بی جے پی لیڈر وکٹوریہ گوری ہائی کورٹ کی جج بن گئیں

تازہ خبر قومی
  تقرری کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست بھی خارج 
سپریم کورٹ کی سماعت کے ساتھ تقریباً ایک ہی وقت میں حلف
نئی دہلی:۔8؍فروری
(زین نیوز ڈیسک)
بی جے پی مہیلا مورچہ کے سابق قومی جنرل سکریٹری ایل۔ وکٹوریہ گوری اب مدراس ہائی کورٹ کی جج بن گئی ہیں۔ انہوں نے ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے درمیان منگل کو حلف لیا۔ ان کی تقرری کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست بھی خارج کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے منگل کو ایڈوکیٹ وکٹوریہ گوری کی مدراس ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر غور کرنے سے انکار کر دیا، جب کہ وکیل نے سپریم کورٹ کی سماعت کے ساتھ تقریباً ایک ہی وقت میں منعقدہ تقریب میں عہدہ کا حلف لیا۔
واضح رہے  کہ4سال قبل مدراس ہائی کورٹ کے 22 وکلاء نے اسلام کو گرین ٹیررقرار دینے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں 3 اہم دلائل دیے گئے تھے۔وکٹوریہ گوری نے مسلمانوں کو سبز دہشت گرد اور عیسائیوں کو سفید دہشت گرد کہا ہے۔ ایسا بیان آئین کے خلاف ہے۔
ایل وکٹوریہ گوری بی جے پی نیشنل مہیلا مورچہ کی جنرل سکریٹری رہ چکی ہیں۔ ایسے میں ان کی تقرری سے عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھیں گے۔جج کا حلف لینے والے کو آئین پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے۔ ان کے بیانات اور عمل سے ایسا نہیں لگتا۔
اس درخواست کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس سنجیو کھنہ نے کہاکہ جو بیانات کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ 2018 کے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ گوری کے نام پر فیصلہ لینے سے پہلے کالجیم نے اس معاملے پر غور کیا ہوگا۔
اسی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس بی آر گوائی نے کہاکہ یں بھی جج بننے سے پہلے سیاسی پس منظر رکھتا تھا۔ میں 20 سال سے جج رہا ہوں اور میرا سیاسی پس منظر میرے کام کی راہ میں کبھی نہیں آیا۔
اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے اس درخواست کو خارج کر دیا۔ویراگ کے مطابق آدھے سے زیادہ معاملات میں حکومت فریق ہے اس لیے حکومت کو عدلیہ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
آئین کے تحت بھی عدلیہ کی آزادی سب سے اہم ہے، اسی لیے آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت کہا گیا ہے کہ عدلیہ اور حکومت کے درمیان فاصلہ ہونا چاہیے۔
ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی حکومت نے عدلیہ میں مداخلت کی۔ اس کی مخالفت میں سپریم کورٹ کے تین سینئر ججوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 39-A کے تحت سب کو یکساں انصاف ملنا ضروری ہے۔
منصفانہ انصاف فراہم کرنے کے لیے ججوں کو آئین کے تیسرے شیڈول کے تحت حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 1973 میں کیسوانند بھارتی میں اپنے تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے تحت عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے بہتر عدالتی انتظامیہ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فریقین سے وابستہ افراد جج بننے کے بعد فریقین کی طرف جھکاؤ رکھنے کے بجائے خود کو آئین کے سامنے جوابدہ بنائیں، تب ہی عام عوام کو حقیقی انصاف ملے گا۔