سلاطین آصفیہ کے دکن پر بے شمار احسانات

تازہ خبر تلنگانہ
 محبوب علی پاشاہ ‘تعلیم نسواں کے محرک‘ ضلع ‘ تعلقہ وغیرہ میں گرلز اسکولس‘
 شیخ احمد ایاز ایڈوکیٹ کی جانب سے سندبطور ثبوت پیش
حیدرآباد:۔21؍جنوری
(زین نیوزبیورو) 
سلاطین آصفیہ کے دکن پر بے شمار احسانات ہیں جن کی دور اندیشی نے اس مملکت کوفاضل آمدنی والی ریاست میں بدل دیا تھا جس کی اسوقت ملک میں مثال نہیں تھی۔
ان کے تدبر اعلی نے جہاں مذہبی رواداری ‘ آپسی بھائی چارگی کو پروان چڑھایا وہیں وہیں وسیع القلبی نے سماجی انصاف اور رعایا پروری سے مملکت میں ایک ودسرے مذاہب کے احترام کی ایک ایسی فضاء پیدا کی کہ اپنے تو اپنے دوسرے تک اس مذہبی رواداری کی تعریف کرے بغیر نہ رہے سکے کہ مملکت حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب کا عملی گہوارا ہے۔
 دکن کے سلاطین کی تعلیم ‘ طب وصحت‘ صنعت وحرفت ‘ زراعت وآبپاشی‘پراجیکٹس‘ حمل ونقل‘ مذہبی اور صنفی مساواتی اقدامات نے مملکت کی اپنی ایک علحدہ شناخت  بنائی ۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی ہند کے بیشتر تعلیم یافتہ افراد دکن کا رخ کرکے یہیں بود وباش اختیار کرنے کو ترجیح دیتے رہے جس کی کئی ایک مثالیں بھی ہیں۔
 یہ اور بات ہے کہ بعض حاسد اور بغض وعناد رکھنے والے ان کو برا بھلا ء کہنے میں ایک دوسرے سے بازی لیجانے کوشیش کرتے ہیں۔ ان سلاطین کے خلاف ایسے افراد وقائدین بہتان تراشی کرتے ہیں جن کے باپ دادا  میں سے کسی نے کبھی ان سے ملے ہونگے یا کم از کم دور سے ہی سہی انہیں بہ چشم دیکھا ہوگا  ۔
 خیر یہ ایک الگ بات ہے ہمارا اصل موضوع یہ ہے کہ سلطنت آصفیہ کے نظام شیشم نواب میر محبوب علی خاں المعروف محبو ب علی پاشاہ اور نظام ہفتم نواب میر عثمان علی خان بہادر( نظام سرکار‘ عثمان پاشاہ) کے خدمات کوکسی بھی میدان میں فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ محبوب علی پاشاہ نے ہندو مذہب میں ستی (شوہر کی موت پر بیو ی کو اس کے ساتھ زندہ جلانا) رسم کوختم کیا۔ جس سے کئی ہندوبیٹوں کو زندگیاں ملیں۔
 اسی طرح   نظام شیشم نواب میر محبوب علی خان نے اپنے صوبہ میں طب و صحت اور ابتدائی تعلیم کا جال بچھایا۔ ان کی دوراندیشی کی تعریف کیجئے کہ ایک ایسے دور میں جبکہ خواتین کیگھر سے باہر نکلنے کو معیوب سمجھاجاتا تھااورناگزیر حالات میں مسلمان تو مسلمان بلکہ ہندو خواتین تک سر ڈھانکی چہرہ چھپائے نکلتی تھیں
 ان کو مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑاکرنے کیلئے نسوانی مدارس کھولے۔ جنہیںہر ایک ضلع کے حساب سے نہ صرف قائم کیا گیابلکہ اسکول کو گھروں سے آنے جانے کیلئے باضابطہ ٹانگہ یا بیل گاڑی (اس وقت سیکل رکشا تک نہیں تھے)کی سواری کا سرکاری انتظام تھا۔
ان سواریوں کو باضابطہ پردہ سے ڈھانک کرطالبات کو اسکول لایااور چھوڑا جاتا تھا۔ اس کے ثبوت کیلئے جناب شیخ احمد ایاز ‘ ایڈوکیٹ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اپنے ذخیرہ میں سے ایک خاتون کی کامیابی(میمو) کی ایسی سند کا عکس فراہم کیا جو1246فصلی کی ہے یعنی آج سے ٹھیک 137سالہ قدیم ہے ۔
 یہ سند محترمہ خواجہ بیگم بنت محبوب صاحب کی ہے جنہوں نے امتحان تحتانوی منعقدہ 1246فصلی‘درجہ سوم سے مدرسہ تحتانی صوبہ گلشن آباد میدک (مرکز سنگاریڈی) سے کامیابی حاصل کی۔جن کا رجسٹریشن نمبر59تھا۔
جناب شیخ احمد ایاز ایڈوکیٹ نے بتایا کہ انہوں نے بھی اپنے بزرگوں سے سناکہ نظام کے دور میں ہر ضلع مستقر یا پھر کثیر آبادی والے شہروں وقصبوں اور تعلقہ جات میں مدرسہ نسواں ہواکرتے تھے تاکہ مردوں کے برابر خواتین کو بھی حصول  تعلیم  کاموقع ملے ۔یہ سلطنت آصفیہ کے حکمرانوں کی خواہش دیرینہ بھی تھی۔
جناب شیخ احمد ایاز نے مزید کہا کہ آج سے سو سال  پہلے دکن کے فرمانرواوں کی یہ  سوچ تھی تو ان کی دوراندیشی اور صنفی مساوات اور تعلیم کوعام کرنے کے تعلق سے ان کی روشن خیالی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
آج  کے حکمراں سماجی اور جنسی مساوات پر اظہار خیال کرتے ہوئے تعلیم نسواں کو دور جدید کی سوچ قرار دے رہے ہیں جو کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو میر محبوب علی خاں اور نواب میر عثمان علی خاں بہادر  کے ہی مشن کو آگے بڑھارہے ہیں۔
نواب میر محبوب علی خان نے ایسا کرکے  ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں ایک تعلیمی سوچ کو اجا گر کیا جس کے زیر اثروہاں کے راجہ اور مہاراجاؤں کوتعلیم نسواں کے تعلق سے فکری انداز اختیارکرنے پرمجبور ہونا پڑا۔
تعلیم نسواں کے نظام میںایسے نصاب کی تدوین عمل میں لائی گئی جس سے انہیں اپنے پیروں آپ کھڑا ہونے  اور خاندان کی مدد کرنے کاموقع ملے۔
چنانچہ  اس دور میں خواتین کیلئے بطور خاص سوزن کاری‘ کشیدہ کاری‘ آرائش وزیبا‘ قریشہ کاری ودیگر ہنر مندی کے مضامین بھی نصاب نسواں میں شامل تھے ۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سطلنت آصفیہ کے حکمرانوں میں روشن خیالی اور بلند سوچ تھی۔