گاؤ رکھشا دل ‘بجرنگ دل کے کارکنوں پرقتل کا الزام۔ڈرانے دھمکانے کی ویڈیو وائرل۔
میوت:۔30؍جنوری
(زیڈ این ایم ایس)
ہریانہ کے میوات ضلع کے حسین پور گاؤں سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ نوجوان وارث نامی نوجوان کی مشتبہ موت کا معاملہ اب زور پکڑ رہا ہے۔ لواحقین نے دعویٰ کیا کہ‘ ہندوتوا گروپ بجرنگ دل ‘ گاؤ رکھشا دل کے کارکنوں نے ورث کا قتل کیا۔
پولیس معاملے کو چھپانے کے لیے حادثے کا جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔ وارث کی موت سے قبل ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔
جس میں ایک شخص وارث اور اس کے دو ساتھیوں کا نام اور پتہ پوچھتا نظر آتا ہے۔ تینوں نوجوان بہت پریشان ہیں۔ اس کے چہرے پر زخموں کے نشانات بھی نمایاں ہیں اور ویڈیو میں مار پیٹنے کی آوازیں بھی آرہی ہیں۔
وارث کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر بھی انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا جس میں نوجوان کی علاج کے دوران موت ہوگئی۔
हरियाणा के मेवात में बजरंग दल के कार्यकर्ताओं द्वारा गाय के नाम पर पीटे गये मुस्लिम युवक, वारिस (22) की हुई मौत,पुलिस ने मौत की वजह गाड़ी टकराना बताया जबकि परिजनों का कहना है कि "पुलिस बजरंग दल के लोगों को बचाने के लिए हत्या को दुर्घटना बता रही है"https://t.co/LkIjXX14Z5 pic.twitter.com/oA1kPefy4m
— Zakir Ali Tyagi (@ZakirAliTyagi) January 28, 2023
درحقیقت نوح پولیس کے مطابق کھوری کلاں چوکی کے نیچے اتیت کا موڈ کے قریب ٹاٹا ایس ٹیمپو اور سنٹرو کار میں تصادم ہوا۔ نوح کے گاؤں حسین پور کا رہائشی وارث، اکیدہ کا رہائشی شوقین اور رانیکی کا رہائشی نفیس‘ سینٹرو میں سوار تھے۔ سڑک حادثے میں تینوں زخمی ہوگئے۔
جن میں سے وارث سکنہ حسین پور روڈ ایکسیڈنٹ میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے میڈیکل کالج نلہار میں دوران علاج چل بسا۔ تینوں مویشی لا رہے تھے۔ پولیس کی اس تھیوری سے متوفی کے لواحقین مطمئن نہیں ہیں۔
اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ گاؤ رکھشا دل کے ارکان نے تینوں کو مارا پیٹا اور اسی مار پیٹ کی وجہ سے وارث کی موت ہوگئی۔ بعد میں اسے حادثہ دکھانے کی کوشش کی گئی۔
نوح کے میڈیکل کالج میں جمع ہونے والے لواحقین اور دیہاتیوں نے بتایا کہ اس پورے واقعے کی دو عینی شاہدین اور ایک ویڈیو موجود ہے،
جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ورثا کسی حادثے میں نہیں مارا گیا، بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ تاہم نوح پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ یہ یہاں کے ماحول اور امن کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔
ویڈیو بھی منظر عام پر آیا.واضح رہےکہ وارث کی موت بھیواڑی۔تاواڈو روڈ پر ہفتہ کی صبح ہوئی تھی۔ ان کی موت کے بعد ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وارث اور اس کے دو دوست گاڑی میں بیٹھے ہیں۔ ویڈیو بنانے والا شخص ان تینوں سے دھمکی آمیز لہجے میں ان کے گاؤں کا نام اور پتہ پوچھ رہا ہے۔
رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ویڈیو بنانے والا کوئی اور نہیں بلکہ گاؤ رکھشا دل کا رکن ہے۔ وارث اس کی پٹائی کی وجہ سے دم توڑ گیا۔ کچھ لوگوں نے اس ویڈیو کو ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹیگ کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر اسٹیشن کے انچارج ایس ایچ او توڈو اروند کمار نے بتایا کہ یہ معاملہ حادثہ کا ہے۔ سانٹرو گاڑی سے ٹکرانے والے ٹیمپو کے ڈرائیور کا بیان بھی لیا گیا
اس نے بتایا کہ گاڑی نے اس کے ٹیمپو کو ٹکر ماری۔وارث گاڑی چلا رہا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے سینے پر شدید چوٹ آئی اور وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔
