مجبور شوہر کو بیوی کی نعش کندھے پر اٹھا کر کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑا
پولیس کو خبر ملی، تو ایمبولینس کا بندوبست کیا گیا۔
وشاکھاپٹنم:۔9؍فروری
(زین نیوز ڈیسک)
آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں ایک شخص کو اپنی بیوی کی نعش کندھے پر اٹھا کر کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑا۔ خاتون کی بدھ کو آندھرا پردیش کے ایک ہسپتال سے واپسی کے دوران آٹو رکشا میں موت ہوگئی تھی۔
اس کے بعد رکشہ ڈرائیور نے نعش گھر لے جانے سے انکار کر دیا۔ معاملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس عہدیداروں نےنعش کے لیے ایمبولینس کا بندوبست کیا۔
دراصل، اڈیشہ کے کوراپٹ ضلع میں رہنے والے 35 سالہ سمولو پانگی کی بیوی ایدے گرو کئی دنوں سے بیمار تھیں۔ سمولو نے گرو کو وشاکھاپٹنم کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا۔ کچھ دنوں تک علاج کے بعد جب گرو کو کوئی فائدہ نہیں ہوا تو ڈاکٹروں نے انہیں گھر لے جانے کا مشورہ دیا۔
جب بیوی کی موت ہو گئی تو آٹو ڈرائیور نے اسے راستے میں چھوڑ دیا۔سمولو نے بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو گھر لے جانے کے لیے آٹو رکشہ بک کیا تھا، لیکن گھر واپس آتے وقت اس کی بیوی راستے میں ہی دم توڑ گئی۔
گرو کی موت کے بعد آٹو رکشہ ڈرائیور نے لاش لینے سے انکار کر دیا۔ سمولو نے رکشہ والے سے گزارش کی کہ اسے گھر چھوڑ دے، لیکن وہ نہیں مانا۔ اس کے بعد سمولو اپنی بیوی کی لاش کو کندھے پر رکھ کر پیدل گاؤں کی طرف چل پڑا۔
سمولو کے مطابق ان کا گاؤں ہسپتال سے تقریباً 100 کلومیٹر دور تھا۔ اسی وقت آٹو نے اسے گاؤں سے تقریباً 80 کلومیٹر دورچھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ اپنی بیوی کی میت کو کندھے پر اٹھائے کافی دور تک چلتا رہا۔
پھر آندھرا پردیش کے وجیا نگرم نے سمولو کو لاش کو کندھے پر اٹھاتے ہوئے دیکھا اور پولیس کو اطلاع دی۔ اس کے بعد پولیس نے سمولو کی بیوی کی لاش گھر لے جانے کے لیے ایمبولینس کا بندوبست کیا۔