نئی دہلی:۔31/جنوری
(نمائندہ حصوصی)
بی جے پی رکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند نے ایک بار پھر وزیر کے ٹی آر پر سخت تبصرہ کیا۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے دریافت کیا کہ وہ اندور (نظام آباد) کیوں آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ پیلے رنگ کے بورڈ سے بہتر بورڈ لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سماج جانتا ہے کہ کے سی آر ایک دلال ہیں اور میرے والد(ڈی سرنیواس) شریف آدمی ہیں۔
انہوں نے یہ بتانے کا مطالبہ کیا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر نے نظام آباد کوکیا دیا ہے؟ "میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کے سی آر بروکرکا کام کیسے کرتے ہیں۔ کیا ہم نے آپ کی طرح کچھ لوٹا ہے؟
کیا آپ کو تعلیم اور طب کے بارے میں کوئی خیال ہے؟انہوں نے سوال کیا کہ کے سی آر کے الیکشن میں دیئے گئے ڈبل بیڈ روم مکانات اور شوگر فیکٹریوں کی بحالی کے وعدے کا کیا ہوا؟
انہوں نے کہا کہ مکانات خالی ہونے پر پانچ لاکھ دینے کا وعدہ ہوا میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی وعدوں کے علاوہ عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ میں کمیشن کھایا گیا، اس لیے تفصیلی پراجیکٹ رپورٹ نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ڈی پی آر دیں گے تو قومی حیثیت لانے کی ذمہ داری لیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ٹی آر ایس کے ممبران اسمبلی خاتون گورنر کی بیہودہ زبان سے توہین کررہے ہیں؟کیا یہ ٹی آر ایس کا کلچر ہے؟
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی آمد کے بعد کلواکنٹلا کے کنبہ کے افراد کی زندگی میں بہتری آئی لیکن عام لوگوں کی زندگی ابتر ہوگئی۔
یہ یقینی ہے کہ کے ٹی آر اگلے انتخابات میں سرسلہ میں ہاریں گے۔ انہوں ا نے کہا کہ جی ایس ٹی میں ریاست کا حصہ کم کیا جائے اور پھر جی ایس ٹی کی بات کی جائے۔ رکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند نے تبصرہ کیا کہ تلنگانہ میں پٹرول اور ڈیزل کی شرح تمام ریاستوں سے زیادہ ہے۔