیا ہوگا تو کمرے کے اندر تلاش کر تجھے مل جائے گا
چنانچہ بچہ مصلیٰ سے اٹھ کر کمرے میں آیا ادھر ادھر دیکھا گرم گرم کھانا پکا ہوا ملا وہ بڑا خوش ہواپھر کھانا کھاتے ہوئے پوچھنے لگا امی روز اللہ تعالی دیتے ہیں
ماں نے کہا ہاں بیٹے روز اللہ تعالی ہی دیتے ہیں اب یہ روز کی عادت بن گئی بچہ مدرسہ سے آتا اور آکر مصلیٰ پر بیٹھ کر دعا مانگتا ماں کھانا تیار کر کے چھپا دیتی اور وہ کھانا بچے کو مل جاتا بچہ کھانا کھا لیتا جب کئی دن گزر گئے ماں نے محسوس کرنا شروع کر دیا کہ بچہ اللہ تعالی کے متعلق زیادہ سوال پوچھنے لگا امی ساری مخلوق کو اللہ تعالی کھانا دیتے ہیں
امی اللہ تعالی کتنے اچھے ہیں امی اللہ تعالی ہر روز کھانا دیتے ہیں اللہ رب العزت کی محبت خوب بیٹھنے لگ گئی ماں بھی بڑی خوش تھی کہ بچے کی تربیت اچھی ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ کئی مہینے ایسے چلتا رہا بلا آخر ایک دن ایسا آیا ماں کو کسی تقریب میں رشتہ داروں کے گھر جانا پڑا بیچاری وقت کا خیال نہ رکھ سکی
جب اسے یاد آیا کہ وقت تو بچے کے واپس آنے کا ہو چکا تھا اور ماں گھبرائی میرا بیٹا مدرسہ سے واپس گھر آیا ہو گا اگر اس کو کھانا نہ ملا تو میری تو ساری محنت ضائع ہوجائے گی اب آنکھوں سے آنسو آگئے اللہ سے فریاد کرتی جارہی ہے
میرے مولا میں نے ایک چھوٹی سی ترکیب بنائی تھی میرے بیٹے کے دل میں تیری محبت بیٹھ جائے اللہ مجھ سے غلطی ہوئی میں وقت کا خیال نہ رکھ سکی کھانا پکا کر نہیں رکھ آئی اللہ میرے بیٹے کا یقین نہ ٹوٹےاللہ میری محنت ضائع نہ کر دینا روتی ہوئی ماں بلا آخر جب گھر پہنچی تو کیا دیکھتی ہے بچہ بستر کے اوپر آ رام کی نیند سویا ہوا ہے
ماں نے غنیمت سمجھا اور جلدی سے کچن میں جا کر کھانا بنا دیا اور پھر اسے کمرے میں چھپا دیا پھر اپنے بیٹے کے پاس آئی آکر اس کے رخسار کا بوسہ لیا بچہ جاگ گیا ماں نے سینے سے لگا لیا میرے بیٹے تمہیں آئے ہوئے دیر ہوگئی ہے تمہیں بہت بھوک لگی ہوگی بہت پیاس لگی ہوگی
بیٹا اٹھو اللہ سے رزق مانگ لو بیٹا ہشاش بشاس اٹھ کر بیٹھ گیا امی مجھے بھوک نہیں لگی پیاس نہیں لگی ماں نے پوچھا بیٹا کیوں بیٹا کہنے لگا امی جب میں مدرسے سے گھر آیا تھا میں نے مصلیٰ بچھا یا اور میں نے ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا مانگی اللہ بھوکا پیاسا ہوں مجھے کھانا دے دیجئے
اللہ آج تو امی گھر پر نہیں ہیں میں نے یہ دعا مانگ کر کمرے میں جاکر دیکھا مجھے کمرے میں ایک روٹی پڑی ہوئی میں نے اسے کھا لیا لیکن امی آج جو مزہ مجھے اس روٹی میں آیا وہ مجھے کبھی بھی نہیں آیا ماں نے بچے کو سینے سے لگا لیا اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ تونے میری لاج رکھ لی اس لئے اس کا نام کاکی پڑھ گیا خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ۔
آپ نے دیکھا جن لوگوں نے اولاد کی صحیح تربیت کی ان کی اولاد علم و عمل کے اعتبار سے عظمت و رفعت کے اعتبار سے اور سیرت و کردار کے اعتبار سے ایسی بلندیوں تک پہنچ گئی کہ آج ان کو دنیا رشک کے ساتھ دیکھتی ہے ماں اگر اچھی ہو گی تو اس کی گود میں پلنے والا بچہ بھی اچھا انسان بنے گا ماں اگر بری ہوگی تو اس کی گود میں پرورش پانے والا بچہ بھی برا انسان بنے گا یہ تو ممکن ہے کہ ایک اچھی ماں کی اولاد بھی برے ماحول سے متاثر ہو کر بری ہوجائے
لیکن بری آغوش میں پل کر کوئی نیک بن جائے ایسا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے نماز سے غافل اور رات کو فلم دیکھ کر سو نے والی ماں کی آغوش سے فلمستان کے ہیرو تو جنم لے سکتے ہیں
ملک و ملت کے لئے سپاہی نہیں پیدا ہوسکتے اس دور میں اصلاح و تربیت والدین کے لئے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں دواؤں کا انتظام کرتے ہیں اصلاح و تربیت کا معاملہ ایسا ہے کہ آج اپنے بچے کی اصلاح کر لیجئے
کل یہ آپ کے لئے دنیاوی اعتبار سے نہیں آخرت کے اعتبار سے باقیات الصالحات بنےگامثالی ماںبابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے جوانی کا واقعہ ہےکہ ان کے زمانے میں یہ بات مشہور ہو گئی تھی تھی کہ یہ جادوگر ہیں کیونکہ اللہ نے آپ کی نظروں میں وہ تاثیر بھی تھی جس کو بھی دیکھتے اور جس پر بھی نظر ڈالتے وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہو جاتا تھا-
دعوت و تبلیغ اور دین کی اشاعت کا کام کرنے کے لیے ہم کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہے اور اتنی محنت کے بعد بھی ہم وہ کام نہیں کر سکتے جو کام حضرت کی ایک نگاہ سے ہوجاتاتھا-
اسی بنا پر پر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف دھلی کی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر ہو گیا حضرت کورٹ میں پیش ہوئے ہوئے جج نے کہا کہ آپ پر یہ الزام ہے کہ آپ جادوگر ہیں جس پر بھی نظر ڈالتے ہیں اس کو اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں یا اس کو اپنا بنا لیتے ہیں اس بارے میں آپ کچھ صفائی دینا چاہتے ہیں تو اپنا بیان درج کروائیں،
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے گردن جھکائے کھڑے تھے جب جج نے اپنی بات مکمل کرلیں تو حضرت نے سر اٹھایااور جج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کچھ کہنا چاہتے تھے کہ جج بھی کلمہ پڑھنے پر مجبور ہوگیا-
حضرت کی کرامت تھی کہ جو کام ہم ہزاروں کی تعداد کو لے کر وقت لگا کر پیسہ خرچ کرکے بڑی محنت کے بعد بھی نہیں کرسکتے اللہ نے وہ کام صرف حضرت کی نگاہوں سے لے لیا، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنی والدہ کے ساتھ دستر خوان پر کھانا کھا رہے تھے
،کھاتے ہوے حضرت نے اپنی والدہ سے کہا کہا ماں تمہیں معلوم بھی ہے ہے کہ باہر میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے میں جدھر بھی جاتا ہوں اور جس کو بھی دیکھتا ہوں وہ سب ایمان کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے یعنی کلمہ پڑھ کےمسلمان ہو جاتے ہیں تو آپ کی والدہ نے یہ سن کر جواب دیا یا کہ بیٹا اس میں کمال تیرا نہیں ہے بلکہ تیری ماں کا ہے،
حضرت نے پوچھا اماں تم تو گھر میں رہتی ہو اس میں تمہارا کیا کمال ؟ آپ کی والدہ نے کہا ہاں بیٹا کچھ راز کی باتیں ہیں کہو ں ؟ اس کے بعد یاد ان کی ماں نے کہا کہ 1) بیٹا جب تم میرے پیٹ میں تھے تو میں گناہوں سے اتنی محتاط رہتی تھی کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے میں ہزار مرتبہ یہ سوچتی تھی اس عمل کا کوئی غلط اثر تو میرے بچے پر نہیں پڑے گا،
2) اور دوسری بات یہ ہے کہ کہ میں نے تمہیں کبھی بھی بغیر وضو کے دودھ نہیں پلایا، جب بھی دودھ پلانا ہوتا تھاتو پہلے میں وضو کرتی پھر دو رکعت نماز پڑھتی پھر دودھ پلاتی،3) تیسری اور آخری بات یہ ہے آج بھی بھی تمہاری اماں کا یہ معمول ہے
رات کو تہجد میں سجدے میں سر رکھ کردعا کرتی ہوں کہ اے اللہ میرے بیٹے کو ایسا ولی کامل بنا کے لوگ اسے صرف دیکھ کر ایمان میں داخل ہوجائیں اسے کچھ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک زمانے میں ایسی بھی مائیں ہوا کرتی تھی جو گود میں کھیلنے و پلنے والے بچے کی
اچھی تعلیم و تربیت کو اپنا مقصد اصلی سمجھا کرتی تھیں، فقر فاقہ و تنگدستی میں بچوں کی ایسی تربیت و پرورش کیا کرتی تھی کہ اپنے بچوں کو ولی کامل بنانے کے لئے ہر طرح قربانی دینے تیار ہوجاتی تھی تب جا کر کے این کی گودوں میں کھیلنے والے پلنے والے بچے آگے چل کر ولی کامل قطب اور ابدال بنا کرتے تھے
،قطب ربانی محبوب سبحانی سید الطائفہ سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا نام آج کون نہیں جانتا حضرت کو اللہ نے جو اتنی بڑی ولایت اور اتنا بڑا مقام عطا کیا ہے اس کے پیچھے بھی ان کی محنتیں مجاہدے اور ریاضتوں سے کہیں بڑھ کر ان کے والد اور والدہ کی محنتیں ہیں حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو ولی کامل بنانے میں بھی ان کے والدین کا بڑا کردار رہا ہے،